Top Story - میرا جادوئی گھر and غلط مشورہ

ایک ادیب کی بیوی نے اس سے کہا آپ بہت کہانیاں لکھتے ہیں،آج میرے لئے بھی کچھ لکھیں پھر مانوں گی کہ واقعی آپ ادیب ہیں۔
ادیب نے کہا:”ٹھیک ہے،اس کہانی کا نام میرا جادوئی گھر ہو گا۔

 


میں،میری بیوی اور بچے ایک جادوئی گھر میں رہتے ہیں۔ہم اپنے میلے کچیلے کپڑے اُتارتے ہیں،جو اگلے ہی دن صاف ستھرے ہو جاتے ہیں۔بچے اسکول سے اور میں آفس سے آتے ہی جوتے اِدھر اُدھر اتار دیتے ہیں،پھر اگلے دن صبح وہ پالش شدہ صاف جوتے پہن کر جاتے ہیں۔

 

ہر روز رات کو کوڑے والی باسکٹ کچرے سے بھری ہوتی ہے اور اگلے دن صبح سویرے ہی وہ خالی ہوتی ہے۔
میرے جادوئی گھر میں بچے کھیلتے ہوئے ہر چیز بکھیر دیتے ہیں،لیکن اگلے ہی لمحے گھر صاف ستھرا ہو جاتا ہے اور ان کے کھیلوں کا سامان اپنی جگہ پر ترتیب سے رکھ دیا جاتا ہے۔

روز میرے جادوئی گھر میں میرے بچوں اور میری پسند کے مختلف کھانے بنتے ہیں۔میرے جادوئی گھر میں ہر روز تقریباً سو بار ماما،ماما کہا جاتا ہے۔
”ماما!ناخن تراش کہاں ہے؟“
”ماما!میرا ہوم ورک مکمل کروائیں۔“
”ماما!بھیا مجھے مار رہا ہے۔

 


”ماما!بابا جانی آ گئے۔“
”ماما!آج مجھے اسکول لنچ بکس لے کر نہیں جانا۔“
”ماما!آج بریانی بنائیں۔“
”ماما!مجھے سینڈوچ بنا کر دیں۔“
”ماما!مجھے واش روم جانا ہے۔“
”ماما!یہاں میری بک پڑی تھی،اب نہیں ہے۔

 


رات سونے سے پہلے آخری لفظ ماما اور صبح اُٹھتے ہی پہلا لفظ ماما میرے جادوئی گھر میں سننے کو ملتا ہے۔کوئی اس جادوئی گھر کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوا ہو گا،حالانکہ ایسا گھر بیشتر لوگوں کے پاس ہے،مگر کسی نے اس گھر کے جادوگر کا شکریہ ادا کیا ہو گا۔

 

ان جادوئی گھروں کا جادوگر کوئی اور نہیں،بلکہ ہر سمجھ دار خاتون ہے،جو اپنے اپنے گھروں میں ایسے جادو کرتی ہے۔اللہ سلامت رکھے ہر اس ماں کو،جن کے صبر اور نہ ختم ہونے والے کاموں کی وجہ سے ہر گھر میں رونق ہے

 

ایک گاؤں میں ایک کسان تھا،جسے جانوروں کی بولی سمجھ میں آتی تھی۔ایک شام کسان اپنے باڑے میں چارا ڈالنے گیا۔اس وقت کسان کا بیل اور گھوڑا آپس میں باتیں کر رہے تھے۔کسان کان لگا کر اُن دونوں کی بات چیت کو دھیان سے سننے لگا۔

 

بیل اُداسی سے گھوڑے سے کہہ رہا تھا:”واہ گھوڑے بھائی!تمہارے تو جب دیکھو ٹھاٹ ہی ٹھاٹ ہیں۔دونوں وقت کی مالش سے تمہارا جسم چم چم کرتا رہتا ہے۔ کھانے کے لئے چنے بھی تمہیں خوب ملتے ہیں،پھر مالک کو پیٹھ پر بیٹھا کر اِدھر اُدھر گھومنے پھرنے بھی جاتے ہو۔

 

ایک میں ہوں کہ دن بھر کھیت میں لگے رہتا ہوں۔ذرا بھی سستا یا نہیں کہ مالک کے کوڑے پیٹھ پر دنا دن برسنے لگتے ہیں اور شام کو واپس آؤ تو یہ روکھا سوکھا چارا کھانے کو ملتا ہے۔

گھوڑے نے یہ سُن کر اتراتے ہوئے کہا:” اداس کیوں ہوتے ہو بیل بھائی!میں جیسا کہوں،تم ویسا کرو تو تم بھی میری طرح شان وشوکت سے رہ سکتے ہو۔

 


بیل نے بے تابی سے کہا:”جلدی جلدی بتاؤنا گھوڑے بھائی کہ مجھے شان وشوکت سے جینے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟“گھوڑے نے ہنستے ہوئے بیل سے کہا:”آسان کام ہے ،کل جب مالک کے نوکر تمہیں لینے کے لئے آئیں تو اُنھیں خود کو چھونے نہ دینا،اُنھیں سینگ دکھانا،ایک دم عجیب وغریب حرکتیں کرنا،زمین پر لیٹ جانا،کچھ مت کھانا اور منہ سے سفید جھاگ نکالنے لگنا،بس پھر تو تمہارا عیش ہی عیش ہو گا۔

 


سیدھے سادھے بیل کو غلط مشورہ دیتے ہوئے گھوڑے کو دیکھ کر کسان نے یہ ٹھان لیا کہ وہ ایک نہ ایک دن گھوڑے کو ضرور بہ ضرور اچھا سبق سکھائے گا کہ وہ آیندہ کبھی بھی کسی جانور کو غلط مشورہ دینے کی کوشش نہیں کرے گا۔دوسرے دن جب کسان کے نوکر بیل کو لینے گئے تو بیل نے گھوڑے کے دیے ہوئے غلط مشورے پر عمل کرتے ہوئے ایسی آودھم مچائی کہ نوکروں کے چھکے چھوٹ گئے اور وہ ڈر کر بھاگے بھاگے کسان کے پاس پہنچے اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔

 


کسان نے بیل کی حالت جانچنے کا ناٹک کرتے ہوئے کہا کہ:”لگتا ہے بے چارا بیل بہت زیادہ محنت ومشقت کرنے سے بیمار پڑ گیا ہے اس لئے آج سے یہ آرام کرے گا اور بیل کی جگہ آج سے گھوڑے کو بل میں جوتا جائے گا اور جب تک بیل اچھا نہیں ہو جاتا کھیت میں گھوڑا ہی کام کرے گا۔

 

“اب تو گھوڑے کی شامت آگئی۔ دن بھر کھیت میں کوڑے کھا کھا کر گھوڑے کی ساری شان وشوکت نکل گئی۔وہ من ہی من میں پچھتانے لگا کہ اس نے بیل کو غلط مشورہ دے کر اچھا نہیں کیا۔
ایک ہفتے بعد کسان نے جان بوجھ کر گھوڑے اور بیل کے لئے ایک ہی جگہ پر گھاس ڈالی تاکہ وہ جان سکے کہ دونوں کے درمیان کیا بات ہوتی ہے؟گھوڑے کو دیکھ کر بیل چہکتے ہوئے بولا:”واہ دوست !کیا مشورہ دیا تم نے:میں تو قسمت سے راجا ہو گیا اب تو کچھ کام نہیں کرنا پڑتا اور وقت وقت پر ہرا ہرا تازہ چارا کھانے کو ملتاہے۔

 

“یہ سُن کر گھوڑا بھانپ گیا کہ بیل کی نیت اب کام پر جانے کی نہیں ہے۔گھوڑے نے دل میں سوچا اگر بیل اپنے کام پر نہیں جائے گا تو اسی طرح کچھ دن اور کھیت پر کام کرتے کرتے وہ تو پر لوک سدھار جائے گا ،اس نے کچھ سوچتے ہوئے بیل سے کہا:”دوست !بڑے دکھ کے ساتھ تمہیں کہنا پڑ رہا ہے کہ مالک نے تمہیں ایک قصائی کو بیچ دیا ہے ،کیوں کہ مالک کی نظر میں اب تم کسی بھی کام کے نہیں رہے۔

 

یہ دیکھ بھال اور دو وقت کا ہراہرا چارا اس لئے دیا جا رہا ہے کہ تم صحت مند ہو جاؤ اور قصائی سے اُس حساب سے اچھی رقم وصول کی جاسکے۔“یہ سنتے ہی بیل سوکھے پتے کی طرح تھر تھر کانپنے لگا اور گھبراتے ہوئے اس نے گھوڑے سے کہا کہ:”گھوڑے بھائی!اب تم ہی مجھے بچانے کی کوئی ترکیب نکالو،میں اس طرح ناٹک کرکے مرنا نہیں چاہتا ہوں۔

 


گھوڑے نے تیر نشانے پر لگتا دیکھ کر کہا کہ:”کل سے بیمار ہونے کا ناٹک مت کرنا،مالک کو تم بھلے چنگے لگوگے تو وہ تمہیں نہیں بیچے گا۔“
گھوڑے کی چالاکی دیکھ کر کسان زو رسے ہنس پڑا۔دوسرے دن بیل کو بھلا چنگا دیکھ کر کسان نے اُسے پھر سے کھیت پر بلوالیا۔اور گھوڑے نے ہمیشہ کے لئے کان پکڑ لیا کہ اب کسی بھی جانور کو غلط مشورہ نہیں دے گا۔

 

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author