Who was ''Bhutto'', Zulfiqar Ali Bhutto

**آغازی زندگی اور تعلیم:**

ذوالفقار علی بھٹو، جنم 5 جنوری 1928 کو لارکانہ، سندھ، پاکستان میں ہوا، صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک وژنری لیڈر تھے جن کا اثر اُس کے عصر سے بہت دور تک محسوس ہوتا رہا۔ ان کی کہانی حکومت کی دفاتر سے شروع ہوتی ہے اور ایک قدرتی انتہا تک پہنچتی ہے، جو پاکستان کے سیاستی منظر نامے کو ہمیشہ کے لئے بدل دیتی ہے۔

**آغازی زندگی اور تعلیم:**

ایک نمایاں سیاستدان کے خاندان سے آئے، بھٹو کو شہرت حاصل ہوئی تھی۔ وہ نے سنڈیگو کی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں آکسفرڈ یونیورسٹی، یونائٹڈ کنگڈم، میں پڑھائی کی۔ ان کی علمی باتچیت واضح تھی۔ مغربی سیاست کی فکریت اور نظریہ کاری نے اُن کی آیندہ کے لئے ایک پروگریسو پاکستان کا وژن تشکیل دیا

**سیاست میں قدم رکھنا:**

ذوالفقار علی بھٹو کا سیاستی سفر 1950ء میں شروع ہوا جب وہ پاکستان کی حکومت میں سول سروس کے افسر بنے۔ ان کی دماغی صلاحیت اور عوام کے لئے شغف نے جلد ہی اُنہیں سیاست کے میدان میں لے آیا۔ وہ پاکستان کے فارن مینسٹر بنے اور بعد میں صرف خود مختلف رائے اور نظریہ کاری کی بنا پر اُن کی رہائی کا راستہ سجاتے رہے۔

**پاکستان پیپلز پارٹی (پیپیپی) کی تشکیل:**

1967ء میں، بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، ایک سیاستی ادارہ جو عوام کے حقوق کا حمایتی بننے کا منصوبہ رکھتا تھا۔ اُن کا ویژن سماجوں کے لئے تبدیلی، اہلیان زمین کی مالکیت کے بنیادی بنیادی اصولوں پر مبنی تھا۔ پیپیپی فوراً مقبولیت حاصل کرنے لگی، خاص طور پر مزدوری کلاس اور کسانوں میں۔

**وزارتی فوجداری اور اصلاحات:**

بھٹو کی حکومت کی مہم مرحلہ آیا جب اُنہوں نے 1970ء میں جب مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی۔ بھٹو نے پاکستان کے پہلے شہری چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بننے کا عہدہ سنبھالا اور بعد میں وزیر اعظم کے عہدے پر حاصل کیا۔ اُن کی حکومت میں دلچسپ اصلاحات ہوئیں، جیسے کہ قومی امور کی ملی معیار کی سرسری، تعلیمی منصوبے، اور مزدور یونینوں کی مستقل بنان۔ اُن کی پالیسیوں کا مقصد غربت کم کرنا  درمیان فاصلے کو کم کرنا تھا

**نیچے گرنا اور وراثت:**

بھٹو کی حکومت میں سیاستی بے قراری اور طغیانی مرحلے میں ڈالا گیا۔ اُن کی خلاف ورزیاں اپوزیشن پارٹیوں اور فوج کے ساتھ منافرت کی طرح اُنہیں اُسٹنگ کرنے لگیں۔ بھٹو کو اُلگھا دیا گیا ایک کو اسپرے کے ذریعے جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں 1977ء میں کودیتی کوٹنے نے برتر کر لیا۔ بھٹو گرفتار ہوگئے اور ایک متنازعہ مقدمے میں موجودہ ہوگئے، جس کے بعد اُنہیں سزائے موت دی گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو کا وراثت گرم ہے۔ ان کے حمایت دار اُنہیں ایک پرجوہان رہنما یاد رکھتے ہیں جو مظلوموں کے حقوق کیلئے لڑتے رہے، جبکہ تنقید کاروں نے اُن کے حکومتی دور میں سیاستدانی سرکاری کی بنیادوں پر اُن کی آئیندہ کاری کو نگرانی سے نگاہ رکھتے ہیں۔ باوجود اُس کے افسوسناک انتہائی، ذوالفقار علی بھٹو کا وراثت باقی ہے، جو دنیا کو قائدی کی مشکلات اور بہتر مستقبل کے لئے ہمیشہ کا مقابلہ یاد دلاتی ہے۔

بھٹو کی یادوں میں جاں چھپائی ہے،  

عوام کے دلوں میں اُن کی تصویر سجائی ہے۔  

وہ لہجے میں بولتے تھے، دلوں میں بس جاتے تھے،  

ذوالفقار کی یادوں میں جاں چھپائی ہے۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

Myself Faisal Saleem is a citizen of Piplan, a city of Pakistan in district Mianwali. I live in a small village named chak no 11m near a small city Hafizwala. I am studying in University of Mianwali and in my 3rd smester of BS software Engineering.