⚡میرا حق میرا فرض⚡
انسان بلکہ کوئی بھی جاندار مخلوق اس دنیا میں بغیر کسی دوسرے سے استفادہ کیے وجود میں نہیں آتی۔ یوں تمام مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ مکمل جڑی ہوئی ہیں۔ انسان اس درمیان پیشرفتہ شعور رکھنے کے طفیل اس دنیا کی نعمتوں سے بہرہ مندی اور استفادے کا اصل معنی سمجھ سکتا ہے۔ وہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس پر ماں باپ سمیت ان تمام لوگوں کا حق ہوتا ہے جو اسے« نیستی سے «ہستی» اور "نہ ہونے" سے "ہونے" کا سفر طے کراتے ہیں۔
بقول شاعر
ڈبویا مجھ کو ہونے نے۔۔۔
یہ مادی دنیا بری طرح سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں خاک، سبزہ زار، گوشت، ہڈیاں اور وہاں سے پھر خاک، سبزہ، گوشت ہڈیوں تک کا جسمانی سفر بالکل ایک نہ رکنے والے گھومتے چرخے کی طرح جاری ہے۔ ہمارا وجود کسی دوسرے کے خون پسینے کے مرہون منت ہونے سے پہلے اس کے مکمل وجود سے وابستہ ہوتا ہے۔
بقول سعدی شیرازی؎
بنی آدم اعضای یکدیگرند
که در آفرینش ز یک گوهرند
(یعنی بنی نوع بشر ایک دوسرے کے اعضا ہیں، کیونکہ ان کی خلقت ایک ہی گوہر سے ہوئی ہے)۔
یہ وابستگی صرف جسمانی حد تک نہیں ہے، بلکہ احساسات و عواطف اور روحانی و نفسانی طور پر مختلف انسانی رشتوں کو جنم دیتی ہے جو باپ، ماں، بہن، بیٹے اور بیٹی کی شکل میں پروان چڑھتے ہیں۔
مسئلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ دنیا بساطت سے پیچیدگی کی طرف گامزن ہے۔ انسانی سماج چھوٹے قبائل اور گاوں میں بسنے والے چند خاندانوں سے نکل کر اب بڑے شہروں تک پھیل گیا ہے۔ یوں انسان کی فردی زندگی بہت سے پیچیدہ عناصر سے وابستہ ہو چکی ہے۔
ایسے میں انسانی استعداد اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے ساتھ اس کی ضروریات اور خواہشات کی چارہ اندیشی کرنا ایک ہمہ گیر انسانی تربیت کا خواہاں ہے۔ تعلیم و تربیت انسانی شعور کے وہ دو بازو ہیں جو انسان کو اس پیچیدہ دنیا میں بسر اوقات کرنے کے مختلف طورطریقوں کے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ اس میں بہترین تعلیم اور اعلی تربیت وہ ہے جو زندگی گزارنے کا متعادل ترین راستہ دکھائے۔
انسانی وابستگیوں کی ایک داستان عورت اور مرد سے جڑی ہے۔ اگر میں قرآن کریم سے کچھ اشارے پیش کروں تو فرمایا کہ «اس نے تمہیں نفس واحدہ سے پیدا کیا اور پھر اسی نفس واحدہ سے تمہارے لیے زوج /ہمسر قرار دیا»، دوسری جگہ فرمایا کہ «تمہیں پانی سے پیدا کر کے تمہارے لیے خونی رشتے اور سسرالی رشتے قرار دیے»۔ خونی رشتے انسان کے وجود کے ماضی کی علامت ہیں، جبکہ سسرالی رشتے درحقیقت مرد اور عورت کے آپس میں جڑ کر نئےآنے والے انسان کا پیش خیمہ ہیں۔
یہی وہ انٹرکنیکشن ہے جو اس کائنات پر حکمفرما ہے۔ در حقیقت اگر صحیح معنع میں لبرلزم کی فردیت پسندی کو وجود پہنایا جائے تو انسانی نسل تقریبا ڈھونڈے سے نہیں ملے گی۔ کیونکہ یہ تو ایک ناقابل انکار حقیقت ہے جس کی طرف قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے کہ «حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا» ماں حمل کے وقت بھی درد سہتی ہے اور جنم دیتے وقت بھی درد سہتی ہے۔ پس اگر انسان صرف لذت بخشی اور وہ بھی جسمانی لذات کو معقول زندگی کا مقصد نہائی فرض کر لے تو وہاں درد سہنا کسی دوسرے انسان کے لیے، کیسے معقول تصور ہو سکتا ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
اصل مسئلہ یہ ہے ہی نہیں کہ انسان چاہے مرد ہو یا عورت وہ درد نہیں سہتا، ہر ایک اس کائنات میں دکھ درد سہتا ہے، رنج و الم برداشت کرتا ہے۔ پوسٹ ماڈرن دنیا میں بھی درد و الم ختم نہیں ہو سکے۔ ہاں کچھ کم ہوئے، البتہ آلام کی نوعیت ضرور بدل چکی ہے۔ لہذا صرف فردی آزادی سے بات مکمل نہیں ہوتی،
بات وہاں مکمل ہوگی جہاں انسان حقوق اور فرائض کے درمیان تعادل برقرار کر سکے۔ یہ تعادل کسی بھی معاشرے میں آ جائے تو وہ معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔ ہمارا معاشرہ عرصہ دراز سے مردوں کی طاقت سے بہرہ وافر رکھتا ہے۔ یہ طاقت صرف استحصال، دھونس دھاندلی یا مار پیٹ میں محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس میں اثر گزاری کی تمام تر شکلیں موجود ہیں، جس میں ان کا مثبت کردار، خدمات اور تخلیقات سب شامل ہیں۔ یعنی معاشرے کے مختلف میدانوں میں مرد اپنی خدمات اور نقوش انجام دے کر اپنا لوہا منواتے رہے، درمقابل عورت کے نقش محدود سے محدود تر ہوتے گئے اور بالاخر وہ اندرون خانہ بند ہو گئی۔
تاہم ناچیز کے خیال میں عورت بھی مرد کی طرح سے معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی اہل ہے۔ عصر حاضر میں جب اطلاعات و آگاہی وجود میں آچکی ہے تو وہ اپنا وجود معاشرے میں اظہار کرنے کا عزم کر چکی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کردار کو اس انداز میں ہدایت اور چینلائز کیا جائے کہ وہ معاشرے میں ایک مفید عضو بنے، ٹک ٹاک پر محض اڑانیں بھرنے یا مردوں کی عشوہ گری پر زندگی ضائع کرنے کے بجائے معاشرے میں مستقل سطح پر اپنا فکری ثقافتی سماجی سیاسی اور فلاحی کردار بھرپور انداز میں نبھائے۔ ایسی تربیت یافتہ اور بلند مرتبہ خاتون کی سوئی «جسم اور مرضی »میں نہیں اٹکتی بلکہ وہ حقوق اور فرائض میں مکمل تعادل کی خواہاں ہوتی ہے۔ معاشرے سے اتنا حق مانگتی ہے جتنا کہ اسے فائدہ پہنچاتی ہے۔ اور کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ وہ جہاں کھڑی ہے اس سے زیادہ بہتر بن سکتی ہے ، اس لیے وہ اپنی موجودہ حالت پر قانع نہیں رہتی اور اپنے حقوق کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ یوں اپنے جائز حقوق سے متعلق آگاہی مہم چلانا مستحسن اقدام ہے
اس لیے ناچیز کی ناقص رائے یہ ہے کہ جہاں عورت کے حقوق کی آواز اٹھانا ایک نہایت ضروری قدم ہے، وہیں اسے نتیجہ خیز بنانے کے لیے بالغ نظری کا مظاہرہ بھی لازمی شرط ہے۔ چنانچہ کتنا اچھا ہو گا کہ ایسی فضا پیدا ہی نہ کی جائے جس سے تعصبات کو ہوا ملے اور تقسیم در تقسیم کا شکار معاشرہ مزید افراتفری میں مبتلا ہو۔ اس کے لیے «میرا جسم میری مرضی» کے بجائے «میرا حق میرا فرض» جیسے سنجیدہ نعروں پر غور کرنا چاہیے جو آگاہی اور مقصدیت پسندی کے ساتھ ذمہ دارانہ رویے کا عکاس ہے اور اپنے اندر واضح پیغام رکھتا ہے
تحریر ڈاکٹر زاہد نیازی
You must be logged in to post a comment.