What do giants eat and where do they live?

جنات ایسی نظر نہ آنے والی مخلوق ہے جس کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے۔ 

جب کہ انسان اور ملائکہ مٹی اور نور سے بنائے گئے ہیں۔ 

جنات  مختلف قسم کے روپ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں جنات کا ذکر آیا ہے۔ 

قرآن شریف میں جنات کے نام پر ایک پوری  سورہ جن موجود ہے۔

 جس کی ابتدا اس آیت سے ہوتی ہے۔

 کہ جنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن پڑھتے سنا اور اسے عجیب و غریب پایا تو اپنے ساتھیوں کو بتایا اور وہ مسلمان ہو گئے۔

مجلس جن غار

شیطاں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جنوں میں سے تھا۔

 چنانچہ جب اسے حضرت آدم کو سجدہ کرنے کے لیے کہا گیا تو اس نے تکبر کرتے ہوے  ہوئے انکار کر دیا کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم مٹی سے۔ 

 

اسلام سے پہلے بھی عربوں میں جنوں کے تذکرے موجود تھے۔ اس زمانے میں سفر کرتے وقت جب رات آجاتی تھی تو مسافر اپنے اپ کو جنوں کے سردار کے سپرد کر کے سو جاتے تھے۔ جنات نے دنیا میں فتنہ و فساد برپا کر رکھا تھا۔

 قرآن میں حضرت سلیمان کے متعلق بیان کیا گیا ہے۔

 کہ ان کی حکومت جنوں پر بھی تھی۔ 

حضرت سلیمان نے جو عبادت گاہیں ’ہیکل بنوائی تھیں۔ 

وہ جنوں نے ہی بنائی تھیں۔

جنات کیا کھاتے پیتے ہیں 

عبد اللہ بن مسعود بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

 میرے پاس جنوں کا داعی آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور ان پر قرآن پڑھا فرمایا کہ وہ ہمیں لے کر گیا اور اپنے آثار اور اپنی آگ کے آثار دکھائے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زاد راہ  کھانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا۔

 کہ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھ آئے گی تو وہ گوشت ہوگی اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔

 تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں کا کھانا ہے۔

تو جنوں میں سے مومن جنوں کا کھانا ہر وہ ہڈی ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا۔

 ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لیے جس پر بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو اسے ان کے لیے مباح قرار نہیں دیا اور وہ جس پر بسم اللہ نہیں پڑھی گئی وہ کافر جنوں کے لیے ہے ۔

جنات انسان کو اذیت دے سکتے ہیں۔

 جن ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔

 اسی طرح فرمایا  گھر میں داخل ہونے سے اور کھانا کھانے  پانی پینے  اور جماع سے پہلے بسم اللہ پڑھنا شیطانوں کو گھر میں رات گزارنے اور کھانے پینے اور جماع میں شرکت سے روک دیتا ہے۔

 اور اسی طرح بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے اور لباس اتارنے سے قبل جن کو انسان کی شرمگاہ اور اسے تکلیف دینے سے منع کر دیتا ہے۔

جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔

جب انسان بیت الخلا جاتا ہے تو بسم اللہ کہے یہ اس کی شرمگاہ اور جن کی آنکھوں کے درمیان پردہ ہو گا۔

اور قوت ایمان اور قوت دین بھی شیطان کی اذیت سے رکاوٹ ہیں بلکہ اگر وہ معرکہ کریں تو صاحب ایمان کامیاب ہو گا ۔ 

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی جن سے ملا اور اس سے مقابلہ کیا تو انسان نے جن کو بچھاڑ دیا تو انسان کہنے لگا کیا بات ہے میں تجھے دبلا پتلا اور کمزور دیکھ رہا ہوں اور یہ تیرے دونوں بازو ایسے ہیں جیسے کتے کے ہوں کیا سب جن اسی طرح کے ہوتے ہیں۔

 یا ان میں سے تو ہی ایسا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں اللہ کی قسم میں تو ان میں سے کچھ اچھی پسلی والا ہوں لیکن میرے ساتھ دوبارہ مقابلہ کر اگر تو تو نے مجھے بچھاڑ دیا تو میں تجھے ایک نفع مند چیز سکھاؤں گا۔

 تو کہنے لگا ٹھیک ہے کہ تو آیۃ الکرسی {اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم  پڑھا کر۔

 تو جس گھر میں بھی پڑھے گا وہاں سے شیطان اس طرح نکلے گا کہ گدھے کی طرح اس کی ہوا خارج ہو گی تو پھر وہ صبح تک اس گھر میں نہیں آئے گا ۔ 

 

جنات سے جائز کام لیا جا سکتا ہے۔ 

شریعت میں ان سے جائز کام کروانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ شریعت کے خلاف کام لینا حرام ہے۔ 

دوسروں پر ظلم و زیادتی کرنا، کسی کے مال کو غصب کرنا، کسی کو تنگ کرنا، دوسروں کے حقوق غصب کرنا، ایسے کاموں میں جنات سے مدد لینا جائز نہیں ہے، بلکہ حرام ہے۔

جنات رہتے کہاں ہیں؟

جس زمین پر انسان زندگی گزار رہے ہیںـ

 اسی پر کچھ جن کی اقسام بھی رہتے ہیں ـ

اور ان کی رہائش اکثر خراب جگہوں اور گندگی والی جگہ ہے مثلا لیٹرینیں اور قبریں اور گندگی پھینکنے اور پاخانہ کرنے کی جگہ ـ

 تو اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان جگہوں میں داخل ہوتے وقت اسباب اپنانے کا کہا ہے ـ

اور وہ اسباب مشروع اذکار اور دعائیں ہیں 

انہی میں سے انس بن مالک کی حدیث ہے ـ

کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت الخلاء جاتے تو یہ کہا کرتے تھے

اللهم اٍني اعوذ بک من الخبث والخبائث‎ ​

ترجمہ: اے اللہ میں خبیثوں اور خبیثنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

خطابی کا قول ہے کہ الخبث یہ خبیث کی جمع ہے اور الخبائث یہ خبیثہ کی جمع ہے اور اس سے مراد شیطانوں میں سے مذکر اور مؤنث ہیں جنوں میں مومن بھی اور کافر بھی ہیں 

جنوں کے متعلق اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے۔ 

 ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بے انصاف ہیں پس جو فرماں بردار ہو گئے انہوں نے تو راہ راست کا قصد کیا اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن گئے سورہ الجن 

بلکہ ان میں سے مسلمان اطاعت اور اصلاح کے اعتبار سے مختلف ہیں ۔

سورہ الجن میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے

 اور یہ کہ بیشک بعض تو ہم میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

اور اس امت کے پہلے جنوں کا اسلام لانے کا قصہ عبد اللہ بن عباس ما کی حدیث میں آیا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کچھ صحابہ م کے ساتھ سوق عکاظ جانے کے ارادہ سے چلے اور شیطان اور آسمان کی خبروں کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور ان پر شہاب ثاقب مارے جانے لگے تو شیطان اپنی قوم میں واپس آئے تو انہیں پوچھنے لگے کہ تمہیں کیا ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کوئی چیز حائل کر دی گئی ہے اور ہمیں شہاب ثاقب مارے جاتے ہیں تو قوم کہنے لگی تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہونے کا کوئی سبب کوئی حادثہ ہے 

جو ہوا ہے تو زمین کے مشرق و مغرب میں پھیل جا‎ؤ اور دیکھو کہ وہ کون سی چیز ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان ہوئی ہے ۔

تو وہ جن تہامہ کی طرف گئے تھے وہ سوق عکاظ ( عکاظ بازار ) جانے کی غرض سے نخلہ نامی جگہ پر اپنے صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔

 تو جب جنوں نے قرآن سنا تو اس پر کان لگا لیے اور اسے غور سے سننے لگے۔

 تو کہنے لگے اللہ کی قسم یہی ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوا ہے تو وہیں سے اپنی قوم کی طرف واپس پلٹے اور انہیں کہنے لگے اے ہماری قوم ہم نے عجیب قرآن سنا ہے ۔

جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم ایمان لا چکے  اب  ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں بنائیں گے ۔

تو اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی :

 کہہ دو میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا  تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جنوں کا قول ہی وحی کیا گیا ۔

اسے بخاری نے ( 731) روایت کیا ہے ۔

قیامت کے دن ان کا حساب و کتاب :

قیامت کے دن جنوں کا حساب و کتاب بھی ہوگا۔

 مجاہد رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہا ہے کہ اور یقینا جنوں کو یہ معلوم ہے کہ وہ پیش کیے جائیں گے۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

Hi, I'm Riaz Gillani, a professional writer and content creator with a passion for crafting engaging stories and articles. With a strong background in research and writing, I deliver high-quality content that resonates with audiences. Let's collaborate and create something amazing! ✍️