جن کے جواب تو بہت ہیں اور لکھنے والوں نے بھی بہت کچھ لکھا ہے لیکن حقیقت کو تلاش کرنا گہرے سمندر سے موتی نکالنے
کے برابر ہے ہاروت و ماروت کے متعلق بنیادی طور پر دو طرح کی روایتیں ملتی ہیں ایک وہ جو قرآن و حدیث اور تابعین کے اقوال میں موجود ہے اور دوسری وہ جو تورات و انجیل اور اسرائیلی روایتوں میں آتی ہے جبکہ اسرائیلی روایتوں کو بیشتر علماء اور مؤرخین نے تائید کی ہے اس ویڈیو میں ہم ان دونوں طرح کی روایت اور واقعات کو مکمل پیش کریں گے کہ آسمان اور زمین کے درمیان سے پردوں کو ہٹا دیا گیا تو فرشتوں نے زمین میں آباد انسانوں کو دیکھ کر تعجب کیا اور بولے یا رب العالمین ہم تو گناہ کے قریب بھی نہیں جاتا جاتے جبکہ یہ بنی آدم گناہوں میں اتنی مبتلا ہیں اگر ہم ان کی جگہ ہوتے تو کبھی تیری نافرمانی نہیں کرتے اور ارشاد فرمایا تمہیں دی جائے تو تم بھی اسی طرح گناہ میں ملوث ہو جاؤ گے لیکن فرشتوں نے کہا ہم ایسا ہرگز نہ کریں گے لہذا اللہ کے حکم سے فرشتوں نے اپنی جماعت میں سے دو بہترین اور اطاعت گزار فرشتوں کو چن لیا جن کا نام ہاروت اور ماروت تھا اللہ نے ان دو فرشتوں میں انسانی فطرت اور شہد ڈال کر دنیا میں بھیجا وہ شہر بابل میں دو خوبصورت انسان بن کر آئے اور قاضی کے کام پر مقرر ہوئے لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا کرتے تھے ان کے پاس ایک عورت اپنا مقدمہ لے کر آئیں تو وہ اس کی خوبصورتی اور حسن سے مرعوب ہو گئے اور اس پر عاشق ہو گئے انہوں نے اس عورت سے زنا کی خواہش کی تو عورت نے ان سے کہا تمہاری یہ خواہش میں بھی پوری کروں گی جب تم بت کی پوجا کروں شراب پیو یا میرے خاوند کو قتل کردو ہاروت و ماروت میں شراب نوشی کو چھوٹا گناہ سمجھ کر لیا اور نشہ کی مستی میں دو اور کبیرہ گناہ کر بیٹھے اس عورت نے ان سے آسمان پر چڑھنے کا عمل بھی سیکھ لیا جس کے ذریعے وہ آسمان پر جاتے تھے جب عورت اس عمل کے ذریعہ آسمان پر گئی تو اللہ کے حکم سے اسے ستارے کی شکل میں مسخ کر دیا گیا کیونکہ اس عورت کا نام زور تھا اس لیے وہ سیارہ ہلایا جیسے آج کرتے ہیں اس گناہ کی وجہ سے ہاروت و ماروت خود کو بھول گئے جسے پڑھ کر وہ آسمان پر جاتے تھے اور بطور سزا انہیں ایک کنویں میں الٹا لٹکا دیا گیا جہاں وہ تا قیامت یونہی قید رہیں گے یہ ایک ایسا کر دیتے ہیں وہی امام سیوطی جیسے علماء اس روایت کو ہاروت و ماروت اور چاہ بابل کے سلسلے میں ایک اور روایت کثرت سے بیان کی جاتی ہے جس کے مطابق ایک زمانہ ایسا تھا جو شہر بابل روئے زمین پر تہذیب و تمدن کا مرکز تھا یہاں کے لوگ باتیں خدا کی پرستش کیا کرتے تھے یہ لوگ اپنی قسمت سے وابستہ سمجھتے تھے اس لئے اور علم فلکیات میں ماہر تھے ان کے بتکدوں میں ستاروں کی پوجا کی جاتی تھی یہ لوگ جادو تنتر منتر بہت اہمیت دیتے ہیں اور اس علم کے ذریعے معاشرے میں خوف فساد پھیلاتے تھے یہ لوگ طلسم جادو تنتر منتر میں بہت آگے بڑھ گئے ان میں بڑے بڑے جادوگر موجود تھے ان کی تاریخ کی کتابوں میں جگہ جگہ جادو اور تنتر منتر نظر آتا ہے ان کا دور دور تک مشہور تھا مختصر یہ کہ اس شہر کا باشندہ ہونا ہی جادوگر ہونے کی علامت تھی جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت آئی تو آپ نے ان لوگوں کو اس شرکیہ عمل سے روکا اور ان کی سحر اور جادو کی کتابوں کو ایک جگہ جمع کر کے اپنی عظیم کرسی کے نیچے دفن کر دیا تاکہ اس فتنہ انگیز علم کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے جب سلیمان علیہ السلام کی وفات ہوئی تو شیطان نے ان کتابوں کو دوبارہ کھود کر نکالا اور لوگوں سے کہا کہ سلیمان پیغمبر نہیں تھا بلکہ ان کتابوں کے ذریعہ حکومت کیا کرتا تھا لہذا ہوا میں اڑنا جنات پر قابو اور سلیمان علیہ السلام کے غیر معمولی معجزات دراصل جادو اور سفلی عمل تھا بنی اسرائیل نے اس کی پیروی کی اور ان کتابوں کو پڑھنا شروع کردیا لہذا دوبارہ شرانگیز الماس قوم میں سرایت کر گئی اللہ نے سلیمان علیہ السلام پر لگائے گئے الزام اور تہمت کی نفی کرتے ہوئے سورہ بقرہ میں فرمایا ہے اور انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت پڑھتے تھے اور سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا لیکن تو نہیں کیا لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس چیز کی بھی جو شہر بابل میں ہاروت و ماروت دوفرشتوں پر اتارا گیا تھا اور وہ کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو صرف آزمائش کے لیے ہیں تو کافر نہ بنا لہذا جب یہ شہر کا علم بابل میں عام ہو گیا اور لوگوں کی تکلیف اور پریشانی کا باعث بن گیا تو اللہ نے دو فرشتوں کو انسانی صورت میں مامور کیا کہ وہ جادو کے عوامل اور اسباب جادوگروں کے فساد اور شر سے محفوظ رہ سکے لیکن یہ تعلیمات غلط مقصد کے لئے بھی استعمال ہو سکتی تھی بلکہ وہ فرشتے لوگوں کو تم بھی کرتے تھے اور ان کے لیے صراحۃً کہتے تھے کہ یہ تمہارے لئے ایک آزمائش ہے لیکن پھر بھی وہ لوگ ایسے کاموں میں پڑ گئے جو انسانوں کے لئے ضرر اور نقصان کا باعث تھا تھا اور عربی لغت دانوں میں اس کا ذکر بھی ملتا ہے جہاں کئی لوگ پہنچے اور ہاروت و ماروت سے ملاقات کرکے جادو کا علم نہیں تھا جبکہ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ عراق کے شہر حلہ کے قریب ایک کھنڈر میں موجود قدیم کنواں ہے جہاں سے بابل کی سرحد شروع ہوتی تھی یہ اس کنویں کو ہی چاہے بابا قرار دیتے ہیں بہرحال اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ سفلی اور جادو ایک شرکیہ عمل ہے مگر یہ کہ اس کا استعمال فساد اور شر پسندی کے خاتمے کے لیے کیا جائے آئے آئے آئے
You must be logged in to post a comment.