What Do you know about changing lifestyle-think-angle-2023

چالیس سال سے بدلتا ہوا طرزِ زندگی

    ء1980 کا انسان آج کے انسان سے بہت مختلف تھا۔ اس وقت لوگوں   کے پاس مال و دولت  نسبتاََ کم تھا  لیکن حوصلہ  اور فہم زیادہ تھے۔

لوگوں میں حسد و لالچ کم تھی۔ لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لئے وقت ہوتا تھا۔ لیکن آج ہر کوئی کسی بھٹکی ہوئی کشتی کی ماند ہے۔

اب ہم آپ کو چار دہائیوں میں بدلنے والے ان حالات سے کچھ یوں روشناس کراتے ہیں۔

۔ 1:   بچپن سے جوان،   بچپن:۔ 1980 کی دہائی  میں اگر دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پہلے بچپن معصوم ہوتا تھا اور اب بچپن جوان ہو گیا ہے۔  تیس سال پہلے پچے بچوں کی ہی طرح باتیں کرتے ہوتے تھے لیکن آج بچے بڑوں کی طرح  فہم و فراست سے بات کرتے ہیں۔ میرے ایک دوست کو  فون آیا تو  اس کے دوست نے پوچھا،"سنا ہے آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے، تو میرے دوست نے جواب دیا ۔ پہلی بات یہ ہے کہ بچہ اب دو سال کا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے غلط سنا ہے بچہ نہیں بلکہ میرا باپ پیدا ہوا ہے" آپ اندازا لگائیں کہ آج کے بچے کس قدر عقلمند ہیں کہ اسے اپنے  دو سال کے بچے کو باپ کہنا پڑا۔

       تیس، چالیس سال پہلے اور آج کے بچے کی مثال اس طرح بھی دی جا سکتی ہے کہ جیسے پاکستان میں شروع میں نوکیا 3110 آیا تھا جو کہ وزن میں بھاری اور عقل میں نومولود  لیکن مضبوط جسم کا مالک تھا۔ اسے  اگر چوٹ لگ جاتی تو بھی کوئی فرق نہ پڑتا تھا ۔ لیکن آج سمارٹ فون انتہائی نازک عقل میں تیز تراز اور معمولی گرنے سے فارغ ہو  سکتا ہے۔  بلکل اس طرح کل کا بچہ غربت ،افلاس اور کئی طرع کی بیماریوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا تھا اس کے مقابلے میں آج کا بچہ سخت حالات سے ناواقف، پست قد، کم برداشت اور کسی نئی بیماری کے لئے مقناطیسی کشش رکھتا ہے۔

 

۔  2:  خوراک:۔  ہمیں یاد ہے کہ تیس سال پہلے اپنی والدہ کی ہفتہ بھر منت سماجت کے بعد بڑی مشکل سے گھر میں سالن بنتا تھا۔ حالانکہ غربت بھی نہ تھی۔ صبح  دہی اور روٹی ، دن کے کھانے میں مکھن اور روٹی، اور رات کے کھانے میں دودھ  ، دیسی گھی میں شکر کے ساتھ چپاتی کھائے جاتے تھے۔ اس وقت آج کی طرح صبح ،دوپہر ،شام سالن ہی سالن نہ تھا۔ اور آج یہ مشہور بیماری "سینے میں جلن ہے" بلکل بھی نہ تھی جناب۔ اس وقت اگر سالن روزانہ کھایا بھی جاتا تو بھی میرے خیال میں اس قدر نقصان دہ نہ ہوتا کیونکہ اس وقت فریج عام نہیں تھے۔ آج کے حرام خور منافع خوروں کی طرح کھانا پیک کر کہ نہیں بیچا جاتا تھا۔ 

 ایک دفع کا ذکر ہے میرے دادا نے مجھے کہا کہ بیٹا میں کافی لوگوں کو پیپسی نام کے کسی شربت کے لئے روتے سنا ہے۔ ذرہ مجھے لا کر اس شربت سے واقف کروا دو آخر یہ کیسا شربت ہے کہ لوگ پیپسی ،پیپسی ، مر رہے ہوتے ہیں۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ آخر یہ چیز ہے کیا؟ خیر میں لے آیا دوکان سے" جب دادا کو گلاس بھر کر دیا تو  مجھے یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے آج کسی ٹیکسٹائل مل کا افتتاح ہونے جا رہا ہے۔ خیر دادا جان نے بڑے تجسس بھرے انداز میں پیپسی کا گلاس پکڑا اور منہ سے لگایا ایک گھونٹ بھرا ، گلے میں اتارنے سے پہلے دادا جان شربت کا معائنہ کر چکے تھے۔  اچانک دادا جان نے "پھو"کر کہ گھونٹ باہر اگل دیا اور جلد پانی منگوا کر کلی کی اور الحمدولللٰؑہ پڑھ کر مجھ سے مخاطب ہوئے اوہ تو یہ پیپسی ہے۔ میں نے عرض کی جی دادا جان۔  تو دادا جان نے کہا یہ تو بہت گھٹیا چیز ہے۔ اس سے تو لوگ بیما ہو جائیں گے۔ پھر آج آپ خود دیکھیں کہ 80٪ لوگوں کو شوگر کولڈ ڈرنک سے ہو رہی ہے۔

۔ 3:  فرد قائم ربطِ ملت سے ہے:۔ تین دہائیاں پہلے کے مقابلے میں آج قبیلہ سسٹم ٹوٹ چکا ہے۔ کوئی بھلے بھوکا مرے تو مرے ہمیں کیا۔ وہ کیا وقت تھا کہ جمعہ  چھٹی کا دن ہوتا تھا ۔ اور ہمارے علاقے میں ھر گھر چنا چاٹ بنتا تھا جسے مقامی زبان میں "گونگنیڑیاں" کہتے تھے۔  خیرات یا تحفے کے طور پر پڑوسیوں کے گھر دے آتے تھے اور خود بھی کھاتے تھے۔ پھر وقت اچانک تبدیل ہوا تو پتہ چلا کہ  اس طرح خیرات یا تحفے تو سرے سے ہے ہی غلط ، بھائی جان ہم تو چکرا گئے۔  تین دہائیاں پہلے عورت امورِخانہ داری کی ذمہ دار تھی اور  مرد خانِ خانہ دار تھا۔ اور اب کیا ہوا عورتوں نے اپنےگلے میں اضافی پھندا ڈالا ہوا ہے۔ شادی سے پہلے علیحدہ گھر کا مطالبہ علامہ اقبال کے فرمان "فرد قائم ربطِ ملت کے"بلکل متضاد ہے۔  اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

No matter the power of enemy. I can never afraid of dangers. It,s not pride. It,s gust who i am?