Why Imported Government not accepted ? امپورٹڈ گورنمنٹ کیوں قبول نہیں؟

مپورٹڈ حکومت نے عوام کو ریلیف کا وعدہ کیا تھا کہ ہم تجربہ کار لوگ ملک کو سنبھالیں گے، معیشت کو سنبھال لیں گے، ڈالر کو سنبھال لیں گے، لوڈشیڈنگ ختم کر دینگے، قومی خزانے کو بھر دیں گے وغیرہ وغیرہ، مگر آج حکومت میں آنے کے بعد وہی امپورٹڈ حکومت ہر طرف سے ہوتی تباہی بربادی سے بےفکر ہو کر کرپشن کیسز ختم کرنے، نیب و ایف آئی اے افسران کے تبادلوں و قتل عام، ای سی ایل سے اپنے نام نکلوانے، الیکشن سے پہلے اپنی مرضی کی الیکشن ترامیم کرنے، مرضی کے افسران لگانے میں مصروف ہو چکی ہے باقی معیشت اور مہنگائی اب مسلہ نہیں رہا.

 

الیکشن ترمیم میں سب سے پہلا کام ہی ای وی ایم کا خاتمہ ہے جس سے 90 لاکھ سے زائد اورسیز پاکستان اپنا ووٹ کاسٹ کرنے سے محروم ہو گئے ہیں، وہ پاکستانی جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر باہر ملکوں میں بیٹھ کر بھاری زرِمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں جس سے پاکستانی معیشت چلتی ہے اور ہم ملک چلانے کے قابل ہو پاتے ہیں ورنہ ہم جتنی بھیک آج مانگی پڑ رہی ہے اگر یہ اورسیز پاکستانی وہ پیسہ نہ بھیجتے تو ہمیں باقاعدہ کشکول لیکرایک ملک کے دروازے پر جانا پڑتا کہ ہمیں بھیک دو.

 

بدقسمتی سے ہمیں بیرون ملک بیٹھ کر ہماری معیشت چلانے والے پاکستانیوں کے ڈالرز تو منظور ہیں مگر ملک کے کسی بھی فیصلے کا انہیں اختیار نہیں، نہ ہی انکا ووٹ منظور ہے اور عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انہیں پاکستان کے فیصلے کرنے کا کیا اختیار وہ تو کچھ جانتے ہی نہیں پاکستان کے بارے حالانکہ ان بےغیرتوں کی پوری کابینہ ایک عالمی چور لندن سے کنٹرول کر رہا ہے، ملک کے فیصلے ایک عالمی چور کر رہا ہے، پاکستان کے مسائل کے بارے وہ عالمی چور اور اسکی اولادیں تو جانتی ہیں جو ملک سے اربوں ڈالر لوٹ کر باہر لے گئے، مگر دوسروں ملک میں مقیم وہ عام پاکستانی نہیں جانتے جو باہر سے اربوں ڈالر پاکستان بھیج رہے ہیں.

 

دوستو دوسرے ملکوں کے ان پاکستانی شہریوں کو پاکستان کے فیصلوں کا حق نہیں ہے مگر دوسرے ملک کے حکمران ہمارے آقا ہیں، انکے فیصلوں کے آگے ہمارا سر خم تسلیم ہے، انکے ایک دو ٹکے ملازم کے آگے ہم ڈھیر ہیں، وہ ہماری لائف سپورٹنگ مشین ہیں، وہ ہمارے وینٹیلیٹرز ہیں، وہ ہمارے مائی باپ ہیں وہ بیرونی حکمران جو صرف اور صرف ہماری تباہی چاہتے ہیں اس سے بڑھ کر کچھ نہیں، انہیں پاکستان کے تمام فیصلوں کا اختیار ہے مگر بیرون ملک پاکستانی پاکستان کے بارے کچھ نہیں جانتے انہیں کوئی اختیار نہیں.

 

دستو یہی دوسرے ملک کے پاکستانی شہری ہر سال 30 سے 31 ارب ڈالر بھیجتے ہیں اور آج ہمارے امپورٹڈ حکمران محض 3 سے 6 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ناک رگڑ رہے ہیں، بدترین مہنگائی میں عوام کو پٹرولیم مصنوعات پر دی گئی سبسڈی ختم کرکے قیمت مزید 30 روپے بڑھا دی گئی، بجلی کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، مہنگائی جو پہلے ہی کم نہیں تھا آج تاریخی بلندی پر ہے، اپنی غیرت سے قومی سلامتی تک سب کچھ داؤ پہ لگا بیٹھے ہیں اس سے مسلہ نہیں مگر بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ سے مسلہ ہے.

 

امپورٹڈ حکومت کو نہ ماضی میں کبھی پاکستان کے مفاد سے کچھ لینا دینا تھا اور نہ ہی آج لینا دینا ہے ورنہ کبھی اتنی بیوقوفیاں نہ کی جاتیں کہ اربوں ڈالر بھیجنے والے پاکستانیوں کو نظرانداز کرکے ہم بھاری قرضے لیتے، اپنی سلامتی اور غیرت کا سودا کرتے ہوئے عالمی سامراج کے سامنے لیٹتے، دوست ملکوں سے بھیک مانگتے اور اپنی معیشت برباد کرتے، دراصل امپورٹڈ حکومت کو اس کی پرواہ ہی نہیں انکے اپنے خزانے بھرے ہیں، انکی اپنی اولادیں کھربوں کی مالک ہیں، بیرون ملک محلات کے مالک ہیں انہوں نے یہاں رہنا نہیں تو یہ کیونکر پاکستان کے مسائل کا کوئی مستقل اور بہتر حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے؟

 

امپورٹڈ حکومت کے لیے ماضی میں اور موجودہ دورہِ حکومت میں مسائل کا واحد حل یہی ہے کہ ملکی خود کفالت اور امپورٹ ایکسپورٹ، سرمایہ کاری لانے جیسے مشکل معاملات کو گولی مارو اور عالمی سامراج کے آگے ہاتھ پھیلاؤ بیرونی قرضے لو، اسی قرضے سے عوام کو سبسڈی دو، پھر بھاری ٹیکس لگا کر قومی خزانہ جیب میں ڈالو اور ملک سے رفو چکر ہو جاؤ، پھر ملک جانے عوام جانے، مہنگائی جانے....

 

حقیقت کچھ یوں کہ ہم پاکستانی عوام کبھی ایک نالی، ایک کھمبے، ایک بریانی کی پلیٹ، چاچے، مامے، دوستوں کے چکروں میں ووٹ دے دیتے ہیں، یہاں ووٹر کو خریدنا، دھاندلی کروانا بھی نہایت آسان ہے مگر بیرونِ ملک پاکستانیوں میں ہماری طرح شعور کی کمی نہیں ہے وہ ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں نہ نمائندے بکتے ہیں اور نہ ہی ووٹر بلکہ سارا دارومدار کارکردگی پر ہوتا ہے. 

 

اس لیے نہ تو بیرون ملک پاکستانیوں کو خرید پانا ممکن ہے نہ ہی انہیں دوستی، رشتہ داری جیسے جھانسے میں لانا ممکن ہے، بیرون ممالک میں موجود 90 لاکھ سے زائد پاکستانی کسی بھی جماعت کو الیکشنز میں کلین سویپ کروا سکتے ہیں، اب اورسیز پاکستانیز تو ووٹ نہیں ڈال سکیں گے لیکن دہائیوں پہلے فوت ہوئے افراد ووٹ دینے کا حق حاصل کرچکے ہیں.

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author