What a great advise

اگر بیوی دن بھر کے کام کاج کی تھکاوٹ کی وجہ سے شوہر کو قریب نہ آنے دے تو کیا بیوی گناہ گار ہوگی ؟

 

جواب: اول یہ مسئلہ چونکہ حیا کے خلاف ہے لیکن بہت زیادہ پوچھا جاتا ہے لہذا اسکا جواب بیان کر رہا ہوں اور بتاتا چلوں کے اس حوالے سے حدیث میں بہت واضح احکام ہیں۔

 

حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا

کہ جو عورت شوہر کو قریب نہ آنے دے اور شوہر اسکی وجہ سے ناراض ہوکر سوجاۓ تو اس عورت پر پوری رات فرشتے لعنت کرتے ہیں۔

 

وجہ اسکی واضح ہے کہ اللہ نے مرد کے اندر جنسی خواہش بہت زیادہ رکھی ہے اور اگر اس معاملے میں شوہر کا ساتھ نہیں دے گی تو مرد کے قدم گناہوں کی طرف جایئں گے۔ وہ آفس میں لڑکیاں دیکھے گا۔ ٹھرکی بنے گا جیسے کہ آج کل بن بھی رہے ہیں۔

 

عورت پر لازم ہے کہ وہ زینت اختیار کرے اور مرد کو کسی اور کے پاس جانے کے قابل نہ چھوڑے تاکہ مرد بھی اپنی بیوی سے محبت کرے اور وہ جو اِدھر اُدھر منہ مار رہا ہے اس سے بچ جاۓ۔

 

دیکھیں یورپ میں تو جرم سمجھا جاتا ہے کہ اگر شوہر بیوی کی مرضی کے بغیر بیوی کے پاس چلا جاۓ۔ وہ اس بات کو جرم سمجھتے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ یورپ والوں کے نذدیک بے حیائ کوئ جرم نہیں ہے۔ وہاں اگر کوئ مرد دن میں بیوی چھوڑ کر کسی اور عورت کے پاس چلا جاۓ تو وہ اسکو اتنا سنجیدہ نہیں لیتے لیکن اسلام کے اندر تو بیوی کے علاوہ کسی اور کے پاس جانا بہت بڑا جرم ہے کیوں کہ جب اللہ نے آپکو بیوی عطا کی ہے تو آپ اسکے علاوہ کسی اور کے پاس کیوں جارہے ہیں۔

 

لہذا اگر عورت بیمار نہ ہو۔ بیماری ایک الگ بات ہے لیکن اگر عورت بیمار نہ ہو تو عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کو اپنے قریب آنے سے روکے۔ درحقیقت شرعی مسئلہ تو یہی ہے۔

 

لیکن شوہر کو بھی چاہیۓ کہ اگر اس پر ملاقات کا بہت زیادہ غلبہ نہیں ہے اور اس سے گناہ کا بھی کوئ خطرہ نہیں ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میری بیوی کام کاج کی وجہ سے بہت زیادہ تھک گئ ہے اور اسکی نیند میں بہت زیادہ خرابی ہوگی تو شوہر کے لیۓ اخلاقیات کا تقاضہ یہ ہے کہ آپکی بیوی کہیں بھاگی نہیں جارہی زندگی بھر آپ کے ساتھ ہی ہے لہذا آپ اپنی خواہش پر تھوڑا سا قابو رکھیں۔ یہ اخلاقی تقاضہ ہے۔

 

قانون تو شوہر کے ساتھ ہے لیکن اخلاق نام کی بھی کوئ چیز ہے۔ بھائ آج ذرا صبر کرلو۔ اگر کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے تو شوہر کو چاہیے کہ بیوی کے ساتھ اخلاقیات کا مظاہرہ کرے اور بیوی کو مجبور نہ کرے۔ لیکن بہرحال شرعی قانون یہی ہے کہ عورت شوہر کو انکار نہ کرے کیوں کہ عورت کا اس میں زیادہ نقصان بھی نہیں ہے انرجی مرد کی یوٹیلائز ہوتی ہے لہذا عورت جسکا زیادہ نقصان نہیں ہورہا اور مرد جسکا بیڑا غرق ہونے کا خطرہ یے۔ اسکی رات کی نیند خراب ہوسکتی ہے پھر اگلے دن اس سے گناہ کا خطرہ ہے۔

 

کیوں کہ جب انسان کی خواہشات پوری نہیں ہوتی تو وہ درندہ بن جاتا ہے یہ جو آج کل اتنے واقعات سامنے آتے ہیں یہ اتنے ریپ ہورہے ہیں، اتنی بدمعاشیاں پھیل رہی ہیں یہ زیادہ تر وہی ہیں جن کی خواہشات پوری نہیں ہورہی وہ مطمئن نہیں ہو پارہے تو پھر وہ ان سب حرام کاریوں کی طرف جاتے ہیں۔ اس لیے شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ اس معاملے میں عورت شوہر کا ساتھ دے۔

 

رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین

 

حضرت اقدس مفتی محمد طارق مسعود صاحب۔

 

یہ تحریر ہمارے واٹس اپ گروپ میاں بیوی کا اسلام (مرد) اور میاں بیوی کا اسلام (عورت) گروپ میں پوسٹ کردی گئ ہے۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author