،who is hazzrar hussain .حضرت حسین بن علی ، "یوم عاشورہ"، "کربلا"، "امام حسین"، "شہادت" اور "اسلامی تاریخ"

 

یوم عاشورہ کا دن اسلامی تاریخ کا ایک بہت اہم واقعہ ہے جو مختلف تحریکوں کی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے۔ یہ دن اسلامی روایات کے تحت حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے بڑے بھائی حضرت امام حسن (رضی اللہ عنہ) کی شہادت کے دن کے تھے۔ امام حسین نے اپنے بھائی کی قتل کے عدل و انصاف کیلئے امامت اور خلافت کا دعویٰ نہیں کیا، لیکن وہ انصاف کی مثالوں سے بھرپور انسان تھے۔ انہوں نے حکومت کی انصاف کے خلاف حق میں ہونے کے لئے اپنے زندگی کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔

حضرت حسینؑ، اسلامی تاریخ کے اہم اور اعلیٰ شخصیات میں سے ایک ہیں جو اپنے نہ صرف دین اسلام کے لئے بلکہ انسانیت کے لئے بھی ایک نعمت ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے مقتل کا واقعہ کربلا، انسانیت کی تاریخ کے ایک ایسے باب میں شامل ہے جس نے عظیم عظمت اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی شہادت نے دین اور انسانیت کے لئے نئی روشنی کی بنیاد رکھی، جو زمینی طور پر ان کے پیروکاروں کے دلوں میں زندہ ہے۔

 

حضرت حسینؑ کا زندگی دورہ ایک نیک و صالح پیشوائے دین اور زندگی کا نمونہ تھا۔ ان کا والد حضرت علیٰ ؑ اور والدہ  فاطمہ ؑ انسانیت کے معیار بنے، اور ان کے دادا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے ہاں پالا تھا۔ حضرت حسینؑ کی بچپن سے ہی علم اور تعلیم کی آگاہی تھی، اور انہوں نے اپنی زندگی بھر علم اور حقائق کی تلاش میں مصروفیت ظاہر کی۔

 

ان کی معروف تعلیمی مدرسہ دارالحکمہ تھا، جہاں سے ان کی تعلیمات نے اقوام مختلفہ کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کی تعلیمی کاوشوں کے ساتھ ساتھ، ان کا خصوصی دھیان اخلاق اور انسانی روایات کی پرواہ بھی تھا۔ انہوں نے عدل اور انصاف کے پیغام کو آگاہی سے نوازا، اور محرومی کے باعث متاثر ہوکر، غریبوں اور مظلوموں کی مدد کرنے کے لئے اپنی تمام قوت اور صلاحیتوں کا استعمال کیا۔

 

حضرت حسینؑ کا مقتل کا واقعہ کربلا، اسلامی تاریخ کے ایک بڑے شہادتی واقعے میں سے ایک ہے جو انسانیت کے لئے ایک اہم سبق فراہم کرتا ہے۔ ان کا مقصد صرف دین کے لئے قربانی نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد انسانیت کی حفاظت، انصاف اور حقوق کی پیروی تھی۔

 

یزید کے فسادی راج کے دوران، حضرت حسینؑ کو اسلامی اصولوں کی حفاظت کرنے کے لئے کربلا کا سفر کرنا پڑا، جہاں انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی حضرت عباسؑ اور اپنے اہل و بیت کے ساتھ انصاف کی پیروی کی۔ انہوں نے حق کی راہ پر قائم ہوکر نفسیاتی عزم اور قوت روح کا مظاہرہ کیا۔

 حضرت حسین کی پیدائش 3 یا 4 اکتوبر، 625 یا 626 ایڈ کو مدینہ میں ہوئی تھی۔ ان کے والد حضرت علی (رضی اللہ عنہ) اور والدہ حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) اسلامی تاریخ کے دو سب سے بڑے مقدس شخصیات ہیں۔

 

حضرت حسین کی زندگی کا ابتدائی حصہ خوشیوں اور برکتوں سے بھرا تھا۔ انہیں اپنے جد حضرت رسول اللہ ﷺ کا پیار اور فضل ملتا تھا اور ان کی طرف سے بڑی محبت اور عنایتیں ملتی تھیں۔ لیکن اسلامی تاریخ کے ایک اندازے کے مطابق، حضرت حسین کی زندگی کا سب سے اہم حصہ یوم عاشورہ کے دن ہوا، جب ہر کونے سے تکلیف اور اذیت کا منظر نظر آیا۔

کربلا کے میدان میں، حضرت حسینؑ کے 72 چھوٹے  جوان بھائی اور اہل و بیت نے چمکتے ہوئے مثالی  جذبات اور انسانیت کی بلند مثال فراہم کی۔ انہوں نے موت کو جیت کر دکھایا

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author