ففتھ جنریشن وار کیا ہے؟
فیفتھ جنریشن وار میں کون سے ہتھیار استعمال ہوتے ہیں؟
فیفتھ جنریشن وار کن لوگوں کے ذریعے لانچ کی جاتی؟
فیفتھ جنریشن وار کے ٹارگیٹڈ کیاچیز ہے؟
فیفتھ جنریشن وار کا مقابلہ کیسے کیا جاتا ہے؟
احتیاتی تدابیر کیا استعمال کیں جائیں؟
1 ففتھ جنریشن وار کیا ہے؟
اس دور میں جنگیں زمینوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جاتی ہیں آج کے دور میں جسموں کو تسخیر نہیں کیا جاتا بلکہ آپ کے اذہان کو تسخیر کیا جاتا ہے اور آہستہ آپ کی برین واشنگ کی جاتی ہے جی ہاں علاقوں پر حکومت کرنے کی بجائے دماغوں پر حکومت کی جاتی ہے
یہ تاریخ کا سب سے خوفناک ترین دور ہے جب ٹیکنالوجی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے.
فیفتھ جنریشن میں آج تک کی تمام جنریشن وار شامل ہیں.
فیفتھ جنریشن وار میں کون سے ہتھیار استعمال ہوتے ہیں؟
اس جنریشن وار فیئر میں کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کا بہت بڑا ہاتھ ہے آپ کے دماغ کو فتح کرنے کے لئے جو ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے وہ میڈیا ہے جو ففتھ جنریشن کا سب سے مہلک ترین ہتھیار ہے
یہ فیک نیوز کی فیکٹریاں ہیں اخبارات ۔ ٹی وی چینلز ۔ نیوز پروگرام ۔ صحافی ۔ ادیب ۔ مدبر ۔ ایکٹیویسٹس ۔ فیس بک ۔ ٹیوٹر ۔ واٹس ایپ ۔ انسٹاگرام کے ذریعے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے
فیفتھ جنریشن میں پروپیگنڈہ اور ڈس انفارمیشن سب سے بڑا ہتھیار ہے
اس دور میں پروپیگنڈا ۔ ڈس انفارمیشن ۔ سیاست ۔ پراکسی ۔ جرم اور فالز فلیگ کے ذریعے جنگیں لڑی جاتی ہے
فیک اکاؤنٹس کے ذریعے بار جھوٹ بولا جاتا ہے اس قدر تواتر اور منظم انداز میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ گمان ہوتا ہے یہ بات سچ ہے
فیک تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو باور کرایا جاتا ہے کہ حقیقت پر مبنی ایونٹ ہے اور اس سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے
اس دور کی مثال ایسے ہے جیسے گھمسان کا رن پڑا ہو تو دوست دشمن کی پہچان ختم ہو جاتی ہے اس میں بظاہر ہمارا نظر آنے والا دوست دشمن بھی ہوسکتا ہے اور دشمن کا آلہ کار بھی ہو سکتا ہے
دشمن اپنا پتھر ہمارے ہاتھ میں اور زبان ہمارے منہ میں رکھ کر استعمال کرنا چاہتا ہے
ففتھ جرنیشن وار کو کن لوگوں کے ذریعے لانچ کیا جاتا ہے؟
بنیادی طور پر آپ کے تین نمایاں دشمن ہیں
لبرلز۔ ایمان کے دشمن
خارجی ۔ جان کے دشمن
جمہورے ۔ مال کے دشمن
تینوں کے پاس خوبصورت نعرے ہیں
لبرلز۔ ۔ انسانیت کا نعرہ
خارجی۔ اسلام کا نعرہ
جمہورے۔ حقوق کا نعرہ
لبرلز کی حقیقت۔ کافر کرتا ہے
خارجی کی حقیقت ۔ مارتا ہے
جمہورے کی حقیقت. مال لوٹتا ہے.
ان تینوں کا مشترکہ دشمن فوج ہوتی ہے
لبرلز فوج کو دہشت گرد کہتے ہیں
خارجی فوج کو اسلام دشمن کہتے ہیں
سیاستدان فوج کو جمہوریت دشمن کہتے ہیں
فیفتھ جنریشن وار میں ٹارگیٹ
ففتھ جنریشن وار میں
(1) عوام
(2) ریاست
(3) فوج
کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے
فیفتھ جنریشن وار اور عوام
ڈس انفارمیشن کے ذریعے عوام کو ذہنی غلام بنایا جاتا ہے انہیں آہستہ ناامیدی اور مایوسی کی دلدل میں دھکیلا جاتا ہے
عوام کو عوام سے بدظن کرنا
عوام کو اداروں کے خلاف ابھارنا
عوام اور فوج کے درمیان خلا پیدا کرنا
فیفتھ جنریشن وار کا مقصد ہے
عوام کے اندر ناامیدی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے اور عوام کے ذہنوں کو معذور اور ڈپریشن کا شکار کر دیا جاتا ہے کہ عوام کچھ سوچنے کے قابل ہی نہیں رہتی
سیاسی جماعتوں کی صورت میں عوام کو کئ جماعتوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے مذہبی فرقوں اور مسلکوں کی بنیاد پر عوام کو بہت سے فرقوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے عوام کو صوبائیت کی سطح پر مرکز سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے عوام ملک میں رہتے ہوئے بھی صرف اپنے صوبے اور علاقے کی فلاح کا ہی سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہیں
ڈس انفارمیشن کا ایسا جال بچھایا جاتا ہے کہ عوام کو امید کی کوئی کرن نظر ہی نہیں آتی عوام مایوسی اور ناامیدی سے اکتاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار ہو کر کوئی بہتر فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے اور بہتر کی چاہ میں پہلے سے بھی بدتر اور بدکردار حکمران اپنے اوپر مسلط کر لیتی ہے
گروہوں اور جماعتوں میں بٹی ہوئی عوام کو اور زیادہ پروپگنڈا کے ذریعہ ایک دوسرے سے متنفرکیا جاتا ہے
ایک ہی ملک کی عوام کو اتنی جماعتوں اور گروہوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے کہ لگتا ہے کہ یہ ایک ملک نہیں بلکہ سیکڑوں گرہووں کا مجموعہ ہے
قومیت کی تقسیم ۔ لسانی تقسیم ۔ سیاسی تقسیم ۔ مذہبی تقسیم ۔ گلوبل ازم ۔ سٹینڈر اور سوسائٹیز کا فقدان ۔ شہری اور دیہاتی تقسیم ۔ امیر اور غریب کا فرق اور یونینز میں تقسیم کر دیا جاتا ہے
ادب ۔ تہذیب وتمدن ۔ کلچر۔ ثقافت ۔ زبان ۔ رسم ورواج کو تبدیل کر دیا جاتا ہے لوگوں کی پہچان بدل دی جاتی ہے
رہن سہن میں بدلاو پیدا کیا جاتا ہے مثال کے طور پر ہمارا قومی لباس قمیض شلوار اور دھوتی کرتا ہے لیکن آج ہمیں پینٹ شرٹ پہنے پر فخر محسوس کرتے ہیں
رسم الخط کو تبدیل کر دیا جاتا ہے مثال کے طور پر اردو کو رومن اردو میں تبدیل کر دیاکیا ہے
تاریخ کو تبدیل کر دیا جاتا ہے مثال کے طور پر ہمارے آٹھ سو سے ہزار سالہ دور تاریخ کا بہترین اور شاندار دور تھا لیکن آج ہمارے سامنے اسے تاریکی کا دور بنا کر پیش کیا جاتا ہے
کتابوں سے ہماری تاریخ کو مٹا دینا نبی کریم اور صحابہ کے واقعات کو ختم کرنا مطالعہ پاکستان سے پاکستان کا ہی مٹا دیا جانا دینیات کا ختم کرنا سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی کے نام پر خرافات اور ناچ گانے اور موسیقی کو فروغ دینا مخلوط تعلیمی نظام کے ذریعے نوجوان نسل کے جذبات کو بےراہ روی کی راہ پر ڈالنا اور پروپیگنڈا کے ذریعے اسے جدید اور مہذب ترقی یافتہ تہذیب بنا کر پیش کرنا بھی فیفتھ جنریشن وار کا حصہ ہے
فیفتھ جنریشن وار کا حملہ براہ راست بھی عوام پر کیا جاتا ہے مہنگائی بڑھا کر عوام کو ریاستی اداروں کے مخالف بنا دیا جاتا ہے تو کہیں حقوق کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے جس کے لیے این جی اوز اور یونین کا سہارا لے کر ملک میں افراتفری پھیلائی جاتی ہے عوام کو پراکسی اور پروپیگنڈا کے ذریعے متشعل کیا جاتا ہے ہنگامہ آرائی کے لیے اکسایا جاتا ہے کہیں حالات بہت نازک ہو جائیں وہاں دہشت گردی خودکش حملہ بھی کروا دیا جاتا ہے ففتھ جنریشن وار کا اصل ہدف آرمڈ فورسز ہی ہوتی ہے اور ہر پہلو سے عوام اور آرمڈ فورسز میں دوری بنائے رکھنا اور نفرت پھیلائے رکھنا ہی فیفتھ جنریشن وار کا بنیادی مقصد ہے
(2) ففتھ جنریشن وار اور ریاست
ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار کا ہدف وہ ریاست ہوتی ہے جس پر قبضہ کیا جانا مقصود ہو جب براہ راست حملہ کرنا ناممکن ہو تو کسی بھی ریاست سے دوبدو لڑائی کئے بغیر اس ملک پر قبضہ کیے بغیر اسے پہلے کمزور کرنا ریاستی اداروں ۔ عوام اور فوج کا آپسی تعلق توڑنا پھر پوری طاقت کے ساتھ اس ملک پر ہتھیاروں سے حملہ کر دینا ہی ففتھ جنریشن وار کا مقصد ہے
تین قسم کا طریقہ واردات استعمال کیا جاتا ہے
(1) آپسی خانہ جنگی
(2) معاشی بدحالی
(3) بے چینی اور کنفیوژن
آپسی خانہ جنگی
سب سے پہلے ریاست میں سے ایسے عناصر تلاش کیے جاتے ہیں جو ریاست کے غدار اوہ ناراض قسم کے لوگ ہوتے ہیں جن کی ذہن سازی کی جاتی ہے تاکہ افراتفریح کے دوران ان کو کام میں لایا جائے ان لوگوں کو خودکش حملوں اور توڑ پھوڑ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور محب وطن لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے
دہشت گردی کے واقعات اور خودکش حملوں میں اصل نشانہ وہ نہیں ہوتے جو مر جاتے ہیں بلکہ وہ ہیں جو زندہ رہ جاتے ہیں جن کی بقیہ ساری زندگی خوف و ہراس اور زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے گزرتی ہے
لیکن اصل جنگ پروپیگنڈا کی ہوتی ہے جس کے لیئے لوگوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے
معاشی بدحالی
اداروں میں کرپٹ اور ناپاک لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے جو اداروں کو تباہ کردیتے ہیں پھر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ادارے کلیپس کر رہے ہیں لہذا ان کی پرائیویٹائزیشن کر دینی چاہیے جو ادارے ملکی مفاد کے لئے تھے اب ملک پر بوجھ ڈال رہے ہیں لہذا ان کو اونے پونے داموں کے بیچ دیا جائے
ریاست میں مہنگائی لوڈشیڈنگ کروا کر پھر لوگوں کو ریاست کے خلاف مشتعل کیا جاتا ہے ہڑتالوں اور ہنگامہ آرائی کے ذریعے ریاست کو کمزور کیا جاتا ہے سیاسی حکمرانوں اور مذہبی رہنماؤں کو استعمال کرکے ملک میں ایونٹ گریٹ کیے جاتے ہیں
باہمی خانہ جنگی کسی بھی ملک کی معاشی بدحالی کا سبب ہوتی ہے جب دشمن ہمیں آپس میں لڑا کر معاشی طور پر غیر مستحکم کر دے تو ہم ایک نا ختم ہونے والے کلیش میں داخل ہوجاتے ہیں صوبے اور ایک دوسرے پر اپنا حق دبانے کا الزام عائد کرکے تعصب کا شکار ہوجاتی ہیں تو پھر دشمن انہیں میں سے علیحدگی پسند تنظیموں کو تلاش کرتے ہیں پھر ففتھ جنریشن وار کا آغاز کیا جاتا ہے
لبرلز اور سیکولرز ۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سائبر سیل حرکت میں آتے ہیں شوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پروپیگنڈہ ڈس انفارمیشن شروع کرتے ہیں لوگوں کو ذہنوں کو اپنے کنٹرول میں کر تے ہیں
بے چینی اور کنفوزن.
عوام میں کنفیوژن پیدا کی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتیں عدلیہ اور فوج ایک پلیٹ فارم پر نہیں ہیں
عوام میں کنفیوژن پھیلائی جاتی ہے کہ افواج اور ایجنسیوں کی پالیسیاں باہم متصادم ہیں
دشمن ملک کی من گھڑت کہانیوں پر مبنی فلموں کی وجہ سے عوام کو کنفیوز کر دیا جاتا ہے کہ یہ لڑائی دو افواج کی ہے عوام کو اس سے دور رہنا چاہیے
عوام میں یہ کنفیوژن پیدا کی جاتی ہے کہ
دو قومی نظریے کی کیا ضرورت ہے ہندو اور مسلم ایک جیسے کلچر و ثقافت کے لوگ ہیں پھر یہ لڑائی کیسی ہے عوام میں یہ کنفیوژن عام کی جاتی ہے
You must be logged in to post a comment.