پاکستانی نظامِ عدل کی خامیاں
واردات اور اسکی ابتدائی تحقیقات
پاکستانی نظام عدل کا جائزہ پیش کرنے کے لئے ہم آپ کے سامنے کسی علاقے میں ہونے والے قتل کیس کو ٹیسٹ کے طور پر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آج کوئی شخص گھر سے نکلا اور قتل ہو گیا ہے۔
الف:- سب سے پہلے پولیس کو رپورٹ ملی تو پولیس نے جائے حادثہ سے لاش اٹھا کر پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال بھیج دی۔
ب:- لواحقین نے تھانے آ کر ابتدائی رپورٹ اس طرح کٹوائی جیسے وہ جائے حادثہ پر موجود تھے۔ اور ان کو یہ بھی پتہ تھا کہ قاتل نے کس چیز سے قتل کیا ہے۔ یہ بات نہ ممکن ہے کہ اگر کسی کا کوئی عزیز قتل ہو رہا ہو اور وہ کھڑا صرف اس لئے تماشادیکھ رہا ہو تاکہ اسے پولیس رپورٹ کٹوانے میں آسانی ہو گی۔
ت:- اس کے بعد پولیس جائے حادثہ سے شوائد اکٹھے کرتی ہے۔ اور اس کام کے لئے ایک انسپیکٹر سے خدمات لی جاتی ہیں۔ اس انسپیکٹر کی کوالیفیکیشن بمشکل میٹرک یا انٹرمیڈییٹ ہوتی ہے۔ اس انتہائی نازک معاملے کی ابتدائی تحقیقات آگے جا کر متعلقہ عدالت میں زیرِ بحث آتی ہیں۔
ث:- انویسٹیگیٹر قاتل کو گرفتار کر کے اس سے آلہ قتل کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔ اگر لواحقین نے آلہ قتل غلط لکھوا دیا ہو تو قاتل وہی آلہ قتل دے دیتا ہے۔ حالانکہ قاتل نے اس آلہ قتل سے کام نہیں کیا ہوتا ہے۔ اور پوسٹ مارتم رپورٹ اس کے برعکس آتی ہے۔ اسطرح قاتل کو فائدہ پہنچتا ہے۔
عدالتی کاروائی اور فیصلہ
اب کیس عدالت میں بحث کے لئے مقرر ہو جاتا ہے۔ تو ملزم اور مدعی کے وکلاء بحث شروع کرتے ہیں۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے کی ایف آئی آر ایک اَن پڑھ شخص نے کٹوائی تھی اور رپورٹ لکھنے اور ابتدائی تحقیقات کرنے والا میٹرک پڑھا ہوا ہے۔ اس میں خامیاں نکالنے والا ملزم کا وکیل ایل-ایل-بی یا پھر ایل-ایل-ایم ہے تو یہاں انصاف ملنے کے چانس کم ہو جاتے ہیں۔ایک اور بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اگر ایف آئی آر،پوسٹ مارٹم رپورٹ ،ان پڑھ گواہوں کے بیان اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں ذرہ بھر تضاد نکل آئے تو قاتل بے گناہ ہو جائے گا۔ انصاف کرتے وقت جج مقتول کے علاقے میں عوامی رائے اور پولیس کے فیلیئر سے کوئی سروکار نہیں رکھتا ہے۔ پولیس اور عدالت کے پاس انٹیلی جینس کا کوئی سسٹم موجود ہی نہیں ہے۔اگر ہےبھی تو ہائی پروفائل کیسس کے لئے دستیاب ہوتا ہے۔ دوسری صورت میں اگر قاتل کوگناہ گار سمجھ کر سزا سنا دی جاتی ہے ۔ وہ عدالت عالیہ میں اپیل کرتا ہے۔
عدالتِ عالیہ میں اپیل
اس عدالت میں اپیل پر دو سال بعد کاروائی شروع ہوتی ہے۔ اول تو کیس کا ایک آدھا گواہ مر چکا ہوتا ہے ورنہ اس عدالت کا صرف کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ماتحت عدالت کے فیصلے میں خامیاں تلاش کرتی ہے۔ دوسرا یہ عدالت بدقسمتی سے جائے حادثہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہوتی ہے۔ وہاں تک مقتول کے لواحقین کی چیخیں پہنچ ہی نہیں سکتی ہیں۔ اور اس طرح قاتل یا تو بری ہو جاتا ہے یا پھر محض علامتی سزا پاتا ہے۔
عدالت عالیہ کا فیصلہ
تمام ثبوتوں اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں یہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کی ملزم فلاں ابنِ فلاں بے گناہ ہے اور ملزم کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔ دی کورٹ از ایکس وائی زیڈ۔ اب معزز جج کو چاہیئے تھا کہ فیصلہ صادر کرتے وقت یہ بھی فرما دیتے کہ قتل آسماں سے آ کر کسی اور مخلوق نے کیا ہے۔دوسری صورت میں از سرِ نو کیس کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دے دیتےتو کیا ہی اچھا ہوتا۔ اور ہاں ساتھ ملزم سے معافی بھی مانگ لیتے کہ آپ تو بے گناہ تھے اور ہماری نالائقی کی وجہ سے دس بارہ سال سے پابندِ سلاسل رہے۔
حصولِ انصاف کے اخراجات
ماتحت عدالت میں تین سال کیس چلتا ہے۔ یہ عدالت مقتول کے گھر سے تیس کلومیٹر دور ہو سکتی ہے۔ وکلاء کی بھاری فیسیںاوردوسری طرف مقتول کے بعد اس کے گھر میں معاشی خلیج انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ایک نظر وکلاء پر
میں نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں کبھی نہیں سنا کہ فلاں وکیل نے کسی کا کیس محض اسلئے لینے سے انکار کیا ہو کہ ملزم نے واقعتاََ گناہ کیا تھا اور وکیل صاحب جھوٹی وکالت نہ کرتے تھے۔ بلکہ یہاں سب حلال ہے۔
غریب اور امیر کی تفریق
پاکستان میں عدالتِ عالیہ جزوی طور پر اور عدالتِ عظمیٰ خاص طور پر سیاسی اور ہائی پروفائل کیسس کے لئے دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ درجنوں ہتکِ عزت کے کیس زیرِ بحث ہیں۔ کوئی نا اہل ہو رہا ہے تو کوئی سیاست دان اہل ہو گیا ہے۔ سارا میڈیا پچیس ایکڑ کے اسلام آباد میں لاکھوں خبریں ایک دن میں اکٹھی کرتا ہے۔
Nice info
You must be logged in to post a comment.