What is Islam?

سوال:شادی کے موقع پر دولھا یا دلہن کو جو تحائف ملتے ہیں کیا ان پر دونوں کا حق ہوتا ہے۔۔؟ یا جسے تحفہ ملا تھا اسی کا حق ہوتا ہے۔۔؟

جواب:جس کو تحفہ ملا ہے وہی تحفے کا مالک ہے اس کی اجازت کے بغیر وہ چیز استعمال نہیں کر سکتے البتہ ایک دوسرے کو خوشی سے دینا چاہیں تو منع نہیں

سوال:میں اپنی بیوی پر بہت شک کرتا ہوں ، حالانکہ میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اس کا کوئی حل بتا دیجیے۔

جواب:اگر یہ شک بد گمانی کی حد تک ہے اور دوسروں کے سامنے اس کا اظہار بھی ہو جاتا ہے تو توبہ فرض ہے بد گمانی دل کی غیبت ہوتی ہے اگر صرف شک پیدا ہوتا ہے اور اس کو آدمی ٹالتا رہتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے بد گمانی سے بچنا ہی ہو گا کیونکہ حدیث پاک میں ہے حسن الظن من حسن العبادۃ یعنی مسلمان کے بارے میں اچھا گمان اچھی عبادتوں میں سے ہے اس لیے اچھا گمان رکھنا ہی پرے گا یہ لازم ہے بلکہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں : مؤمن کے معاملے کو اچھے پہلو پر محمول کرنا واجب ہے یعنی مسلمان کی کسی بات پر گناہ بھرا پہلو گھسیٹ کر نہیں لانا چاہیے بلکہ لازم ہے کہ اچھا پہلو تلاش کرے اور اگر اچھا پہلو ملتا ہے تو اسی کو اوکے کرے 

سوال:اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ نرمی کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ تم زن مرید بن گئے ہو اس کا کیا حل ہے۔۔؟

جواب:اگر کوئی شخص خوف خدا کے باعث اپنی زوجہ سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتا ہے یا اس سے نرم برتاؤ کرتا ہے اور لوگ اسے زن مرید ہونے کا طعنہ دیتے ہیں تو یقینا یہ اس کی دل آزاری کا سبب ہو گا لیکن شوہر کو چاہیے کہ اپنی زوجہ کے ساتھ حسن سلوک جاری رکھے لوگوں کے کچھ بھی کہنے پر دل برداشتہ نا ہو اور ہرگز اپنے رویے میں تبدیلی نا لائے بلکہ مزید نرمی کے ساتھ پیش آئے فی زمانہ لوگوں کے انداز یک سر بدل چکے ہیں خصوصا اپنی زوجہ کے ساتھ ان کا رویہ انتہائی ناگفتہ بہ ہوتا جا رہا ہے اس کے باوجود یہ لوگ اپنی زوجہ سے معافی مانگنا اپنی کسرِ شان سمجھتے ہیں حالانکہ بیوی پر ظلم کیا ہو تو معافی مانگنا واجب ہے انہیں چاہیے کہ اپنی زوجہ سے معافی تلافی کرتے رہا کریں یہ ضروری نہیں کہ ظلم کیا ہوگا تو ہی معافی مانگی جائے گی بلکہ احتیاطی عافی مانگ کی جائے تب بھی حرج نہیں بلکہ احتیاطی معافی مانگنا میاں بیوی کے درمیان محبت میں اضافے کا سبب ہے 

سوال:کیا طلاق کے بارے میں سوچنے سے طلاق ہو جاتی ہے۔۔؟

جواب:جی نہیں ، طلاق کا سوچنے سے طلاق نہیں ہوتی 

سوال:کیا مسلم خواتین شادی کے بعد والد کے نام کے بجائے شوہر کا نام اپنے نام کے ساتھ لگا سکتی ہیں۔۔؟

جواب:اس میں شرعا حرج نہیں لیکن خطرہ بڑا ہے کہ اگر گھر نا چلا اور شوہر نے طلاق دے دی تو اب کس کا نام لگائے گی ؟ اس لیے باپ کا نام لگانے میں ہر صورت میں عافیت ہے آج کل تو عورت اپنے شوہر کے نام سے ہی پہچانی جاتی ہے کہ مسز فلاں 

سوال:اگر میک اپ کیا ہو تو وضو ہو جاتا ہے۔۔؟

جواب:اگر کوئی ایسی چیز ہے جس کا جرم یا تہہ جمی ہوئی ہے اود پانی اس کے نیچے نہیں بہتا تو وضو نہیں ہو گا اگر بالکل تیل کی طرح چپڑی ہوئی ہے جس کی تہہ نہیں ہے اور پانی بہہ جاتا ہے تو وضو ہو جائے گا اگر گھی کی تہہ جمی ہوئی ہے تو وضو نہیں ہو گا کیونکہ اس کے نیچے پانی نہیں بہے گا البتہ اگر گھی بھی تیل کی طرح ہے اور جما ہوا نہیں ہے تو وضو ہو جائے گا 

سوال:کیا میاں بیوی دونوں جنت میں ایک ساتھ رہیں گے۔۔؟

جواب:جی ہاں اگر میاں بیوی کا خاتمہ ایمان پر ہوا تو یہ دونوں جنت میں ساتھ رہیں گے اگر ان میں سے کسی کا معاذالله ایمان سلامت نا رہا تو دوزخ اس کا ٹھکانہ ہو گا اور جو جنت میں جائے گا اس کا کسی دوسرے جنتی سے نکاح ہو جائے گا جنت میں جانے والے کو اپنے دوسرے فریق کے بچھڑنے کا کوئی غم و صدمہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ جنت غم اور صدمے کا مقام نہیں

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author