ای ایم ایف سے ہمارا رشتہ کیا؟
1965میں ای ایم ایف سے پہلی بار پاکستانی صدر ایوب خان نے قرض لے کر یہ نامناسب رشتہ قایم کرکے ملک وقوم کی بنیادیں کھوکھلا کرنے کا آغاز کیا
1989میں بے نظیر بھٹو نے یہ سلسہ جاری رکھا
بے نظیر کے بعد جب نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو سٹرکچرل پروگرام کو جاری رکھا
1993 میں نواز شریف حکومت ختم ہوی تو معین قریشی وزیراعظم بن گے جو دس سال ورلڈ بنک کے سنیئر نائب صدر رہ چکے تھے
جنرل مشرف نے اپنے دور میں ڈاکٹر عشرت حسین کو سٹیٹ بنک کا صدر بنایا جو وسط ایشیای ممالک میں ورلڈ بنک کے ڈائرکٹر رہ چکے تھے یوں مشرف نے بھی ملکی تباہی میں اپنا حصہ ڈالا سخت شرائط پر قرض لیے جانے کا عمل جاری رہا
عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل اس بات کا اظہار کیا تھا کہ ہر وہ ملک جس کے متلق میں جانتا ہوں اس نے ای ایم ایف یا عالمی بنک کا قرض لیا اس نے غریب کو مزید غریب اور امیر کو مزید امیر کیا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ای ایم ایف کی سخت شرائط جو بقول عمران خان کسی زہر سے کم نہیں وہ بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور نہ چاہتے ہوے بھی رشتہ مزید مضبوط کردیا
اب دیکھنا یہ ہے کہ ای ایم ایف ہے کیا ؟
ای ایم ایف کا بظاہر تعارف کچھ یوں ہے
اس ادارے کا نام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا انٹر نیشنل مونیٹری فنڈ IMF ہے
جو ملکی معیشتوں اور ان کی باہمی کارکردگی زرمبادلہ بیرونی قرضہ جات پر نظر رکھتا ہے اور ان کی معاشی فلاح اور مالی خسارے سے بچانے کے لیے تیکنیکی مدد کرتا ہے
ای ایم ایف کے مطابق مالیاتی خسارہ سب سے اہم فیکٹر ہے جو کہ معیشت پر برے طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے
ای ایم ایف کی پالیسیوں کا مقصد کسی طور پر بھی ان ممالک کی معیشت کو بہتر کرنا نہیں سرمایہ دارانہ تصورات پر مبنی ان پالیسیوں کو اس طرح بنایا گیا کہ جو مستقل طور پر اس ملک کی معیشت کو بیرونی کمپنیوں اور امدادی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں
کیونکہ ای ایم ایف کی پالیسیوں کا تعلق پیسے کی قدر سرمایہ کاری بجٹ سازی اور ٹیکسوں سے ہوتا ہے
ای ایم ایف کے شکنجے کی وجہ سے ملکی معیشت کا کوی بھی حصہ ان کی زد سے محفوظ نہیں رہ سکتا
ای ایم ایف سے قرض حاصل کرنا یا سٹیکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام میں شامل ہونا کسی بھی مسلے کا حل نہیں بلکہ یہ خود کو مساہل کی اماجگاہ بنانے کے برابر ہے
ان مساہل کا واحد حل یہ ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام سے مکمل نجات حاصل کی جاے مگر کیسے ؟
اس بربادی کے نظام کے متبادل
اسلام کا معاشی نظام موجود ہے
اسلام نے ریاست پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ قیمتی دھات کی بنیاد پر کرنسی نوٹوں کو جاری کرے اس طرح اسلام نے افراط زر کی بنیادی وجہ ہی کا خاتمہ ہو جاتا ہے
اسلام نے سونے چاندی کو ریاست کی کرنسی کی بنیاد ٹھیرایا ہے
اسی لیے نبی کریم ﷺ نے صرف سونے اور چاندی کو کرنسی کی بنیاد بنانے کی اجازت دی ہے مسلمانوں کے لیے حکم ہے کہ سونے کے دینار اور چاندی کے درم بنا لیں جن کا وزن 4.25گرام اور 9.975گرام ہو
جس ریاست مدینہ کی بات عمران خان کرتے ہیں وہ انہی اصولوں پر رہ کر ایک ہزار سال سے بھی زاہد عرصہ تک قیمتوں میں استحکام قایم رکھنے میں کامیاب رہی سونا اور چاندی کو حقیقی قدر فراہم کرتے ہیں
جس کے نتیجے میں کرنسی کی قدر اور اشیاء کی قیمتوں میں استعکام رہتا ہے
اسلامی ریاست کے لیے لازم ہے کہ وہ کرنسی کو سونے اور چاندی کی مضبوط کو مضبوط بنیاد فراہم کرے اور منظم نظام کے زریعے سونے اور چاندی کے ذخائر جمع کرے.
nice very informational article
sir if you don't mind
can you help me how to use this web and how to type article in this website.
You must be logged in to post a comment.