ٰکب یوم محبت
ابحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہمیں الله کے آخری نبی صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت ہو جب تک میں اسے اس کے باپ بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں وجہ تخلیق کائنات آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم ہیں. گل و گلزار آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے رخ انور کا پرتو ہیں. خوش بو کا مرکز آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی ذات پاک ہے آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا وجود کن ہے اور آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا ظہور فیکون محبت الله کی بہترین صفات میں سے ایک ہے. محبتوں کے تمام حقیقی جذبے الله کے آخری نبی صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی تخلیق سے وابستہ و پیوستہ ہیں یوں تو امت مسلم کے لیے ہر روز محبت کا روز ہے. مگر آج کا دن سبھی کو یاد رہتا ہے آج کے دن اپنے پیاروں سے اظہار محبت کیا جاتا ہے ایسا آج ہی یعنی ویلنٹائن ڈے 14 فروری کو کیوں کیا جاتا ہے میری کم علمی کہیں یا بدبختی مگر مجھے علم نہی 14 فروری محبت کا دن ، آج بھی مجھے میرے پیارے بہت یاد آ رہے ہیں. اشکوں کی ایک تیز لہر آنکھوں کے کناروں سے ٹکراتی ہیں نمکین گولا ہلک میں اٹک جاتا ہے مگر یہ مقام ضبط ہے رونا چاہتا ہوں اپنی کم نصیبی کا ماتم کرنا چاہتا ہوں،. چلا کر یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں محبت کرتا ہوں ہوا کے پائوں پڑوں کہ حال زار جا کہے میرا میرے پیاروں سے جا کہے ان سے کہ روتا ہوں، تڑپتا ہوں ہجر کی ایک رات بھاری ہے نہ نیند نینا ہے نہ انگ چینا ہے ہجر کا ایک دن بھاری ہے محبت ایک لازوال دولت ہے، ایک نازک سی حقیقت ہے محسوس جسے کرتے ہیں سمجھا نہیں سکتے ایک ایسا احساس جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم، جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے میں آج کے دن اپنی مجازی محبتوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے مجھے آداب محبت سکھائے، جنہوں نے محبت ایسے انمول جذبے کی صداقت کو میری رگ و پا میں شامل کیا جن کی بدولت میں عالم نجوم و جواہر کے کردگار کی بارگاہ میں سوال کرنے کے قابل ہوا کہ شہ رگ میں گونجتا ہے لہو یا لہو میں تو میں آج کے دن اپنے مرشد اپنے داد حضور، دادی حضور اور اپنے مرشد اپنے والد گرامی سے اظہار محبت کرتا ہوں کہ ترے خیال سے روشن ہے میرے دل کا جہاں ترے وجود سے ہے رسم راہبری تازہ میں اظہار محبت کرتا ہوں اپنی والدہ سے کہ جنہوں نے میرے وجود کو اٹھائے رکھا. میری انکھوں کی نمی میری اساتذہ سے میری محبت کا اظہار ہے جنہوں نے مجھے قلم سے قرطاس پر روشنائی کو الفاظ میں بدلنے کا ہنر سکھایا جن کے سخت الفاظ میرے اند نرم گوشے پیدا کرتے رہے میں دعا گو ہوں اس ایک رشتہ کے لیے جس نے میری محبت کو پاکیزگی عطا کی، جس نے مجھے مسکراہٹیں بخشیں، جس نے مجھے جھکنا سکھایا جس کی بدولت مجھے صبر اور شکر کرنا آیا جس کی رفاقت میں نے محبت کی منزلیں طے کیں جو میرا رازدار بھی رہا میرا غمخوار بھی. جس کی دعاؤں میں آج بھی میں شامل ہوں. جس نے ہجر کی راتوں کو رونق بخشی، دل ویراں کو آباد رکھا. مجھ ناشاد کو ہر طرح شاد رکھا اس کی جدائی کا خیال ایسے ہے جیسے ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا میں دعا گو ہوں اس ایک رشتے کا جس نے چپکے مجھے چاہا میں مشکور ہوں اپنی ذات سے وابستہ تمام رشتوں کا. مشکور ہوں اپنے تمام دوستوں کا جنہوں نے مجھے میری پہچان دی. ان سب رشتوں اور محبتوں نے میرے دل میں الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی محبت پیدا کی آج میں حضور اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی محبت اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں. اور ترجیح دیتا ہوں اپنی آج تک کی محبتوں پر. دعا گو ہوں کہ الله میرے دل میں عشق محمد صلی الله علیہ و آلہ وسلم پیدا فرمائے. یا رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور محبت کا اظہار کر رہا ہوں. مجھے اپنا عشق عطا کیجے ہر رشتہ آپ پر قربان اے شہنشاہ ہر جہان میرے دل میں آن بسیے مجھ پر نظر کرم کیجے. سرخ گلاب آپ کے شایان شان نہیں مجھ سے میرے اشک لیجے.
You must be logged in to post a comment.