انسانیت
انسانیت کیا ہے؟
صبح اسکول پہنچا تو اسمبلی ہو رہی تھی۔ اسی دوران کچھ بچے دیوار کی ایک طرف کھڑی بلی کو دیکھ رہے تھے۔ تو میں نے ان سے پوچھا، کیا دیکھا جا رہا ہے؟ جواب میں بچوں نے کہا سر دیکھیں تو وہاں ایک خوبصورت بلی ہے تو میں نے مسکرا کر کہا تو چاہیے یہ بلی آپ کو، پکڑ لیں اسے آپ کے لیے؟ ان میں کسی بچے نے جواب دیا، " نہیں سر!" میں نے پوچھا کیوں تو بچہ کہنے لگا اسے نہیں پکڑنا کیونکہ یہ اپنے بچوں کے پاس جا رہی ہوگی۔
انسانیت پر کچھ لکھنا یا پہلے سے کچھ لکھی گئی تحریر کو پڑھ کر انسانیت کی تعریف کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ کون اسے عملی طور پر اپنی زندگی میں لاتا ہے۔ ہمارے یہاں سے انسانیت کا یوں نکل جانا کہ کسی کو کسی سے، کسی کے جینے مرنے، خوش اور ناراض ہونے، اور رہنے یا نہ رہنے سے فرق ہی نہ پڑے، ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ ہمارے بڑے آج اپنے بچے کی پڑھائی لکھائی پر تو بھرپور توجہ دے رہے ہیں لیکن انھیں ایک سائستہ اور تہذیب یافتہ انسان بنانے میں نہیں۔ اس معاملے میں ہمارے بڑوں کا کردار کچھ خاص نہیں رہا جس کی وجہ سے ہمارے بچے شاید انسانیت بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے معاشرے میں پڑے لکھے تعلیم یافتہ، رٹہ مار لوگوں کی قطاریں تو لگاتے جا رہے ہیں لیکن ان میں احساس کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے یہاں ہر شخص انسانیت کے پرچار میں تو لگا ملتا ہے پر اپنی ہی زندگی میں وہ اس چیز کو اپنانے میں اسفل دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے لیے خود پرستی ان کی جان ہوتی ہے۔ ان کی ذات ان کیلئے اہم، رفتہ رفتہ اہم تر اور پھر اہم ترین بن جاتی ہے۔ لوگ کتنے ہی ضرورت مند کیوں نہ ہوں ان کیلئے اپنی ضرورت ہی ان کی اول ترجیح ہوتی ہے۔
"کیا کروگے اگر کہہ دوں کہ اداس ہوں میں؟" یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے لوگوں میں موجود احساس کو کسی حد تک جاننے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں مجھے مختلف لوگوں کی جانب سے صرف خاموشی اور بے بسی دیکھنے کو ملی۔ اکثر نے اس پر بات کرنا مناسب سمجھا نہ ہی اپنے خیالات کا اظہار۔ ہمارا کئی زیادہ لوگوں سے تعلق ہونے کے باوجود کچھ وقت ایسا بھی ہوتا ہے جب ہمارے پاس ہمارے علاوہ کوئی نہیں ہوتا ہم اپنے آس پاس چند ایک کو ہی پاتے ہیں۔ ہماری خوشی میں لوگوں کا ہجوم اور اُداسی میں صرف خاموشی کا ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہم ہیں اور ہمارے ساتھ بھی ہم ہی ہیں۔ میرے اس سوال پر میرے نزدیک کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے سب سے پہلے وجہ جاننے کا پیغام بھیجا اور بات کی حد تک چھوٹی سی کوشش دیکھائی لیکن ان کا اُداسی ختم کرنے میں کوئی خاص کردار واضع دکھائی نہ دیا مگر پھر بھی یہ لوگ کسی حد تک داد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے کوشش تو کی۔ لیکن میں یہاں ایک دوست کا ذکر کرنا لازمی سمجھتا ہوں جس نے نہ صرف وجہ معلوم کرنے میں دلچسپی دیکھائی بلکہ ہر ممکنہ کوشش کرنے کا شوق ظاہر کیا جس سے گر میں اداس ہو جاؤں تو مجھے سمبھالا جا سکے۔ یقینن ایسے لوگوں میں احساس کی کوئی کمی نہیں ہوتی اور ان کی پرورش میں انسانیت کا بیج بچپن سے ہی والدین نے رکھ دیا ہوتا ہے جو بڑا ہو کر ایک سایہ دار درخت کی مانند سب کو سکون میسر کرتا رہتا ہے۔ اس بات سے مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اب بھی انسانیت کا دیپ جگائے ہوئے ہے۔
ہم اکثر خونی رشتوں کی بات کر رہے ہوتے ہیں لیکن شاید خون کا رشتہ ہونا انسانیت ہونے کیلئے لازم نہیں۔ انسانیت کے لیے واحد چیز جس کی درکار ہوتی ہے وہ ہے احساس۔ آجکل احساس کی اتنی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے کہ کوئی وجہ نہیں بنتی کہ کسی کے ساتھ بیٹھ کر اس بات پر کچھ بولا بھی جا سکے۔ آج لوگ اپنے اور صرف اپنے لیے جی رہے ہوتے ہیں۔ جو انھیں پسند ہوتا ہے وہ کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا ہم میں احساس اور انسانیت کا فقدان ہماری آنے والی نسلوں میں بھی اس چیز کو کم یا بلکل ختم کرنے کی وجہ بننے گا؟ کیا ہمارے بچے بھی اس بیماری کا شکار ہوں گے؟ افسوس کے ساتھ مجھے ان سوالات کا جواب مثبت میں ملتا نظر آ رہا ہے کیونکہ ہم بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش تو کر رہے ہیں لیکن ان میں انسان دوست جذبات پیدا کرنے، دوسروں کا خیال رکھنے اور ان کے ساتھ مل کر دوسروں کی مدد کرنے کی نہیں۔
ذرا سوچیے! جب ہم بچپن سے ہی اپنے بچوں کو صرف جیتنا سکھاتے آرہے ہوں تو وہ کیسے کسی اور کو سمجھنے اور دوسروں کی خوشی میں خوش رہنے کی چاہ رکھ سکتے ہیں۔ ہم نے تو انھیں ہر حالت میں فقط جیت کے لیے تیار کیا ہوتا ہے خواہ وہ کسی کو روند کر ہی کیوں نہ حاصل کی جائے۔ اگر آج ہمارے بچوں کے لیے انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں تو اس کی وجہ بھی ہم اور صرف ہم ہیں۔
You must be logged in to post a comment.