What is the religion of Islam?

چند کفریہ کلمات

ایمان کی تعریف:ایمان لغت میں تصدیق کرنے کو کہتے ہیں ایمان کا دوسرا لغوی معنی ہے امن دینا چونکہ مومن اچھے عقیدے اختیار کر کے اپنے اپ کو دائمی یعنی ہمیشہ والے عذاب سے امن دے دیتا ہے اس لیے اچھے عقیدوں کے اختیار کرنے کو ایمان کہتے ہیں اور اصطلاح شرح میں ایمان کے معنی ہیں "سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریات دین سے ہیں"

کفر کی تعریف:کفر کا لغوی معنی ہے "کسی شے کو چھپانا" اور اصطلاح میں کسی ایک ضرورت دینی کے انکار کو بھی کفر کہتے ہیں اگرچہ باقی تمام ضروریات دین کی تصدیق کرتا ہو جیسے کوئی شخص اگر تمام ضروریات دین کو تسلیم کرتا ہو مگر نماز کی فرضیت یا ختم نبوت کا منکر ہو وہ کافر ہے کہ نماز کو فرض ماننا اور سرکار مدینہ صلی الله علیہ وسلم کو آخری نبی ماننا دونوں باتیں ضروریات دین میں سے ہیں

حرام الفاظ اور کفریہ کلمات کے متعلق علم سیکھنا فرض ہے

کلمات کفر کی دو قسمیں ہیں 

1: لزوم کفر

2: التزام کفر 

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ الله تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اقوال کفریہ دو قسم کے ہیں 

1: ایک وہ جس میں کسی معنی صحیح کا بھی احتمال ہو 

2: دوسرے وہ کہ اس میں کوئی ایسے معنی نہیں بنتے جو قائل کو کفر سے بچائیں

اس میں اول کو لزوم کفر کہا جاتا ہے اور قسم دوم کو التزام کفر کہا جاتا ہےلزوم کفر کی صورت میں بھی فقہائے کرام نے حکمِ کفر دیا مگر متکلمین اس سے سکوت کرتے یعنی خاموشی اختیار فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب تک التزام کی صورت نہ ہو قائل کو کفر کہنے سے سکوت کیا جائیگا 

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو کافر کہنا تعزیر یعنی سزا ہے رہا یہ کہ وہ قائل یعنی مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہو گا یا نہیں تو اس میں دو صورتیں ہیں 

1: اگر اسے مسلمان جانتا ہے تو کافر نا ہوا 

2: اگر اسے کافر اعتقاد کرتا یعنی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ کافر ہے تو خود کافر ہے کہ مسلمان کو کافر جاننا دین اسلام کو کفر جاننا ہے اور دین اسلام کو کفر جاننا کفر ہے ہاں اگر اس شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی بنا پر تکفیر ہو سکے اور اس نے اسے کافر کہا اور کافر جانا تو کہنے والا کافر نا ہو گادوسرے کے بارے میں کافر ہونے کی آرزو کرنا مثلا یہ کہنا کہ کاش! تو سکھ ہوتا کہ کم از کم تیرے چہرے پر داڑھی تو ہوتی ایسا کہنا کفر ہے حضرت علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الله الباری نقل کرتے ہیں: سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے : کسی کے کفر پر راضی ہونا بغیر کسی تفصیل کے کفر ہے

اگر کسی کے منہ سے بے خیالی میں کفر نکل گیا مثلا کہنا چاہتا تھا "الله مالک ہے" مگر معاذ الله منہ سے نکلا، "الله مالک نہیں" تو قائل کا قول تو یقینا کفر ہے مگر اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی کہ بے خیالی میں یہ کلمہ صادر ہوا حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ الله تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نا ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والے کو بھی یہ معلوم ہو جائے کہ غلطی سے لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پچ کی یعنی جو کچھ منہ سے نکلا اس پد اڑا رہا تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments
Ahmad Raza - Mar 13, 2022, 5:20 PM - Add Reply

Okay

You must be logged in to post a comment.

You must be logged in to post a comment.

About Author