چالیس سال سے بدلتا ہوا طرزِ زندگی
ء1980 کا انسان آج کے انسان سے بہت مختلف تھا۔ اس وقت لوگوں کے پاس مال و دولت نسبتاََ کم تھا لیکن حوصلہ اور فہم زیادہ تھے۔
لوگوں میں حسد و لالچ کم تھی۔ لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لئے وقت ہوتا تھا۔ لیکن آج ہر کوئی کسی بھٹکی ہوئی کشتی کی ماند ہے۔
اب ہم آپ کو چار دہائیوں میں بدلنے والے ان حالات سے کچھ یوں روشناس کراتے ہیں۔
۔ 1: بچپن سے جوان، بچپن:۔ 1980 کی دہائی میں اگر دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پہلے بچپن معصوم ہوتا تھا اور اب بچپن جوان ہو گیا ہے۔ تیس سال پہلے پچے بچوں کی ہی طرح باتیں کرتے ہوتے تھے لیکن آج بچے بڑوں کی طرح فہم و فراست سے بات کرتے ہیں۔ میرے ایک دوست کو فون آیا تو اس کے دوست نے پوچھا،"سنا ہے آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے، تو میرے دوست نے جواب دیا ۔ پہلی بات یہ ہے کہ بچہ اب دو سال کا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے غلط سنا ہے بچہ نہیں بلکہ میرا باپ پیدا ہوا ہے" آپ اندازا لگائیں کہ آج کے بچے کس قدر عقلمند ہیں کہ اسے اپنے دو سال کے بچے کو باپ کہنا پڑا۔
تیس، چالیس سال پہلے اور آج کے بچے کی مثال اس طرح بھی دی جا سکتی ہے کہ جیسے پاکستان میں شروع میں نوکیا 3110 آیا تھا جو کہ وزن میں بھاری اور عقل میں نومولود لیکن مضبوط جسم کا مالک تھا۔ اسے اگر چوٹ لگ جاتی تو بھی کوئی فرق نہ پڑتا تھا ۔ لیکن آج سمارٹ فون انتہائی نازک عقل میں تیز تراز اور معمولی گرنے سے فارغ ہو سکتا ہے۔ بلکل اس طرح کل کا بچہ غربت ،افلاس اور کئی طرع کی بیماریوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا تھا اس کے مقابلے میں آج کا بچہ سخت حالات سے ناواقف، پست قد، کم برداشت اور کسی نئی بیماری کے لئے مقناطیسی کشش رکھتا ہے۔
You must be logged in to post a comment.