whatلاہور کو لاہور کیوں کہتے ہیں؟

 لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور انتظامی لحاظ سے صوبہ پنجاب کا صوبائی دار الحکومت ہے۔ پاکستان میں لاہور شہر ایک تاریخی،تجارتی اور ثقافتی مقام رکھتا ہے ۔

 لاہور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس شہر کو پرانے زمانے میں لوپور کہا جاتا تھا کیونکہ اسے لو نے آباد کیا تھا اور اس کے جڑوا بھائی کُش نے قصور کو آباد کیا تھا، لو اور کُش دونوں ہندو دیوتا رام کے دو بیٹے تھے جن کا ذکر ہندو مذہبی کتاب راماین میں تفصیل سے ہوا ہے۔ اس شہر کا پرانا نام لوپور (معنی:لو کا علاقہ/شہر) ہوا کرتا تھا بعد میں اسے لاہور کہا جانے لگا، لاہور دو الفاظوں کا مرکب ہے لوہ یا لاہ جس کا مطلب لَو اور آور جس کا مطلب قلعہ ہے، یعنی لاہور کا مطلب لو کا قلعہ ہے

اس کے علاوہ لاہور کے بارے میں سب سے پہلے چین کے باشندے سوزو زینگ نے لکھا جو ہندوستان جاتے ہوئے لاہور سے 630 عیسوی میں گزر رہے تھے۔ اس شہر کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں عوام میں مشہور ہے کہ رام چندر جی کے بیٹے "لوہو" یا لَو نے یہ بستی آباد کی تھی۔ قدیم ہندو "پرانوں" میں لاہور کا نام "لوہ پور" یعنی لوہ کا شہر ملتا ہے۔ راجپوت دستاویزات میں اسے "لوہ کوٹ" یعنی لوہ کا قلعہ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ نویں صدی عیسوی کے مشہور سیاح "الادریسی" نے اسے "لہاور" کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ قدیم حوالہ جات اس بات کے غماز ہیں کہ اوائل تاریخ سے ہی یہ شہر اہمیت کا حامل تھا۔ درحقیقت اس کا دریا کے کنارے پر اور

ایک ایسے راستے پر جو صدیوں سے بیرونی حملہ آوروں کی راہ گزر رہا ہے، واقع ہونا اس کی اہمیت کا ضامن رہا ہے۔"فتح البلادن میں درج سنہ 664 عیسوی کے واقعات میں لاہور کا ذکر ملتا ہے جس سے اس کا اہم ہونا ثابت ہوتا ہے۔

 لاہور (پنجابی: لہور‎)، صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور دوسرا بڑا شہر ہے۔ [9] اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے پر واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔ [10] اس شہر کی معروف زبان پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح، پنجابی زبان ہے۔

 لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور برصغیرکے اہم شہروں میں سے ایک ہے اور اسے پاکستان کے دل کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے، پاکستانی اور غیرملکی شہری کسی نہ کسی وجہ سے لاہور آتے جاتے رہتے ہیں لیکن آپ جانتے ہیں کہ لاہور کا نام لاہور ‘ کیسے پڑا؟

ہندﺅں کے دیوتا راما کے بیٹے لاوا کے بعد لاہور نام پڑا،

 لاوا کو لوہ سے پکارا جاتا تھا اور لوہ (لاوا) کیلئے تعمیر کیا جانیوالا قلعہ ’لوہ، آور‘ سے مشہور ہوا

 جس کا واضح معنی ’لوہ کا قلعہ ‘ تھا۔ اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر ’لوہ آور لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا جس طرح سیوستان سبی اور شالکوٹ، کوٹیا اور پھر کوئٹہ میں بدل گیا۔

 دونوں نظریات صدیوں پرانی برصغیر کی کہانیاں بیان کرتی ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکت اہے کہ لاہوراس وقت بھی کتنا معروف تھا جب اس کا اپنا نام ہی نہیں تھا، یہ نظریہ چاہے ہندو دیوتا کا ہو یا پھر ہندو بھائیوں کا، شہرلاہور واقعی دنیا کا تاریخی شہر ہے ۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author