سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو ایک مرتبہ پھر عبوری وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھانے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وزیر اعلٰی پنجاب کے انتخاب کے دوران ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوا، حمزہ شہباز نے 179 جب کہ پرویز الہیٰ نے 186ووٹ حاصل کیے، ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے 10 ووٹ مسترد کردیے، ڈپٹی اسپیکر نے چوہدری شجاعت حسین کے مبینہ خط کو بنیاد بنا کر ق لیگ کے ووٹ مسترد کیے، جب کہ پارلیمانی پارٹی کے کردار کو نظر انداز کیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ جمہوری روایت یہی ہے کہ اسمبلی میں کسی کی بھی حمایت سے متعلق پارلیمانی پارٹی فیصلہ کرتی ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی پر پارٹی کا سربراہ رپورٹ کرسکتا ہے۔

پرویز الہیٰ کے وکیل عامر سعید نے کہا کہ حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ کا حلف لے لیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا، ہمیں آئین اور قانون کی بات کرنی ہے۔ آپ لوگ بھی ذرا صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں، ڈپٹی اسپیکر آ کر بتائیں گے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پر رولنگ دی۔
سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو طلب کرکے سماعت 2 گھنٹوں کے لیے ملتوی کردی۔
اس موقع پرعدالت نے تحریری حکم نامہ بھی جاری کیا۔ جس میں لکھا گیا کہ بظاہر معاملہ معاملہ کافی پیچیدہ لگتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی قیمتی رائے سے عدالت کی معاونت کریں گے۔
ڈپٹی اسپیکر کہاں ہیں؟
وقفے کے بعد عدالت کے روبرو ڈپٹی اسپیکر کی نمائندگی کیلئے عرفان قادرپیش ہوئے۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے عرفان قادر سے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کو طلب کیا تھا وہ کیوں نہیں آئے، جس پر ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میں موجود ہوں عدالت کی معاونت کروں گا۔
ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ عدالتی فیصلے کے متعلقہ پیراگراف اور گزشتہ کئی فیصلوں میں مختلف تشریحات سامنے آئی ہیں، ان کے موکل نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رولنگ دی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے عرفان قادر سے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے پارلیمانی لیڈر کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ ہے، اس میں ابہام کہاں ہے؟
عرفان قادر نے کہا کہ خود کو ڈپٹی اسپیکر کی جگہ پر رکھیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کی رُولنگ کو درست سمجھا کیونکہ پارلیمانی پارٹی کا سربراہ پارٹی سربراہ ہوتا ہے۔
ڈپٹی اسپیکر کے وکیل کی دلیل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کی رُولنگ کو غلط سمجھا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ فرض کرلیں اسپیکر کی رولنگ غلط تھی تو پھر اگلا قدم کیا ہو گا؟
سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کے وکیل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ ڈپٹی اسپیکر کے ہاتھ میں چوہدری شجاعت کا خط تھا، ہم وہ خط دیکھنا چاہتے ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے اس خط کی بنیاد پر رولنگ دی ہے۔
دوران سماعت عدالت نے عرفان قادر سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں آپ کی رائے یہی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ درست تھی، آپ کے موکل جس دفتر کی سربراہی کررہے ہیں اس پر گہرے بادل ہیں۔
صوبے کو بغیر گورننس نہیں چھوڑ سکتے
سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم نامے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نے پارٹی سربراہ کے خط پر ووٹ شمار نہ کرنے کی رولنگ دی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے 17 مئی کے فیصلے پر انحصار کیا گیا لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس حصے پر انحصار کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم نامے میں کہا کہ صوبے کو بغیر گورننس نہیں چھوڑ سکتے، حمزہ شہباز پیر تک بطور ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کام جاری رکھیں، حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق چلیں۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ حمزہ شہباز ایسے اختیارات استعمال نہیں کریں گے جس سے ان کو سیاسی فائدہ ہو صوبے میں میرٹ سے ہٹ کر تقرریاں ہوئیں تو اس کو کالعدم قرار دیں گے۔
3 رکنی بینچ پیر کو اسلام آباد میں درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ کیس کی سماعت کے دوران ڈپٹی اسپیکر عدالت عظمیٰ میں موجود رہیں گے۔
درخواستوں میں موقف
وزارت اعلیٰ کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے گزشتہ رات سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ درخواستوں میں ڈپٹی اسپیکر، مسلم لیگ ق، چوہدری شجاعت اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے انتخابا کے دوران ڈپٹی اسپیکر نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔
مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے 21 جولائی کو لکھا گیا خط ڈپٹی اسپیکر کے پاس موجود تھا کسی اور کے پاس نہیں تھا۔ ڈپٹی اسپیکر نے پارٹی لیڈر کا اصل خط کسی تصدیق کے بغیر قبول کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
کیس کا پس منظر
24 جولائی کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا انتخاب ہوا تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی نے 186 جب کہ حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لئے تھے۔
ڈپٹی اسپیکر نے چوہدری شجاعت حسین کے خط کی بنیاد پر مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹوں کو شمار نہیں کیا ، اس موقع پر انہوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی پڑھا۔
ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے تحت حمزہ شہباز کو کامیاب قرار دیا گیا۔ حمزہ شہباز نے ہفتے کی صبح دوبارہ اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھالیا۔
دوسری جانب چوہدری پرویز الہٰی نے رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔
You must be logged in to post a comment.