Topفاسٹ فوڈ کھانے والے بچوں کی صحت کے متعلق ہوش ربا تحقیق

نت نئی  فاسٹ فوڈ زکا استعمال بچوں میں بیماریاں بڑھ رہی ہے خاص طور پر موٹاپے پر  بر وقت قابو نہ پایا جائے تو وہ  ڈیپریشن اور مختلف نفسیاتی اور طبعی امراض کا سبب بنتا ہے جان ہے تو جہان ہے اس کالم  کا مقصد جان اور جہان کو جدیدسائنسی  تحقیقات کی میں  دیکھنا ہے تاکہ ہم اپنی  اس قیمتی جان  کومعمولی نہ سمجھیں موت کا ایک دن مقرر ہے  پھرنیند کیوں رات بھر نہیں آتی یہی تو  حماقت ہے کہ بندہ ہر گھڑی اورہر واقعہ کو  موت سمجھنے لگے آزمائشیں اور مسائل انسان کی زندگی کا حصہ ہیں مگر ان کے سامنے ہمت ہار دینا خودکشی کے مترادف ہے  زندگی کے آخری لمحات تک لڑنا چاہیے بالخصوص بیماریوں کے خلاف جہاد جاری رھنا چاہیے موٹاپے کی شکار خواتین کے بچوں کو عارضہ قلب لاحق ہو سکتا ہے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کا نارمل بچوں سے خون کا دباؤ15 فیصد  زیادہ ہوتا ہے   ۔  ہفتے میں تین برگر کھانے والے بچے دمہ کا شکار :

 

مہرین کا موٹاپے کی شکار خواتین کو مشورہ ہے کہ حمل سے پہلے موٹاپے پر قابو پانے کی کوشش کرے وگرنہ بچے کی صحت متاثر ہونے کا امکان موجود رہتا ہے ایک جدید سائنسی تحقیق کے مطابق برگر کھانے والے بچوں میں موٹاپے اور پیٹ کی بیماریوں کا علاج سانس کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے  جو بچے ہفتے میں تین  یا اس سے زیادہ برگر کھاتے ہیں ان میں دمہ کا خطرہ 64 فیصد بڑھ جاتا ہے ایسے بچوں کو برگر کی جگہ پھلوں کی عادت ڈال کر خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے جرمنی برطانیہ اور سپین کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق پچاس ہزار بچوں کے تجزیے کے بعد بچوں کے برگر کے استعمال اور بچوں کے دمہ کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے ماہرین طب نے کہا ہے کہ برگر میں استعمال ہونے والے غذائی  مواد بچوں کے پھیپھڑوں میں سوزش کا باعث بنتے ہیں جس سے دمہ کی علامات کا آغاز ہوتا ہے پھر پڑھ لو پھر پرو میں سوزش کا باعث بنتے ہیں میں سوزش کا باعث بنتے ہیں جس سے دمہ کی علامات کا آغاز ہوتا ہے 

 

بچوں میں موبائل فون کا استعمال اور دماغ کا کینسر :

تحقیق کے مطابق زیادہ فاسٹ فوڈ اور سوڈا واٹر اور دیگر بازاری کھانوں کے استعمال سے جلد بڑھاپا طاری ہونے کے عمل میں تیزی آجاتی ہے اور بڑھاپے کی بیماریاں قبل از  وقت غالب آجاتی ہیں باہر سے کھانا نہ صرف صحت کی لے مضر ہے  بلکہ ان کےکھانے سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بچوں کی صحت سے متعلق اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بچوں میں موبائل فون کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جدید تحقیق کے مطابق بارہ سال سے کم عمر بچوں کا موبائل فون کا استعمال ان کے جسمانی اور ذہنی نشونما پر اثر انداز ہوتا ہے اس عمر کے بچوں کا جسمانی دفاعی نظام بڑھنے کے عمل میں مصروف ہوتا ہے اس لئے موبائل سے نکلنے والی شعاعیں ان کے لئے خطرناک ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر کے نوجوانوں کو بھی موبائل فون کا کم سے کم استعمال کرنا چاہئے عالمی ادارہ صحت کے تحت جاری کی جانے والی رپوٹ   کے مطابق روزانہ 30 منٹ سے زائد کی موبائل کالز دماغ کے کینسر کا باعث بن سکتی ہے 

 

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author