what وہ مانع حمل دوا جو پیدائش میں وقفہ تو نہ کروا سکی لیکن لاکھوں زندگیاں بچانے میں مددگار ثابت ہوئی

یہ معاملہ 1962 میں انگلینڈ کی کاؤنٹی چیشائر میں شروع ہوا تھا۔ امپیریل کیمیکل انڈسٹریز (آئی سی آئی) نامی کمپنی ایک ایسے کمپاؤنڈ (مرکب) پر تحقیق کر رہی تھی جس نے بچوں کی پیدائش پر قابو پانے والی گولی (ٹیبلیٹ) بنانے کا عزم کیا تھا اور بظاہر لگ رہا تھا کہ وعدہ پورا بھی ہو جائے گا۔

آئی سی آئی 46474 کے نام سے جانا جانے والا یہ فارمولہ ایک خاتون کیمسٹ ڈورا رچرڈسن نے اس دور میں غیر معمولی طور پر مرتب کیا تھا اور جس نے واقعتاً چوہوں میں مانع حمل اثرات مرتب بھی کیے تھے۔

ممکنہ طور پر یہ صبح لی جانے والی دوا بننے جا رہی تھی، بالکل ویسی گولی، جسے کچھ خواتین حمل کو روکنے کے لیے انٹرکورس کے چند گھنٹوں بعد لیتی ہیں۔

لیکن تقریباً ایک دہائی بعد یہ علم میں آیا کہ انسانوں میں اس مانع حمل دوا کا الٹا اثر ہوا اور خواتین میں زرخیزی کو روکنے کی بجائے اس نے بیضہ دانی کو متحرک کر کے حمل ٹھرنے کے کیسز میں اضافہ کیا۔

ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد اس کیمیائی فارمولے کے ساتھ ہونے والی تحقیق کو مکمل طور پر ترک کر دیا جاتا اگر سائنسدانوں کی ٹیم کے رہنما آرتھر والپول نے مداخلت نہ کی ہوتی۔

آرتھر والپول نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس پروجیکٹ کو آگے نہیں بڑھایا گیا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

اس مرکب کی تحقیق میں مانع حمل کے ساتھ چھاتی کے کینسر کے علاج کے ٹرائلز بھی کیے گئے تھے۔1971 میں اس مرکب کا پہلا کلینیکل ٹرائل مانچسٹر کے کرسٹیز ہسپتال میں کیا گیا تھا، جس میں اس کے مثبت نتائج کے ساتھ پریشان کن ضمنی اثرات کے کم واقعات سامنے آئے تاہم ان نتائج سے بھی آئی سی آئی مطمئن نہ ہو سکی۔جیسا کہ ڈورا رچرڈسن نے ڈرگز سے متعلق اپنی یاداشتوں میں بیان کیا کہ "والپول اور ان کے ساتھیوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ وہ پیدائش میں وقفے کی گولی کی تلاش میں تھے نہ کہ کینسر کے خلاف دوا بنانا ان کی تلاش تھی۔" اس فیلڈ میں کمپاؤنڈ کی افادیت کے بڑھتے ہوئے طبی شواہد کے باوجود جزوی طور پر بیماری سے وابستہ خراب تشخیص کی وجہ سے کینسر کی دوائی کی مارکیٹ کو کم اہم سمجھا جاتا تھا۔آئی سی آئی کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تیار کردہ فروخت کے تخمینوں نے اندازہ لگایا کہ یہ کبھی بھی تحقیق اور ترقی کے اخراجات کو پورا نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی کمپنی کے لیے مناسب منافع پیدا ہو سکے گا۔اس دوا کی تحقیق کو بعد میں آگے لے جانے والے پروفیسر وی کریگ جارڈن کا کہنا تھا کہ یہ تمام معلومات فارماسیوٹیکل تاریخ میں موجود ہیں تاہم جب تک کمپنی نے پروگرام کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اس وقت تک چھاتی کے کینسر کے ٹرائلز کی متعدد اشاعتیں ہو چکی تھیں، جس کے باعث اس مرکب میں دنیا بھر میں دلچسپی پیدا ہونے لگی تھی۔اس طرح کے دباؤ کے تحت آئی سی آئی کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا اور پروجیکٹ کو بچا لیا گیا۔فروری 1973 میں آئی سی آئی نے پروڈکٹ لائسنس کے اجرا کے لیے درخواست دی اور اسی سال برطانیہ میں نولواڈیکس نامی دوا کو مانع حمل اور چھاتی کے کینسر کے علاج کے لیے شروع کیا گیا۔

لیکن یہ دوا ابھی تک آئی سی آئی کی شیلف پر مزید تحقیق کے مرحلے میں تھی تاہم ناکافی فنڈز اس راہ میں حائل ہو رہے تھے۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

No matter the power of enemy. I can never afraid of dangers. It,s not pride. It,s gust who i am?