What are u Know about Lalia Majno.

تاریخ میں عشق محبت کی بہت سی داستانیں گزری ہیں۔                                              
                  جن کا آج بھی بہت تذکرہ ہوتا ہے انہی میں سے ایک مشہور داستان لیلی مجنوں کی بھی ہے۔ یہ صرف داستان  نہیں تھی بلکہ حقیقی واقعہ ہے اور مختلف روایات میں تفصیلی طور پر بیان ہوا جن میں اختلافات بھی ہیں ۔بہر حال چھٹے اموی خلیفہ 685تا707 کے دور میں عرب کے ایک مشہور سردار شاہ عامری کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام قیس رکھا گیا جو بعد میں مجنو  کے نام سے مشہور ہوا۔

رسم کے مطابق شاہ عامری نے علم نجوم کے ماہرین کو بلوا کر اس کے مستقبل کے حوالے سے رائے لی تو     ماہرین نے عجیب مشورہ دیا کہ تمہارا بیٹا بارہ سال کی عمر میں صحراؤں کی چھانے گا یہ سننا تھا کہ شاہ عامری بہت پریشان رہنے لگا اور صدقہ خیرات شروع کر دیا مگر  پھر بھی سکون نہ آیا تو تدبیر کے طور پر قیس کو دمشق کے ایک مدرسے میں داخل کروا دیا۔                                                          
قیس بہت ذہین تھا مولوی صاحب اس سے بہت خوش تھے۔ ایک دن عرب نجد کے ایک سردار کی بیٹی       مدرسے میں داخل ہوئی جس کا نام لیلا تھا ایک دن اچانک قیس اور لیلی کا آمنا سامنا ہوا تو دیکھتے ساتھ ہی دونوں بے خود ہو گئے جیسے انجانی قوت دونوں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچ رہی تھی اور پھر دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ جبکہ ابھی وہ  اس عمر میں تھے کہ بچے محبت کے معنی بھی نہیں جانتے ہیں۔ پھر وہی قیس جو انتہائی ذہین اور قابل تھا پڑھائی میں پیچھے ہونے لگا۔ جب مولوی صاحب سبق پڑھا رہے ہوتے تو اسے محسوس ہوتا جیسے وہ لیلیٰ  لیلی پکار رہےہو۔                    

اور یہی کیفیت لیلی  پر بھی طاری رہتی۔ دونوں ایک دوسرے سے ملنے کو بے تاب رہتے اور پھر عجیب و غریب معمولی واقعات وقوع پذیر ہونے لگے کہ قیس کو جب استاد سے مار پڑتی تو چوٹ کے نشان لیلی کے ہاتھوں پر پڑھتے اور وہ درد بھی محسوس کرتی ۔برحال عشق چھپائے نہیں چھپتا ۔سب کو اس بات کی خبر ہوگئی۔ مولوی صاحب نے شروع میں تو سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب وہ نہ  سمجھے تو مولوی صاحب نے اس کی اطلاع لیلی  کے والد کو کر دی وہ بھاگا بھاگا آیا اور لیلی کو مدرسہ ہے ہٹا لیا۔            

لیلہ نے بہت شور مچایا لیکن والد نے ایک نہ سنی اور اسے واپس لے کر نجد چلا گیا۔ ادھر جب قیس کو پتہ چلا تو اس کی حالت غیر ہوگئی اور صحرا کی طرف نکل گیا اور ایسی دیوانگی طاری ہوئی کہ کسی چیز کا ہوش نہ رہا۔پھٹے پرانے کپڑے برا حال لیے پھرتا         رہتا،شاعری کرتا اور لیلی لیلی پکارتا رہتا۔           

پھر غیر معمولی واقعات دیکھنے میں آئے کہ قیس کے گرد وحشی  جانور جمع ہونے لگے اور اس کے پاس بیٹھے تھے جیسے اس کے دوست ہوں۔  اس کی  دیوانگی کی وجہ سے لوگ اسے مجنو  کہنے لگے۔ ادھر لیلی کی حالت بھی غیر تھی وہ بار بار گھر سے بھاگنے کی کوشش کرتی ۔اس ڈر سے اس کے والد نے اسے  گھر میں قید کر دیا کی ۔قیس کے والد نے اپنے بیٹے لی حالت دیکھ کر لیلی  کے والد سے رشتہ مانگا ۔لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں  ایک پاگل  سے اپنی بیٹی کی شادی نہیں کر سکتا۔ شاہ عامری نے اسے بہت سمجھایا کہ یہ لیلی کی وجہ سے ایسا ہے شادی ہو جائے گی تو ٹھیک ہو جائے گا لیکن وہ نہ مانا اور لیلی کی شادی  کہیں اور کر دیں۔ 
                               

شادی کی پہلی رات لیلی نے اپنے شوہر کو سب کچھ بتا دیا۔لیلی کے شوہر نے سوچا کہ اگر قیس کو مار دیا جائے تو شاید لیلی اس سے محبت کرنے لگے۔اسی وجہ سے وہ صحرا کی طرف گیا اور مجنو کو تلاش کر کے قتل کر دیا۔لیکن پھر عجیب واقعہ ہوا ۔جیسے ہی لیلی کے شوہر نے مجنو کو مارا تو اسی وقت لیلی بھی اپنے گھر میں گر پڑی اور اس کا انتقال ہو گیا ۔لیلی کا شوہر جب گھر آیا تو آگے بیوی کا جنازہ پڑا تھا۔اس نے بہت ماتم کیا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔پھر لیلی کے والد اور شوہر نے مجنو کے والد کے ساتھ مل کر ایک قبر بنائی اور دونوں کو اکھٹے دفن کر دیا۔لوگ یہ کہتے تھے کہ دونوں کا ملن ہو چکا ہے اور وہ بہت خوش ہے۔😔😔








Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

I am a articel Writter.I lovr writing. I write a unique articel.