مجھے اچھی طرح یاد ہے آج سے ٹھیک 13 سال پہلے میں نویں کلاس کا طالب علم تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا رات کو تراویح پڑھ کر میں اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ گھر کی طرف آرہا تھا ۔اُن کی عمر 42 سال تھی۔ساتھ چلتے ہوئے وہ میرے آگے کے مقام کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کررہا تھا میں جھینپ سا گیا کہ رات کا وقت اور سناٹا اور پھر اس کی یہ حرکت ۔۔۔۔۔آخر کیا معاملہ ہے وہ خود ہی کہنے لگا میرے ساتھ وہ کرو جو ایک مرد اپنے بیوی کے ساتھ کرتا ہے ۔
۔
میں نے کہا مجھے ایسا کچھ کرنا نہیں آتا یہ کہہ کر میں نے اک دم دوڑ لگائ اور بھاگتے گھر پہنچا ۔۔
۔
بعد میں جب وہ ملا تو اُنہوں نے اپنی پوری کہانی سنائی کہ میں جب چھوٹا تھا تب کسی نے میرے ساتھ یہ غلط کام کیا چونکہ میری اُس غلط کام والے سے دوستی تھی تو یوں مجھے یہ بدعادت پڑگئ ۔
۔
اسی طرح آج سے دوسال پہلے میں کراچی کورنگی کراسنگ کی طرف ایک شادی کی تقریب میں شرکت کرنے گیا ہوا ۔تقریب ختم ہوجانے کے بعد رات کافی ہوچکی تھی تقریباً ایک بج چکے تھے اور میں سٹاپ پر کھڑا تھا ۔ایک شخص جسکی عمر تقریباً45 سال تھی, موٹر سائیکل پر آرہا تھا میں نے اُن سے لیفٹ لی اور بیٹھ گیا ۔تھوڑی دیر گزری کہ وہ باربار پیچھے کی طرف سرکے،، وہ بالکل میرے جسم سے متصل ہوا کہنے لگا آپ بھی میری طرف زور لگاؤ۔
۔
میں سمجھ گیا کہ اِس بےچارے کے ساتھ بھی غلط ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ آج تک ذلیل ہورہا ۔میں نے اُن سے کہا گاڑی روکیئے ۔میں نے اتر کر کہا معذرت میں آپ کے ساتھ سفر نہیں کرسکتا ۔۔۔۔۔
۔ پولیس انتظامیہ توجہ فرماۓ ۔۔
پولیس انتظامیہ سے گزارش ہے کہ برائیوں کو روکنا آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے، شہر ہو یا گاؤں، ہوٹل ہو یا کوئی پارک، چبوترہ ہو یا کوئی اور جگہ ۔۔۔۔۔۔۔جہاں جہاں کسی خوبصورت لڑکے کے ساتھ کسی بڑے آدمی کو دیکھیں اُن کو تنبیہ کردیں اُن سے سختی کے ساتھ سوالات کریں ، خوب تفتیش کریں یہ آخر کیوں خوبصورت بچے کے ساتھ چپک کر بیٹھا ہے
معاشرے کے ناسوروں میں سے ایک ناسور چھوکرے بازی یعنی خوبصورت لڑکوں کے ساتھ بدفعلی بھی ہے ۔۔
۔
شہروں اور دیہاتوں میں خبیث الفطرت لوگ خوبصورت ،بےریش لڑکوں کو بہلا پھسلا کر اُن سے دوستیاں کرتے ہیں اور پھر اُن لڑکوں کی نادانی سے فائدہ اٹھا کر اُن کے ساتھ غلط کام کرتے ہیں ۔
۔
لڑکوں کے ساتھ جبراً بدفعلی کے واقعات تو میڈیا اور معاشرے کے سامنے ظاہر ہوجاتے ہیں لیکن رضامندی کے ساتھ بدفعلی والے واقعات بہت کم سامنے آتے ہیں ۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں فریقین کی رضامندی ہوتی ہے اِس لئے یہ واقعات لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں ہوتے ۔۔۔
۔
آج کے یہ خوبصورت لڑکے ہمارے مستقبل کا معمار ہیں ۔
جب کسی لڑکے میں بدفعلی کرانے کی عادت پڑجائے تو اسے تب تک آرام نہیں ملتا جب تک اس کے ساتھ وہ کام نہ کیا جائے ۔
۔
سوچئے! جس لڑکے میں یہ عادت پڑ جائے. اُس کی پوری زندگی تباہ وبرباد ہوجاتی ہے ، اُس کی ساری صلاحتیں ضائع ہوجاتی ہیں۔
یہ گندی دوستیاں ایسے ختم نہیں ہوں گی معاشرے سے اِس ناسور کو ختم کرنے کےلئے اہم اقدامات کی ضرورت ہے ۔اپنی ذمہ داریاں نبھائیے اور خوبصورت لڑکوں کے مستقبل کو بچائیے
You must be logged in to post a comment.