بعض اوقات ہم جو چیز حاصل کرنا چاہتے ہیں اسکا حصول بہت آسان ہوتا ہے مگر ہمارا یقین اس کے حصول کو مشکل بلکہ ناممکن بنا دیتا ہے۔ کیونکہ ہم سوچتے ہیں کہ ہم کبھی بھی اپنی منزل کو مشقت،تکلیف، اور محنت کے بغیر حاصل نہیں کر سکتے۔
ہمیں ہمارے بچپن سے ایک ہی بات کئی بار سکھائی گئی ہے کہ زندگی آسان نہیں، زندگی پھولوں کی سیج نہیں، زندگی دکھ دیتی ہے، زندگی گرمیوں کی دھوپ کی مانند ہے شدید گرم اور سخت، یہ سب وہ باتیں ہیں جو ہم نے کئی بار ناولز میں پڑھی اور اپنے بڑوں سے سنی اور ہمارے ذہن انہی باتوں میں جکڑے گئے۔ ہم نے زندگی کو خوش ہو کر نہیں گزارا جیسا کہ زندگی کو گزارنے کا حق تھا۔ ہمارے ذہن اسی خیال میں جکڑے گئے کہ جس اللہ نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا اسکی دنیا میں کوئی چیز ہمیں بغیر دکھ جھیلے نہیں مل سکتی
کاش کہ وہ ہمیں سچ بتاتے وہ سچ بتاتے تو وہ ایک بالکل مختلف بات ہوتی اور وہ سچ یہ ہے کہ مہربان رب نے ہمیشہ رحمت ہی کی ہے اور سچ بتاتے تو یوں کہتے کہ زندگی بہت آسان، خوبصورت، اور شاندار چیز ہے۔ معجزے ہوتے رہتے ہیں اور وہ ہماری زندگی میں بھی ہو سکتے ہیں اور یہ کہ پوری دنیا ہم سے محبت کرتی ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں بنا محنت مشقت تکلیف اور آنسو بہائے ملی جیسے صحت خوبصورت چہرہ دولت۔ اگر ہم محسوس کرتے تو کہتے کہ سچ تو یہ ہے کائنات میں مہربان رب نے ہر چیز کی کثرت پیدا کی جیسے سورج کی روشنی چاند کی چاندی امید محبت رشتے ان سب چیزوں کی کثرت ہے۔ آپ جب اس خیال کو سوچتے ہیں وہ پرانا فلسفہ کہ زندگی کس قدر بدصورت ہے آپکے ذہن سے نکلتا جاتا ہے۔ اگر آپ خوشی چاہتے ہیں تو اس نئے خوبصورت خیال کے ساتھ جینا ہوگا۔
اب ذرا اس نئے خیال کو ذہن میں رکھ کر سوچئے کہ اگر بچپن سے ہی آپکو زندگی کو اس طرح دکھایا جاتا تو کیا ہوتا؟
آپ اب تک خوش اور مثبت زندگی گزارتے۔ آپکو ہر کامیابی پر آنکھیں بند کر کے یقین ہوتا۔ آپکو کبھی بھی بیماری سے خوف نہ آتا کبھی ناکام ہونے سے ڈر نہ لگتا۔ آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ آپ مہربان خالق کی تخلیق ہیں لیکن اگر آپکو اس پر ایسا ہی یقین بھی ہوتا تو آپکو یہ بھی یقین ہوتا کہ آپکو کسی بے حد خاص وجہ کیلئے پیدا کیا گیا ہے، آپکے وجود کی اہمیت ہے، کامیابیاں آپکا مقدر ہیں، اور آپ بہترین صلاحیتوں سے لیس ہیں۔
دیکھیے کہ اب زندگی کس قدر اچھی لگ رہی ہے۔ اس احساس نے ہمارے اندر توانائی بھر دی ہے کہ ہم تو دنیا میں ایک مشن لے کر آئے ہیں۔ ہمارے پاس تو کامیابیوں کیلئے بھرپور صلاحیتیں ہیں اور یہ سب قدرت کا تحفہ ہیں۔
مختصر الفاظ میں کہا جائے تو اب آپکو اپنی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہوگا یعنی آپ جو کام کر سکتے ہیں اب اسکو مزید اطمینان اور سکون کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ اگر اس یقین کے ساتھ اپنی منزل کی طرف جائیں گے تو آپکے راستے میں تکلیفیں پریشانیاں آنسو دکھ نہیں آئیں گے بلکہ خوشی اطمینان محبت سکون آئے گا۔
اب تو ہمیں یہ تصور بھی خوش کر دے گا ہم وہ کر رہے ہیں جو ہمیں پسند ہے اب ہم یہ سوچ کر نہیں جئیں گے کہ شاید ہم خوشی کے مستحق نہیں اگر یہ سوچا تو گویا ہم قدرت کے قانون کے خلاف جارہے ہیں۔
اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہم میں تو کامیاب ہونے کی خوبیاں پہلے سے ہی موجود ہیں
کیوں؟ کیونکہ ہم تو اپنی زندگی شروع کرنے سے پہلے ہی یہ سب کچھ تھے
صرف پانچ منٹ کا مضمون پڑھنے جو آپ کے اندر انرجی پیدا ہوئی ہے یقین جانیے کہ یہ آپ کے اندر سے کئی سال کی منفی سوچ نکال سکتی ہے۔ کیونکہ، ایک مثبت سوچ منفی سوچ سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
اب ہم تصور کر سکتے ہیں کہ ہم بھی خوش قسمت ہیں، ہم بھی کامیابیاں پا کر منزلوں تک پہنچ سکتے ہیں، ہم بھی خوش ہو سکتے ہیں، ہمارا بھی وہ نصیب ہو سکتا ہے جو کسی کے پاس پا کر ہم رشک کرتے تھے، دیکھئے منزل کتنی سامنے تھی مگر ہمارے خوف کی وجہ سے وہ نظروں سے اوجھل تھی۔
اب آپکو زندگی کو الگ نظر سے دیکھنا ہو گا تب محسوس ہوگا کہ یہ تو کس قدر خوبصورت تھی۔ اچھی اور مثبت کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
You must be logged in to post a comment.