بالی وڈ کے معروف اداکار اکشے کمار نے منگل کو انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ وہ ایک بار پھر سے انڈین شہری بن گئے ہیں۔
انھوں نے سوشل میڈیا پر اس بات کا اظہار کیا کہ انھوں نے پھر سے انڈین شہریت حاصل کر لی ہے اور اس کے ساتھ انھوں نے اپنے دستاویزات بھی شیئر کیے۔
اکشے کمار کے ٹویٹ کے بعد ان کے مداحوں نے انھیں ایک بار پھر سے انڈین شہری بننے پر مبارکباد دی اور ان کا خیر مقدم کیا۔ بعض افراد نے اس کے حوالے سے "گھر واپسی‘ کی بات بھی کہی۔
واضح رہے کہ اکشے کمار کو کینیڈا کی شہریت کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہتا تھا۔
اکشے نے کینیڈا کی شہریت کیوں لی تھی؟
اس بارے میں اکشے کمار نے ماضی میں بتایا تھا کہ نوے کی دہائی میں اُن پر ایک وقت ایسا آیا تھا جب ان کا کریئر مشکل دور سے گزر رہا تھا۔
خبر رساں ادارے ’پی ٹی آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ان کی 15 فلمیں لگاتار فلاپ ہوئی تھیں۔
اکشے کمار نے کہا تھا کہ پھر حالات ایسے ہو گئے کہ انھوں نے کینیڈین شہریت کے لیے درخواست دے دی۔
جب سنہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں وہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکے تو ان کی شہریت کے بارے میں سوشل میڈیا پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ انڈین شہریت کے حامل ہوتے ہوئے آپ کسی دوسرے ملک کی شہریت نہیں رکھ سکتے۔
مودی کا انٹرویو
وزیر اعظم نریندر مودی نے فلم اداکار اکشے کمار کو ایک انٹرویو دیا تھا جو 24 اپریل 2019 کو نشر ہوا تھا۔ 67 منٹ کا یہ انٹرویو ملک کے بیشتر نیوز چینلز پر نشر کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والے اس انٹرویو میں اکشے کمار نے نریندر مودی سے ان کے روزمرہ کے معمولات، کھانے پینے کی عادات، ان کی پسند و ناپسند اور بچپن کی کہانیوں پر منبی سوالات پوچھے تھے۔
اکشے کمار نے اسے ’غیر سیاسی انٹرویو‘ قرار دیا تھا اور وزیراعظم مودی نے بھی انٹرویو کے دوران خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں خوشی ہے کہ وہ الیکشن کے وقت غیر سیاسی انٹرویو دے رہے ہیں۔
یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ میں شامل تھا اور اس وقت بھی اکشے کمار کی شہریت پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ مودی نے یہ انٹرویو بالی وڈ میں کام کرنے والے انڈین نژاد کینیڈین شہری کو دیا ہے۔
انڈین شہریت کے لیے درخواست
سنہ 2019 میں ہی ایک تقریب کے دوران اکشے کمار نے عوامی طور پر یہ بات کہی تھی کہ انھوں نے انڈین شہریت کے لیے درخواست دے دی ہے۔

’ہندوستان ٹائمز لیڈر شپ سمٹ‘ کے دوران اکشے کمار نے کہا کہ انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انھیں اپنی ہندوستانیت ثابت کرنے کے لیے کسی دستاویز کی ضرورت ہو گی۔
اس کے متعلق انھوں نے مزید کہا کہ ’14 فلموں کی مسلسل ناکامی کے بعد، میں نے سوچا کہ مجھے کچھ اور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کینیڈا میں رہنے والے میرے ایک قریبی دوست نے مجھے وہاں آنے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا کہ ہم مل کر کسی چیز پر کام کریں گے۔
وہ بھی انڈین ہیں اور وہیں رہتے ہیں۔ میں نے وہاں کا پاسپورٹ حاصل کیا کیونکہ میں نے سوچا کہ یہاں میرا کریئر ختم ہو گیا ہے۔ لیکن پھر میری 15ویں فلم ہٹ ہو گئی اور اس کے بعد میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں آگے بڑھتا رہا لیکن میں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ مجھے اپنا پاسپورٹ تبدیل کر لینا چاہیے۔
لیکن شہریت پر تنازع کے بعد انھوں نے انڈین پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا۔
اکشے نے اسی تقریب میں بتایا: ’میں نے اس (شہریت) کے لیے درخواست دے دی ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ لوگوں نے اسے ایک ایشو بنا لیا ہے کہ مجھے اپنا ہندوستانی ہونا ثابت کرنے کے لیے پاسپورٹ دکھانا ہو گا۔ یہ بات مجھے پریشان کرتی ہے اور میں کسی کو موقع نہیں دینا چاہتا۔ اسی لیے میں نے انڈین پاسپورٹ کے لیے درخواست دی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’میری اہلیہ انڈین شہری ہیں اور میرا بیٹا بھی ہندوستانی ہے۔ میرے خاندان میں ہر کوئی انڈین ہے۔ میں یہاں اپنا ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ میری زندگی یہیں ہے لیکن کچھ لوگ کچھ اور ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر مبارکباد
اکشے کمار کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اکشے کمار ٹرینڈ کرنے لگے۔ ان کے نام کے ہیش ٹیگ کے ساتھ جہاں لوگ انھیں مبارکباد دے رہے تھے وہیں ان کے مداح ان کے ناقدوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
موہت گپتا نامی صارف نے لکھا کہ "آخرکار نفرت کرنے والوں کی زبانیں بند ہو گئیں۔‘ اس کے ساتھ انھوں نے دل اور بازو اور سٹار کی ایموجیز بھی ڈالی ہے۔ ان کے ساتھ اس طرح کی باتیں بے شمار مداحوں نے لکھی ہیں۔
اپا منیو بھٹا چاریہ نامی ایک صارف نے لکھا: ’مبارکباد۔ اب آپ کو اپنی حب الوطنی ظاہر کرنے کے لیے چاپلوسی والی فلمیں بنانے کی ضرورت نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی کامیڈی کے میدان میں واپس جائیں۔
ٹوئٹر پر اکشے کمار کے 46 ملین فالوورز ہیں اور وہ اس معاملے میں شاہ رخ خان سے آگے ہیں۔
اکشے کمار کی ابتدائی کہانی
9 ستمبر 1967 کو کشمیری ماں اور پنجابی والد کے ہاں پیدا ہونے والے راجیو بھاٹیہ نے ایک بار اپنے والد سے ڈانٹ پھٹکار سننے کے بعد کہا تھا کہ اگر پڑھوں گا نہیں تو ہیرو بن جاؤں گا۔

You must be logged in to post a comment.