تین فطری قوانین کیا ہیں جو ہم سب میں مشترک ہیں?
تین ایسے فطری قوانین جو سچ ہیں حق ہیں مگر ذرا کڑوے ہیں
اگر ہم بغور ان تینوں قوانین پر بغور جائزہ لیں تو ہمیں اپنا چہرہ اہنے کی طرح نظر اتا ہے بلکہ یوں کہں کہ یہ ایسا جدید طرز کا قدرتی کیمرہ ہے جس سے نہ صرف اپ کو اپنی شخصیت نظر آے گی بلکہ دوسروں کے چال چلن سے ان کی حقیقی پہچان بھی ہو جاے گی
اگر اپ نے اپنے بچوں کی تعلیم اچھے سے کر لی تربیت کے ساتھ تو جان لیجیے اور یقین کر لیجیے
آپ کے کھیت میں گندم کے بجاے گھاس نہیں نکلے گا بلکہ صاف اور شفاف گندم ہو گی جس سے اپ ترقی کی راہ پر چل پڑیں گے
اگر آپ نے اپنے بچوں کو تعلیم تو دی مگر تربیت نہیں دی تو بھی نقشہ اس طرح سامنے آے گا کہ آپ کا بچہ پڑھا لکھا جاہل کہلاے گا
اپ کے پاس جو ہے آپ وہی بانٹ سکتے ہیں آپ خوش ہیں تو خوشیاں بانٹیں گے اپ نے غم حاصل کیا تو اپ اپنے غم کے زخیرہ ہی کو تقسیم کریں گے
اپ کے پاس اگر برداشت نہیں تو آپ کھانا ہضم نہیں کرسکتے الٹی سیدھی غزا کھانے کے بعد اپ کا پیٹ خراب ہو گا اپ کے اندر بیماریوں کا آغاز ہو گا اور اپ ایک بیمار معیشت کا حصہ بن کر ملک وقوم کی تباہی میں حصہ دار بنیں گے
آیے دیکھتے ہیں وہ تین قدرتی کڑوے سچے قوانین کونسے ہیں جن پر عمل کرکے ہم خود کو آج سے بدل سکتے ہیں .
پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں دانہ نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے گھاس پھوس سے بھر دیتی ہے.
اسی طرح اگر دماغ کو اچھی فکروں سے نہ بھرا جاۓ تو کج فکری اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف الٹے سیدھے خیالات آتے ہیں اور وہ شیطان کا گھر بن جاتا ہے۔
دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ وہی کچھ بانٹتا ہے۔
خوش مزاج انسانخوشیاں بانٹتا ہے۔
غمزدہ انسان غم بانٹتا ہے۔
عالم علم بانٹتا ہے۔
دیندار انسان "دین بانٹتا ہے۔
خوف زدہ انسان خوف بانٹتا ہے۔
تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے ہضم کرنا سیکھیں اس لۓ کہ
کھانا ہضم نہ ہونے پر بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں ریاکاری بڑھتی ہے۔
بات ہضم نہ ہونے پر چغلی اور غیبت بڑھتی ہے۔
تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں غرور میں اضافہ ہوتا ہے۔
مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے دشمنی بڑھتی ہے۔
غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں مایوسی بڑھتی ہے۔
اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک با مقصد اور با اخلاق زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
خوش رہیں۔خوشیاں بانٹیں۔
بلخصوص اپنے بچوں کے تین اہم حقوق پورے کریں جو ان کے مستقبل کے ساتھ ملک و قوم کی تقدیر بھی ہے
اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ بہتر تربیت لازم قرار دیں
بچوں کی تعلیم و تربیت کے بعد ان کے بہتر روزگار کا بندوبست کریں مگر یاد رکھیں
اچھی تعلیم و تربیت دینے والے والدین کو بچوں کے لیے روزگار تلاش نہیں کرنا پڑھتا روزگار خود بھاگ کر ان کی دہلیز پر دستک دیتا ہے
روزگار کی کامیابی کے بعد ان کی اچھی شادی جس سے خوشیاں بانٹنے کا وقت شروع ہوتا ہے دو نہیں کہی خاندان ایک دوسرے سے جڑ کر بہترین معاشرے کا قیام عمل میں لاتے ہیں
یہ سب تبہی ممکن ہے جب اپ اپنے بچوں کے یہ تین حقوق پورے کریں گے تب یہ ممکن ہو گا کہ آپ کی اولاد آپ کی تربیت پر عمل کرتے ہوے اپ کے مشوروں سے روزگار کریں گے اپ کی مرضی سے شادی کریں گے اور اپنے معاشرے کا بہترین کردار ہونگے
بصورت دیگر اپ کی عدم دلچسپی اپ کی اولاد کو نافرمان لوفر تلنگا بھگوڑا سے الفاظ سے نوازے گی
آپ کا بیٹا معاشرے کا بدنماء داغ بنے گا
اپ کی بیٹی آپ کو چھوڑ کر اپنے آشناء کے ساتھ بھاگ کر اپنی زندگی کو تباہ کرنا شروع کرے گی
بغور کریں آور آج سے آنے والے دور کے لیے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کریں
You must be logged in to post a comment.