ماضی میں جب بھی ملک میں سیاسی حکومت کسی بحران کی زد میں آتی ہے تو ایک خاص طبقہ اس کا قصوروار پارلیمانی نظام حکومت اور مافیاز کو قرار دیتا ہے۔
تاہم پھر منتخب نمائندے پارلیمانی نظام کی حمایت میں سامنے آ جاتے ہیں، اور یہ بحث چلتے چلتے خود ہی کچھ عرصے بعد دم توڑ دیتی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کئی مرتبہ یہ اشارہ کر چکے ہیں کہ وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ نظام کی وجہ سے وہ کر نہیں پاتے۔
پاکستان میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے متعلق ایک مرتبہ پھر سے بحث میں تیزی آ گئی ہے۔
پاکستان میں ہمیشہ کچھ سال بعد تاریخ اپنے آپ کو دہرانے لگتی ہے۔
اب کب کہا جائے گا۔
’الیکشن سے کچھ دیر پہلے، خاص طور پر اگر کارکردگی اچھی نہ ہو تو، جو عموماً نہیں ہوتی، اس قسم کی گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔
ایسی گفتگو یوں ہی نہیں شروع ہوتی بلکہ ’خاص قوتوں کی شہہ پر اس کا آغاز ہوتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کا دھیان بٹانا ہوتا ہے کہ اس مرتبہ بھی جو ہم کچھ کر نہیں پائے اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمانی نظام خراب ہے۔
صدارتی نظام لانے کی بحث بہت پرانی ہے اور پاکستان بننے کے کچھ ہی سال بعد شروع ہو گئی تھی۔
صدارتی نظام کی بحث ’1950 کی دہائی سے چل رہی ہے۔
جب پہلا آئین بنا تھا اس وقت بھی یہ بحث تھی، پھر جب ایوب خان نے ملک میں صدارتی نظام متعارف کروایا تو اس سے پہلے انھوں نے ایک آئینی کمیشن بنایا تھا، اس کمیشن میں پارلیمانی نظام کا بہت مظبوط تنقیدی جائزہ موجود ہے، جس میں صدارتی نظام کا جواز پیش کیا گیا ہے۔
صدارتی نظام پر اتفاق رائے کے سٹیک ہولڈرز کون
اتفاق رائے کے لیے ’سٹیک ہولڈرز میں سیاسی جماعتیں، عدلیہ، فوج، سول بیوروکریسی۔۔۔۔ اور ہاں عوام بھی۔ ان کی رائے ریفرنڈم یا انتخاب کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اب کی بار بھی کچھ ایسا ہونے والا ہے البتہ اب کی بار صدارتی نظام کے نام کے پیچھے اسلامی لگا کر اسلامی صدارتی نظام رکھ دیا جاے گا۔
ایمرجنسی یا ریفرنڈم کے ذریعے جلد ہی ان مقاصد کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔
کیا یہ وہی پیشرفت ہے جس کا خواب آپ نے دیکھا ہے؟
ذرائع ابلاغ میں جو لوگ اس موضوع پر بات کر رہے ہیں،
صدارتی نظام کے حق میں دیے جانے والے دلائل
ایسے ہی خیالات ہیں جو اب وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کے لیے ہمدردی رکھنے والے افراد کی طرف سے سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔
اس سلسلے میں پارلیمانی نظام کے خلاف اور صدارتی نظام کے حق میں جو دلائل سامنے آئے ہیں، ذیل میں نکات کی صورت میں ان کا احاطہ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں دوہرا نظام کام کر رہا ہے۔
صدر کا منصب بھی موجود ہے اور وزیر اعظم کا بھی۔
اس سے اخراجات غیر معمولی طور پر زیادہ ہو جاتے ہیں۔
ایوب خان کو بھی یہی گلہ تھا
اسی طرح صوبائی اسمبلیاں موجود ہیں، یہ اخراجات میں اضافے کا باعث ہیں۔
آئین میں ترمیم کر کے موجودہ ڈویژنوں کو انتظامی یونٹ بنا کر صوبائی اسمبلیوں کے خلا کو پر کیا جائے گا۔
ان انتظامی حکومتوں میں شہری حکومتیں کام کریں گے۔ ترقیاتی عمل ان ہی حکومتوں کے سپرد کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کے اختیارات محدود ہیں۔
محض کسی افسر کے تقرر کے سلسلے میں بھی انھیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عدالتوں کی طرف سے بھی انھیں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
معیشت سنبھل نہیں رہی ہے، اس لیے ملک کو
یہ تمام چیلنجز امریکہ اور ترکی وغیرہ کی طرح صدارتی نظام کا تقاضا کرتے ہیں۔
پارلیمان دو ایوانی ہو گی جس میں سینیٹ کو مضبوط بنا کر صوبوں میں شراکت کا احساس پیدا کیا جائے گا۔
حکومت کے ہمدرد حلقوں کی طرف سے اس سلسلے میں جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں ۔
وہ کافی طویل ہیں۔
البتہ یہ نکات ان تجاویز کا احاطہ کرتے ہیں۔
اخبارات میں شائع ہونے والے وزیر اعظم عمران خان کے مضمون کا ان نکات کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو ان میں فکری یکجائی دکھائی دیتی ہے۔
حکومت کے ایوانوں اور تحریک انصاف کے مؤثر حلقوں میں اس سلسلے میں گذشتہ ایک ڈیڑھ برس سے اس سلسلے میں سوچ بچار ہوتی رہی ہے۔
حالیہ چند واقعات کے بعد اس سلسلے میں تیزی آئی۔
اس معاملے میں ابتدائی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔
کیا پی ٹی آئی حکومت پارلیمانی نظام ختم کرنے میں سنجیدہ ہے۔
کیا یہ حکومت واقعی پارلیمانی نظام کا خاتمہ کر کے صدارتی نظام کے نفاذ میں سنجیدہ ہے تو کچھ اشارے ملتے ہیں کہ یہ حکومت اس سلسلے میں صرف سنجیدہ ہی نہیں کسی قدر بے چین بھی ہے۔
پاکستان کے مسائل اور صدارتی نظام
ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں رکاوٹ محسوس کرنے والے وزیر اعظم عمران خان پارلیمانی نظام حکومت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اس سوال کا کوئی جواب ابھی تک ان کی اپنی زبان سے تو سامنے نہیں آیا البتہ کچھ اشارےواضح ہیں ۔
انہوں نے کہا میں اقتدار سے نیچے اترا تو زیادہ خطرناک ہو جاوں گا یہ بات اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ اگر حکومت ختم کرنے کی کوشش کی گیئ تو وہ پورا نظام لپیٹ دیں گے۔
اپنے مذہبی تصورات کے فروغ یا اخلاقی اقدار کے احیا کے لیے انھوں نے جو رحمۃ اللعالمین اتھارٹی قائم کی ہے، اس کی قیادت ذمہ داری بھی ان ہی کے سپرد کی گئی ہے۔
عمومی خیال یہی ہے کہ ان دنوں ہنگامی حالات کے نفاذ، ریفرنڈم کے راستے صدارتی نظام تک پہنچنے کی جو بات ہو رہی ہے، اس کے پسِ پشت ان ہی کا ذہن کام کر رہا ہے۔
بعض اوقات الفاظ بھی پلٹ کر آتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم عمران خان کا ایک مضمون اخبارات میں شائع ہوا۔ یوں، اس مضمون کے بہت سے پہلو اور خاص طور اس میں استعمال ہونے والی اصطلاحات قابل بحث ہیں لیکن بعض تصورات ایسے ہیں جو کم از کم 60 برس پہلے کے واقعات کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
نہ صرف واقعات بلکہ الفاظ تک میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ مضمون 'روحِ ریاست مدینہ: پاکستانی معاشرے کی تشکیل نو' کے عنوان سے اخبارات میں شائع ہوا ہے۔
مضمون کا ایک جملہ ہے:
'پاکستان کو جو چیلنج درپیش ہیں، ان میں فوری توجہ کا مستحق قانون کے احترام کا چیلنج ہے۔
ہمیں اس کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔
’ہماری 75 سالہ تاریخ اس کلچر کی اسیر رہی ہے جس میں مکار سیاستدان اور مافیا اس کے عادی ہو گئے ہیں کہ وہ قانون سے بالاتر رہ کر اس کرپٹ سسٹم کی مدد سے حاصل کردہ اپنی سہولتوں اور مراعات کو محفوظ بنا سکیں۔
عمران خان کا اپنے ہمساے دوست ملک ترقی سے کہرے دوستانہ تعلقات بھی ہیں اور وہ زیادہ تر چین ترقی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہیں
ترکی ہی ایک ایسا ملک ہے جو پارلیمانی اور صدارتی نظام کو ملا جلا کے تجربے کرتا رہا ہے اور کیونکہ اس کا تعلق خلافت کے دور سے بھی ہے اس لیے پاکستان میں سیاسی نظام کی ایک مرتبہ پھر اٹھنے والی بحث میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
ترکی میں تین مارچ 1924 کو خلافتِ عثمانیہ کا اختتام ہوا اور 29 اکتوبر کو ریپبلک آف ترکی وجود میں آئی جس کے پہلے صدر مصطفیٰ کمال اتا ترک بنے۔ سنہ 1982 میں ایک آئینی ریفرنڈم کے بعد وہاں ایک نیا آئین متعارف کروایا گیا۔
اس کے بعد 2017 میں مزید آئینی ترامیم کی گئیں جس کے بعد وزیرِ اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور صدر کو ہی ریاست اور حکومت کا سربراہ بنا دیا گیا اور اس طرح ترکی ایک پارلیمانی سے صدارتی نظام والی ریاست بن گیا۔
موجودہ صدر رجب طیب اردگان وزیرِ اعظم بھی رہے اور اب مضبوط صدر بھی ہیں۔
تاہم دنیا کے مختلف ممالک کے سیاسی نظاموں کو دیکھتے ہوئے ترکی ایک مکمل ’ہائبرڈ ریاست‘ کی بہترین مثال لگتی ہے۔
ہمارے ہمسایہ قریبی ممالک میں بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی ایسے تجربے کیے ہیں
پاکستان میں بھی صدارتی نظام حکومت رائج کرنے کا مطالبہ سامنے آتا رہتا ہے۔
ایک آدھ بار اس کا تجربہ بھی کیا گیا لیکن زیادہ تر صدارتی نظام کی خواہش آمرانہ حکومتوں سے مارشل لا کی صورت میں ہی پوری کی گئی۔
اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ دبے دبے یا پھر پھر کبھی کھلے الفاظ میں برسرِ اقتدار جمہوری حکومت کی طرف سے بھی نظام کی تبدیلی کے اس مطالبے کی بازگشت سنائی دی گئی ہے۔
اگر اٹھارویں ترمیم کی بات کریں تو
2007میں بلاول بھٹو زرداری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے الفاظ دھراے تھے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے یہ الفاظ اٹھارویں ترمیم کے حق میں اس لیے دھراے گے تھے کہ یہ ترمیم صدارتی نظام کے خلاف مضبوط ہتھیار استعمال کیا گیا تھا
پاکستانی آئین میں اٹھارویں ترمیم 8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی پاکستان نے پاس کی۔ اس وقت آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے۔اٹھارویں ترمیم پاکستان کی تاریخ کا اک روشن باب ہے۔ اٹھارویں ترمیم نے صدر کے پاس موجود تمام ایکزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دے دیے، چونکہ وزیر اعظم قائدِ ایوان (Leader of the House) ہوتا ہے لہذا زیادہ اختیارات وزیر اعظم کے پاس بھی آئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی مغربی سرحد صوبے کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا گیا۔ وفاق سے زیادہ تر اختیارات لے کر صوبوں کو دیے گئے۔
پاکستانی آئین میں اٹھارویں ترمیم 8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی پاکستان نے پاس کی۔ اس وقت آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے۔اٹھارویں ترمیم پاکستان کی تاریخ کا اک روشن باب ہے۔ اٹھارویں ترمیم نے صدر کے پاس موجود تمام ایکزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دے دیے، چونکہ وزیر اعظم قائدِ ایوان (Leader of the House) ہوتا ہے لہذا زیادہ اختیارات وزیر اعظم کے پاس بھی آئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی مغربی سرحد صوبے کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا گیا۔ وفاق سے زیادہ تر اختیارات لے کر صوبوں کو دیے گئے۔
پاکستانی اہین میں اٹھارویں ترمیم اٹھ اپریل 2010کو قومی اسمبلی پاکستان نے پاس کی اس وقت اصف علی زرداری صدر تھے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سے پارلیمانی نظام کوصدارتی نظام میں تبدیل کرنے کے لئے آوازیں اٹھتی رہتی ہیں،کیا موجودہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرکے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کا اختیار رکھتی ہے؟
اگر موجودہ پارلیمنٹ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے اور اس پر کچھ عدالتی پابندیاں عائد ہیں تو پھر صدارتی نظام کے نفاذ کے لئے کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں؟عدالتی پابندیوں کے باوجود آئین میں ترمیم کرکے صدارتی نظام نافذ کیا جاسکتاہے لیکن کیسے؟
پاکستان کے موجودہ آئین کے تحت یہاں پارلیمانی نظام قائم ہے،بظاہر پارلیمنٹ کو آئین میں ہرطرح کی ترمیم کا اختیار حاصل ہے اس کے باجود کچھ امور ایسے ہیں جنہیں سپریم کورٹ بنیادی آئینی ڈھانچے میں شامل کرچکی ہے۔
اور ان کی بابت پارلیمنٹ آئینی ترمیم نہیں کرسکتی،یہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہے اوراس کا تصور کہاں سے آیا؟
بنیادی آئینی ڈھانچے کااصول 1949ء میں فیڈرل ریپبلک آف جرمنی کی پارلیمنٹری کونسل نے وضع کیا تھا۔
،جرمنی میں دوتہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم ہوسکتی ہے لیکن پارلیمنٹری کونسل نے دستور کے دو آرٹیکلزکو بنیادی آئینی ڈھانچہ قراردیتے ہوئے کہا کہ آئندہ آنے والی کوئی بھی مقننہ اور پارلیمنٹ ان میں ترمیم نہیں کرسکتی،
ان میں جرمن آئین کا آرٹیکل 1اورآرٹیکل 20شامل ہیں،
آرٹیکل 1انسانی وقار اور شرف آدمیت کو ریاستی تحفظ دینے سے متعلق ہے جبکہ دوسرا آرٹیکل 20 وفاقیت اور جمہوریت کے بارے میں ہے، یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ کوئی بھی مقننہ یا پارلیمنٹ (ماسوائے آئین ساز اسمبلی) آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ترمیم نہیں کرسکتی۔
You must be logged in to post a comment.