گارشیا تنظیم کے ماہر توانائی انرک کا کہنا ہے کہ' توانائی کی بچت کا دوسرا اہم حصہ، جو گھروں میں بجلی کی کھپت کا تقریباً 55 فیصد حصہ ہے، گھریلو برقی آلات اور ان کے استعمال کا طریقہ ہے۔ یہاں یہ بہت ضروری ہے کہ وہ گھریلو برقی آلات خریدے جائے جو کم توانائی استعمال کر کے زیادہ بچت دیں۔'
اگر ہم اپنے گھروں میں بجلی بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اچھے معیار کے گھریلو برقی آلات خرید کر ان کا سمجھداری سے استعمال کرنا ہو گا۔
اگر آپ اپنے گھر کے لیے کوئی نئی فریج، ٹوسٹر یا دیگر برقی آلات خریدنا چاہتے ہیں تو ان کا آلات کا انتخاب کریں جن پر کم توانائی استعمال کرنے والے لیبل A+, A++ یا A+++ درج ہیں۔ اگرچہ یہ خریدتے وقت کچھ مہنگے ہوتے ہیں لیکن دوران استعمال یہ ہمیں سستے پڑتے ہیں۔
تنظیم گارشیا تجویز کرتی ہے کہ 'توانائی کی کھپت کے لحاظ سے، گھروں میں سب سے زیادہ بجلی ریفریجریٹر استعمال کرتا ہے، کیونکہ یہ سب سے زیادہ وقت تک پلگ ان ہوتا ہے۔ یہ گھر کی وہ بجلی سے چلنے والی شے ہے جس میں ہمیں توانائی کی کارکردگی پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کرنی ہوتی ہے۔'
ریفریجریٹر کم بجلی صرف کرتے ہوئے اچھے سے کام کرے اس کے لیے ہمیں درج ذیل ہدایات پر عمل کرنا ہو گا۔
فریج کے اوپری خانے (فریزر) میں برف نہ جمنے پائے۔
اس کے پچھلے حصے کو دیوار سے تھوڑا ہٹا کر رکھیں تاکہ وہاں ہوا کا گزر ہو اور دھول بھی نہ جمے۔
اسے گھر کے ایسے حصے میں رکھیں جہاں براہ راست سورج کی روشنی نہ آتی ہو اور دیگر گرمائش پیدا کرنے والے برقی آلات جیسا کہ چولہا، اوون وغیر اس کے قریب نہ ہوں۔
فریج میں فوری طور پر گرم کھانا نہ رکھیں، اس سے فریج کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور اس کا تھرموسٹیٹ زیادہ کام کرتا ہے۔
فریج میں کھانے پینے کی اشیا کو ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر رکھیں تاکہ ان کے درمیان ٹھنڈی ہوا کا گزر ہو اور وہ کم وقت میں ان چیزوں کو ٹھنڈا اور تروتازہ رکھ سکے۔
اور آخر میں جس ہدایت پر عمل کرنا ہے وہ شائد آپ کو عجیب لگے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے اسے کم سے کم کھولیں تاکہ اس کے اندر کا درجہ حرارت اور ٹھنڈی ہوا برقرار رہے۔
اسی طرح واشنگ مشین اور گیزر کا سمجھداری سے استعمال آپ کے بجلی کے بل کو بہت حد تک کم کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ 40 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کے پانی سے کپڑے دھو سکتے ہیں تو آپ کو 60 ڈگری تک پانی گرم نہیں کرنا چاہیے۔
توانائی ماہر انرک کا کہنا ہے کہ 'میں تجویز کروں گا کہ آپ گھریلو برقی آلات کو ان کے ایکو پروگرامز پر چلائیں۔'
وہ کہتے ہیں ’اسی طرح ڈرائر بھی وہ گھریلو اپلائنس ہے جو بہت زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات اس کے استعمال کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔‘
جہاں تک ڈش واشر کا سوال ہے تو وہ بھی بہت زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے اور اس کا گھروں میں استعمال بھی قدرے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مناسب استعمال کے لیے بنیادی بات یہ ہے کہ آپ اس میں برتنوں کو اچھے انداز میں ترتیب دے کر رکھیں تو اس کے برتن دھونے کے وقت اور بجلی کے استعمال میں آدھے کا فرق پڑ جائے گا۔
بجلی کی بچت
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
اسی طرح مائیکرو ویو اوون یا الیکٹرک اوون کے استعمال میں یہ تجویز کیا جاتا ہے الیکٹرک ہیٹنگ پلیٹس یا اوون وغیرہ کو کھانے کے پکنے کے مقررہ وقت سے کچھ پہلے بند کر دیں۔
اور ان میں موجود تپش و گرمائش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا کھانا مناسب طریقے سے پکنے یا گرم ہونے دیں۔ یہ بھی آپ کو بجلی بچانے میں مدد دے گا۔
مثال کے طور پر اگر آپ کے اوون میں کوئی ایسا کھانا ہے جسے پکنے میں ایک گھنٹہ درکار ہے تو آپ اسے مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے بند کر دیں اور اس میں موجود تپش اور گرمائش پر اسے پکنے دیں۔ اس سے آپ 15 فیصد بجلی بچا سکتے ہیں۔
اسی طرح کھانا گرم کرنے یا پکانے کے لیے مناسب سائز کے برتن کا استعمال کریں تاکہ توانائی اور تپش کا ضیاع نہ ہو۔ اگر برتن بہت بڑے پیندے والا ہو گا تو اسے گرم ہونے میں زیادہ بجلی اور توانائی درکار ہو گی۔
بجلی بچانے اور تپش برقرار رکھنے کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ کھانے بنانے والے برتنوں کو ڈھانپ دیں اس سے وہاں بننے والی بھاپ اور تپش جلد کھانا پکانے میں مدد دے گی۔
یہ بھی پڑھیے
بجلی کی بچت کیسے کی جائے؟ ان سات چیزوں کا خیال رکھیں
اے سی کے بغیر آپ اپنے گھر کو ٹھنڈا کیسے رکھ سکتے ہیں؟
کیا سفید چھتیں درجۂ حرارت کم کر سکتی ہیں؟
اے سی 24 ڈگری پر سیٹ کرنے سے کیا ہو گا؟
بجلی کے فضول استعمال سے بچیں
کیا آپ ان افراد میں سے ہیں جو اپنا ٹی وی ریموٹ کنٹرول سے بند کر کے اٹھ جاتے ہیں اور اس کا سوئچ بند نہیں کرتے۔ ٹی وی پر چلنے والی وہ چھوٹی سی لال بتی بھی بجلی استعمال کرتی ہے، اور یہ تھوڑا تھوڑا کر کے روزانہ کی بنیاد پر آپ کی بجلی کے بل میں اضافہ کر رہی ہے۔
اگر آپ اس کا سوئچ بند کر دیں یا اس کی تار بجلی کے سوئچ سے نکال دیں تو آپ خاطر خواہ بجلی بچا سکتے ہیں۔
ایسا ہی کمپیوٹرز، پرنٹرز اور موبائل فون چارجرز، سٹیریو سسٹمز، وائی فائی رؤئٹرز اور مائیکرو ویوز کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ ہمارے گھروں میں مسلسل سوئچ میں آن رہتے ہیں اور ہمیں سمجھتے ہیں کہ یہ بند ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔
بجلی کی بچت
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
جب آپ کوئی ڈوائس استعمال کرنا بند کر دیں تو اس کو مکمل طور پر تار نکال کر بند کریں۔ اس کو سٹینڈ بائی موڈ پر چلتا نہ چھوڑیں، کم ہی سہی لیکن یہ بجلی استعمال کرتیں ہیں۔
ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ٹی وی جتنے پرانے ہوتے ہیں وہ اتنی ہی زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔
گارشیا کا کہنا ہے کہ 'ایسی خاطر خواہ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔' تنظیم کا کہنا ہے کہ 'ایک اندازے کے مطابق اس طرح سے ایک گھر اوسطاً سالانہ سات سے دس فیصد بجلی خرچ کرتا ہے۔'
بجلی کے روایتی بلب تبدیل کرنا
گھروں میں لگے روایتی بجلی کے بلب زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں ، لہذا انھیں نئے اور کم بجلی استعمال کرنے والے بلبوں سے تبدیل کرنا چاہیے۔
روایتی بلبوں کے مقابلے میں ہیلوجن بلب یا ایل ای ڈی بلب 25 سے 80 فیصد کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور تین گنا سے 25 گنا زیادہ چلتے ہیں۔
اگرچہ یہ خریدنے میں کچھ مہنگے ہیں لیکن طویل مدت میں وہ آپ کے لیے بجلی کے خاطر خواہ بچت کر کے منافع بخش ہو سکتے ہیں۔
باتھ ٹب کی جگہ شاور میں نہائیں
نہانا
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
نہانا کسے پسند نہیں ہے۔ گرمی میں باہر کی لو سے نجات اور سردیوں میں گرما گرم پانی سے جسم کی تھکان دور کرنا کون نہیں چاہے گا مگر اگر بجلی بچانی ہے تو لمبے وقت کے لیے باتھ روم ٹب میں نہانے کی بجائے شاور لینا ہے، اور اپنے باتھ روم میں شاور لگاوائیں تاکہ پانی کی بچت ہو سکے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پانچ منٹ شاور کے نیچے رہنا باتھ ٹب میں نہانے سے استعمال ہونے والی پانی کا تیسرا حصہ استعمال کرتا ہے۔
ظاہر ہے کم پانی استعمال ہوگا تو گیزر پانی گرم کرنے میں کم بجلی استعمال کرے گا اور اس سے بجلی کا بل بھی کم آئے گا۔
اپنے باتھ روم کی ٹوٹیوں کو ٹھنڈے پانی کی طرف رکھیں۔ یہ معمولی سے عادت آپ کو گرم پانی اور بجلی بچانے میں بہت مدد دے گا کیونکہ اگر کوئی بھی ہاتھ دھونے یا کسی معمولی چیز کے لیے نل کھولے گا تو گرم پانی کی بچت ہو گی اور گیزر کو کم کام کرنا پڑے گا جس سے بجلی بھی بچے گی۔
آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور ہو گا کہ ان تمام ہدایات پر عمل کر کے آپ کتنی بچت کر سکتے ہیں؟
گارشیا کے توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ 'ہمارے اندازے کے مطابق ان تمام ہدایات پر عمل کر کے آپ اپنے بجلی کے بل میں 30 فیصد تک بچت کر سکتے ہیں۔'
You must be logged in to post a comment.