• *غریب کی لڑکی*
ایک دوست کہنے لگا کہ میرا رشتہ ہوگیا ہے مگر میں نے وہ رشتہ توڑ دیا ہے ۔
میں نے پوچھا کہ کیوں توڑا رشتہ ؟
کہنے لگا کہ میرے ابو رمضان میں بیمار ہوے تھے تو میرے سسرال والے عیادت کے لیے آۓ تھے مگر کچھ لاۓ نہیں نہ پھل نہ ہی کوئی روپیہ پیسہ دے کر گۓ
میرے باپ نے کہا کہ آج یہ لوگ ایسے ہیں تو کل کیا کریں گے مطلب نہ عیدی نہ شب بارات دن گے اس لئے میں نے رشتہ ہی توڑ دیا
مگر میں نے کہا کہ یار یہ بتاٶ کہ اس لڑکی کے گھر والوں کے حالات کیسے تھے
کہنے لگا کہ بہت غریب لوگ ہیں کام کاج کرتے ہیں تو دو ٹایم کی روٹی با مشکل کھاتے ہیں
میں نے کہا کہ میرے بھائی جب آپ ان کی غربت کے بارے میں سب جانتے ہیں ۔
تو کیا آپ یہ جانتے ہیں جس سے رشتہ توڑا ہے ان ماں باپ پہ کیا گزری ہوگی ؟
اس بیچاری لڑکی پہ کیا گزری ہوگی کہ مجھے غربت کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا ۔
یار میرے ابو کہتے ہیں کہ اب رشتہ امیر گھرانے میں کرواؤں گا جو جہیز ، شب برات عید سب دے سکیں جو تمہیں کاروبار سیٹ کروا سکیں
میں مسکرایا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ تمہارے ابو کہتے ہیں یا تمہارا دل کہتا ہے
جاؤ یار جو اپنے زور بازو پر یقین نہ کر سکے وہ دوست تو کیا انسان کہلانے کے لائق بھی نہیں
آج اگر بیٹی والوں کا رشتہ ٹوٹ جاۓ تو لوگ کس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ شاید ان کی بیٹی میں کوئی خامی ہے
اگر بیٹے والوں کا رشتہ ٹوٹ جاۓ تو وہ فخر سے کہتا ہے یار مجھے پسند نہیں تھی میں چھوڑ دیا
خدارا بیٹی والوں پے ایسا ظلم نہ کریں میرے پوسٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو لڑکے ابھی جوان ہیں وہ کبھی بھی کسی لڑکی کو اس کی غربت پہ نہ چھوڑین نہ اس کے جزبات سے کھیلیں
یہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ہمیں دنیا میں لائی اور یہ عورت ہی وہ ہستی ہے جس کے قدموں سے ہمیں جنت ملے گی بس روپ بدل لیتی ہے ماں کا بیوی کا بہن کا مگر ہوتی تو عورت ہی ہے
*صلی اللہ علیہ والہ وسلم*
*رات سوتے وقت والدین کے*
*قدم بُوسہ کی ترکیب فرماٸیں*
*عقل مند وزیر*
ایک بادشاہ کا وزیر بہت ہی عقلمند تھا۔ اس کی زہانت کی وجہ سے بادشاہ بھی اسے بہت پسند کرتا تھا۔لیکن ایک دفعہ وزیر سے ایک غلطی ہوگئی۔ بادشاہ کو اس کی غلطی کا علم ہوا تو بادشاہ نے اس کی ساری جائیداد ضبط کر لی اور اسے قید خانے میں ڈال دیا۔ اس مصیبت میں وزیر کی وہ نیکیاں کام آئیں جو وہ اقتدار کے زمانے میں کرتا تھا۔ اقتدار کے زمانے میں وہ ہر ایک کی مدد کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب اس پر مصیبت پڑی تو سب نے اس کی بہت مدد کی۔ اس دوران جب وزیر قید میں تھا تو پڑوسی ملک کے بادشاہ نے وزیر کو ایک خط بھیجا اور لکھا کہ ہمیں بہت افسوس ہے کہ تمہارے بادشاہ نے تمہاری وفاداری اور ایمانداری کے بدلے تمہیں قید میں ڈال دیا ہے اگر تم چاہو تو ہم تمہاری مدد کر سکتے ہیں۔ تمہیں قید سے نکال کر اپنی ریاست میں اعلیٰ عہدہ دیں گے۔ وزیر نے خط پڑھ کر خط کی پشت پر جواب کچھ یوں لکھا۔" میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے یاد رکھا،لیکن میں آپکی بات نہیں مان سکتا اگرچہ مجھ پر مصیبت آن پڑی ہے،لیکن یہ جلد ہی ختم ہو جائے گی ۔اس مصیبت میں،میں آپ کی بات مان کر اپنے ملک اور اپنے بادشاہ سے غداری نہیں کر سکتا"۔
قاصد یہ خط لے کر اپنے ملک کی طرف روانہ ہو گیا۔ اتفاق سے اس سارے واقعے کی خبر ایک ایسے شخص کو ہوگی جو وزیر کا دشمن تھا۔ اس نے سوچا کہ بادشاہ کو یہ بات بتا کر وزیر کو سخت سزا دلواؤں۔ اس نے بادشاہ کو ساری بات بتا دی کہ وزیر پڑوسی ملک کے بادشاہ کے ساتھ ملا ہوا ہے اور آپ کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ بادشاہ نے سوچا کہ اگر یہ بات سچ نکلی تو وہ وزیر کو سزائے موت دے گا۔ بادشاہ کا سید کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ قصید گرفتار ہو گیا بادشاہ نے اسے خط لے کر پڑھا تو اسے وزیر کی وفاداری کا یقین ہوگیا۔
بادشاہ نے وزیر کو معاف کر دیا اور اسے دوبارہ اس کے عہدے پر فائز کر دیا۔ اب بادشاہ بھی اپنی غلطی پر نادم تھا کہ اس نے وظیفہ پر بے بنیاد الزام عائد کرکے سزا دی تھی اور ایک بار بھی اس کی بات سننے کی کوشش نہ کی۔ جب کہ بادشاہ نے اپنی غلطی کی تلافی کرنے کی کوشش کی تو وزیر نے کہا۔ بادشاہ سلامت! ہم اکثر غلطیاں کرتے ہیں اپنی غلطی کو مان لینا اور اس کو دوبارہ نہ دہرانہ ہی ذہانت ہے میں نے ایک غلطی کی تھی میں اس پر شرمندہ بھی تھا۔ لیکن میں نے اپنی غلطی تسلیم کرنے میں دیر کر دی یہی بات میری سزا اور آپ کی ناراضگی کا سبب بنی۔
بہرحال نادم ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسا ہونا میری تقدیر میں لکھا تھا۔
ہم اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات سے ہی تو سیکھتے ہیں۔"
اس طرح وزیر نے ایک مرتبہ پھر اپنی ایمانداری اور زیادہ سے اپنا عہدہ حاصل کرلیا۔
*کیا آج آپنے درودِ پاک پڑھا؟*
*صلی اللہ علیہ والہ وسلم*
You must be logged in to post a comment.