*انسانی حقوق اور عالمی صحافتی تنظیموں کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں گرفتار صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ*
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور صحافیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی کم از کم 58 تنظیموں نے بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں حکام پر زور دیا ہے کہ نظربند کشمیری صحافیوں فہد شاہ ، آصف سلطان ، سجاد گل اور منان گلزار کو رہا کریں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہیومن رائٹس واش ، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ، رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز اور دیگر نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے مقررکردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے نام ایک خطہ ان پر زور دیا کہ و ہ گرفتار صحافیوں کی رہائی کو یقینی بنائیں۔بیان میں کہا گیا ہم آپ سے آن لائن نیوز پورٹل ''کشمیر والا'' کے ایڈیٹر فہد شاہ کی جیل سے فوری رہائی اور ان کے صحافتی کام پر شروع کی گئی تمام پولیس تحقیقات واپس لینے کی درخواست کرتے ہیں۔فہد شاہ کو 4 فروری کو پلوامہ تھانے میں پوچھ گچھ کیلئے طلب کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ بیان میں فہد شاہ کی پیشہ ورانہ ذہانت کے حوالے سے کہا گیا کہ دی نیشن میگزین کے لیے ان کی تحریر کو 2021ء کے ہیومن رائٹس پریس ایوارڈز میں تسلیم کیا گیا تھا جبکہ جموں و کشمیر کے واقعات پر ان کی رپورٹنگ ایک عوامی خدمت ہے جرم نہیں۔ بیان میں فہد شاہ کے علاؤہ غیرقانونی طور پر گرفتار کیے گئے صحافیوں میں سجاد گل ، آصف سلطان اور منان گلزار ڈار کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں الائنس فار سیکولر اینڈ ڈیموکریٹک ساؤتھ ایشیا ، امبیڈکر کنگ اسٹڈی سرکل ، امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر ، اوٹیاروا الائنس آف پروگریسو انڈینز ، بنگلر مانابدھیکر تحفظ منچا ، بوسٹن ساؤتھ ایشین کولیشن ، صحافیوں پر حملے کے خلاف کمیٹی (سی اے اے جے) ، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ، کونسل آن مینارٹی رائٹس ان انڈیا (سی ایم آر آئی) ، سی 19 پیپلز کولیشن ، ڈارٹ سینٹر فار جرنلزم اینڈ ٹراما ، ڈیجی پب نیوز انڈیا فاؤنڈیشن ، خواتین کے جبر کے خلاف فورم ، ممبئی ، فاؤنڈیشن دی لندن اسٹوری ، فری پریس لامحدود ، فری اسپیچ کلیکٹو ، فرینڈز آف انڈیا ، ٹیکساس ، جرمن انڈین الائنس فار پیس ، گلوبل ساؤتھ اگینسٹ زینو فوبیا ، ہمل ساؤتھ ایشین ، ہندوس فار ہیومن رائٹس ، ہیومن رائٹس لائ نیٹ ورک ، ہیومن رائٹس واچ ، دی ہیومنزم پروجیکٹ ، انڈیا سالیڈیریٹی جرمنی ، انڈین امریکن مسلم کونسل ، انڈین فیڈریشن آف ورکنگ جرنلسٹس ، انڈین جرنلسٹس یونین ، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس ، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس ، انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ ، انٹرنیشنل سالیڈیریٹی فار اکیڈمک فریدم ان انڈیا ، جموں اور کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن ، جرنلسٹس فیڈریشن آف کشمیر ، جسٹس فار آل ، کینیڈا ، جسٹس فار آل ، یو ایس اے ، کشمیر ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن ، دی نیشن ، نیٹ ورک آف ویمن ان میڈیا ، انڈیا (این ڈبلیو ایم آئی) ، اوورسیز پریس کلب آف امریکہ ، پی ای این امریکہ ، پیپل اگینسٹ اپتھائیڈ اینڈ فاشزم (پی اے اے ایف)، پریس کلب آف انڈیا ، پروگرام کے خلاف حراستی تشدد اور استثنیٰ (PACTI) ، پلٹزر سنٹر ، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز ، رورل انڈیجینس ہیلتھ ، بوسٹن ، سکاٹش انڈینز فار جسٹس ، سیمیلا کلیکٹو ، سکھ ہیومن رائٹس گروپ ، ساؤتھ ایشین امریکنز لیڈنگ ٹوگیدر (SAALT)، ساؤتھ ایشین جرنلسٹس ایسوسی ایشن ، ساؤتھ ایشیا میڈیا ڈیفنڈرز نیٹ ورک، ساؤتھ ایشیا پیس ایکشن نیٹ ورک اور ساؤتھ ایشیا سولیڈیرٹی گروپ ، urbine Bagh شامل ہیں ۔
You must be logged in to post a comment.