! اعتماد ایک عظیم چیز ہے
جی ہاں! اعتماد ایک عظیم چیز ہے پر ہم اگر اسکا صحیح مفہوم جانیں ۔ ہم مایوس ہو چکے ہیں اپنے جوانوں بزرگوں اور حکمرانوں سے۔ وجہ؟
وجہ یہ کہ ہم معاشرے میں اکثر لوگوں کو دیکھ کر جو بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں انکا کوئ مستقبل پلان نہیں ہے اور نہ ہی اپنی بچوں کی مستقبل کے بارے میں کوئ سوچ رکھتے ہیں ۔آجکل اگر ہم معاشرے پر نظر ڈالیں تو غربت، بےچینی، ناخواندگی اورمنشیات سر فہرست ہے۔ وجہ کیا ہے؟ کہ ایک والد جس نے خود بھی کوئ تعلیمی ڈگری حاصل نہ کیا ہو اور اسکا اپنے لاڈلے جو کہ سارا دن فضولیات اور کھیلوں میں مگن رہتا ہے پر بھی بھروسہ نہیں کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ بن سکتا ہے کیونکہ وہ انکی کرتوتوں سے با خبر ہے کہ انکا تعلیم و تربیت میں کوئ دلچسپی نہیں ہے ۔ اور نہ ہی کوئ کام کرنے کے قابل ہے ۔ ہم نے اپنے والدین کو مایوس کئے ہیں اپنی ناراستگی سے۔لیکن یہاں پہ ایک بڑا جرم والدین کا بھی ہے، کہ بچوں پر توجہ نہیں دیتے، بچے کی دلچسپی تو والدین کی تربیت اور کوششوں سے ایک چیز میں آتی ہے مگر ہمارے والدین آجکل جدید ٹیکنالوجی کی دور میں اتنے خود غرض بن گئے ہیں کہ بچوں کو وقت ہی نہیں دیتے ، ہاں مگر کھانے پینے، لباس ، وغیرہ کا انتظام صحیح طرح سے کرتے ہیں لیکن جو اصل چیز ہے ان سے اپنے اولاد کو محروم رکھتے ہیں وہ ہے وقت بچہ وقت مانگتا ہے لیکن بدقسمتی سے آجکل ہم اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ پورے دن میں تین چار گھنٹے بھی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے نہیں نکال سکتے کہ ان میں انکی تربیت کی جائے تاکہ وہ معاشرے کے لیے ناسور نہ بن جائے بلکہ ایک مہذب شہری بن کر اپنے ملک و قوم کی خدمت میں اہم کردار ادا کریں ۔
موجودہ حالات اگر ہم دیکھے تو پھر سے الیکشن کے دن قریب آرہے ہے ہر اس شخص نے جس کا اپنے مستقبل میں کامیابی اور شہرت کا سوچ ہو اپلائی کی ہے اور آئے دن لوگوں کے ہجروں میں جا کر سبز باغیں دکھاتے ہیں اور ووٹ کی ڈیمانڈ کرکے چلے جاتے ہیں ۔ فوتگی میں دوست و حباب اور رشتہ داروں سے پہلے فاتحہ میں شرکت کرتے ہیں، لیکن جب الیکشن کے دن گزرجاتے ہیں اور ملک صاحب جیت کر ایم پی اے یا ایم این اے بن جاتا ہے تو پھر اچانک بھوت کی طرح غائب ہو جاتا ہے اور لوگوں کی امیدوں اور توقعات کو خاک میں ملاتا ہیں ۔
وہ کہتے ہیں کہ " جیسے عوام ویسے حکمران" عوام میں شعور و عقل کی فقدان ہے اگر وہ اپنے عقل کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے اور اپنے لئے قابل اور پراعتماد نمائندے منتخب کرتے تو یہ ناکامی اور مایوسی کے دن نا دیکھنے پڑتے ۔
: پاکستان کا بالا خانہ!
میرا پیارا وطن پاکستان۔ جی جی میں اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بات کر رہا ہوں۔ یہ پاکستان بھی نہ کسی بالا خانے یا کھوٹے سا ہے۔ یہاں پہ انصاف کو کسی مجبوریوں میں گھری ہوئی رقاصہ کی طرح نچایا جاتا ہے تو اسی کھوٹے کے کسی پچھلے گُھپ کمرے میں وطن فروشی کا دھندا بھی چلتا رہتا ہے۔ اس کے پڑوسی یہاں ہونے والی نا جائز حرکات پہ نالاں تو رہتے ہیں پر وہ کسی اچھے کی اُمید نہ ہونے کی وجہ سے خاموش ہیں۔ اور اس کھوٹے کی گلی کے نکڑ پہ ایک ملک صاحب رہتے ہیں جو کہ دن رات اس غلیظگی کو بظاہر ختم کرنا چاہتے ہیں پر دراصل ملک صاحب پہ خود بھی اکثر رنگینیوں کے دورے آتے ہیں لیکن یوں سب کے سامنے وہاں جاتے ہوئے ووٹ خاک میں ملتے ہیں تو بس اب ان کے لیے کھوٹے والوے نے "آپ کی بھوک مٹے اب صرف ایک مسڈ کال پہ" کی خصوصی سروس شروع کی ہے جس کے ذریعے نہ ووٹر ناراض نہ ہی ملک صاحب کی اپنے مشاغل سے دوری۔ کیا کہا؟ کچھ نوجوان جوان سنائ پڑ رہا ہے، اُونچا بولو ذرا۔ اچھا اچھا موجودہ نوجوان نسل کا کردار پوچھ رہے ہو۔ تو میاں وہ تو سب کو پتا ہے کے کتنا اہم ہے۔ ہم نوجوان ہی تو ہیں جو کے کھوٹے کے پڑوسیوں کو پھر سے قدم بڑھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ پھر کھوٹے پہ جا کر ناچ دیکھتے ہیں۔ پر زیادہ دیر ناچ گانا اچھا نہیں ہوتا تو بس کچھ ہی دیر بعد اندر کمروں میں جا کے "ہولی" کھیلتے ہیں پھر واپسی پے لڈو کی ایک گوٹی ملک صاحب کے ہاں پہنچا آتے ہیں۔
You must be logged in to post a comment.