What is the Treatment and precaution of animal disease in today's season??

 

 

 Nowadays, a disease which is caused by flies and itching and sores on the body of the animal.

We need to change the attitude of farmers against this disease

*احتیاط کریں نقصان نہ کریں* 

 

آجکل ایک بیماری جو مکھی کی وجہ سے پیدا ہورہی ہے اور جانور کے جسم پر خارش اور زخم بن جاتے ہیں. 

ہمیں اس بیماری کے خلاف فارمرز کے رویوں کو تبدیل کرناہوگا

 

فارمرز کو حوصلہ دینا ہوگا کہ یہ بیماری اتنی بھی خطرناک نہیں جتنا نظر آرہا ہے

اپنے جانوروں کو اونے پونے فروخت سے باز رہے، یہ بیماری بروقت علاج معالجہ سے ٹھیک ہوجاتے ہیں

2 فیصد شرح اموات کسی بھی جگہ اور وقت میں عام سی بات ہے۔ وباء صرف ازمائش ہوتا ہے

ازمائش پہ صبر کے بغیر پورا اترنا ناممکن ہے

بیمار جانورں کے لیے ایک سادہ سا پروٹوکول یہاں بیان کرتا ہوں

 

1) بیمار جانور کو الگ باندھ لیں

2) کیونکہ بیماری مکھیوں کے ڈنگ میں موجود ہوتا ہے اس لیے مکھیوں کو کم کرنے ، بھگانے یا مارنے کے لیے سوچ بچار کرے

مکھیاں کم کرنے کے لیے کھرلیوں کا صبح شام صفائی کرے

مکیھوں کو بھگانے کے لیے شام کے وقت گوبر جلایا کرے

فلائی ریپیلنٹ ، تارپین کا تیل پاوں اور پیٹ پہ مل لیا کرے

شیڈ میں جھالیاں لگائے تاکہ مکھیوں کا امدورفت کم سے کم ہو اور وباء کا زور  جلدی ختم ہو

 

بیمار جانور کے زخم کو خراب ہونے سے بچاو کے لیے 40 لاکھ یا پین بائیوٹک یا PPS LA یا سیفر لگایا کرے۔ پاوں کے لنگڑا پن ختم کرنے کے لیے نیفلور ، یا ریکسا پلس لگایا کرے۔ خارش کم کرنے کے لیے میپرا سون لگائے۔ 

جانور کے جسم میں کیڑے پڑنے کے صورت میں ایور میکٹن یا ٹیگا فون دوائی لگائے یا ایکو فلیز سپرے کرے

 

سب سے اہم بات یہ ہے کہ نہ جانور خریدو نہ ہی فروخت کرو

بیمار جانور کو فروخت کرنے اور چمڑہ استعمال کرنے یا دور لے جانے سے بیماری دوسرے علاقوں میں پھیلے گی

 

بہتر ہوگا کہ فارمرز خود ہی اپنے علاقوں میں کمیٹیاں بنائے اور نزدیکی ویٹرنری ہسپتال سے رابطہ کریں۔ جو اس بات پہ سختی سے پابند ہو کہ *اپنے علاقے میں قصائی بیمار جانور نہیں لائے گا،* اس کمیٹی کا یہ بھی زمہ داری ہو کہ ان کے علاقے سے نا ہی جانور جائے گا نا ہی آئے گا

اس طرح نہیں کیا گیا تو نتائج بہت خراب ہوسکتے ہیں۔

 

حکومت کے طرف اس وقت دیکھنا اور توقع کرنا بے وقوفی ہی ثابت ہوگا۔ کیونکہ نہ تو ان کے پاس ویکسین ہے اور نہ ہی اس کے روک تھام کے لیے وسائل موجود ہے۔ دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتارہتا ہے۔ مگر ان ممالک میں جانوروں کے امدورفت پہ پابندی اور بیمار جانوروں کو الگ کرنے پہ زیادہ دھیان دیا جاتا ہے

 

اگر کوئی اس وقت یہ سوچے گا کہ *بیماری تو ہمارے علاقے میں نہیں تو یہ ان کی بھول ہوگا* ، بہت جلد یہ بیماری جانوروں کے اسمگلنگ سے پھیلے گی۔ اس لیے بیمار جانوروں کے فروخت اور اسمگلنگ پہ پابندی لگایا جائے

۔ گھنٹوں کی تفصیل ان  آدھی لائنوں میں ہے درخواست یہی ہے کہ ہر پوائنٹ کو مدنظر رکھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے

اس سلسلے میں علاقائی کمیٹیاں بنا کر اور نزدیکی ویٹرنری ہسپتال سے رابطہ کرنے سے ہی ذمہ داری دی جائے

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

Article writer