Top Story - ظالم بادشاہ اور نماز کی طاقت andبلی کی بد دعا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شہر ایران میں ایک لکڑ ہارا رہتا تھا جو بہت غریب تھا وہ لکڑیاں بیچ کر اپنا اور اپنے بال بچوں کا گزارا کیا کرتا تھا۔ لکڑ ہارے کی تین لڑکیاں تھیں

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شہر ایران میں ایک لکڑ ہارا رہتا تھا جو بہت غریب تھا وہ لکڑیاں بیچ کر اپنا اور اپنے بال بچوں کا گزارا کیا کرتا تھا۔ لکڑ ہارے کی تین لڑکیاں تھیں جن سے وہ بے پناہ محبت کرتا۔ ایک دفعہ ایران میں شدید قحط سالی آئی۔

 

جس سے لکڑ ہارا اور اس کی بیوی موت کا نشانہ بنے جبکہ لکڑ ہارے کی تینوں لڑکیاں بے بسی اور لاچاری کا شکار تھیں۔ شدید بھوک کی وجہ سے تینوں بہنیں ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو گئیں۔ ایک دن مصر کا بادشاہ ایران کے دورے پر آیا۔ تینوں لڑکیوں کی حالت زار مصر کے بادشاہ کے کان میں پڑی۔

 

بادشاہ بہت ظالم تھا۔ اس نے اپنی جیب سے بھاری رقم نکال کر دونوں لڑکیوں کو دی اور تیسری لڑکی کو لے کر مصر کیلئے روانہ ہوا باقی دونوں کچھ نہ کر سکیں

محل پہنچتے ہی بادشاہ نے لڑکی کو لے کر ایک کمرے میں قید کر لیا۔ بادشاہ لڑکی پر بہت ظلم کرتا اور اس سے ہر کام کرواتا۔

 

لڑکی بادشاہ کے ہر کام کرتی اور کام ختم کرنے کے بعد نماز کیلئے چلی جاتی۔ ہر نماز کے بعد خدا سے دعا کرتی کہ اس ظالم بادشاہ سے اسے نجات مل جائے۔ ایک دن لڑکی سارے کام ختم کرنے کے بعد نماز کیلئے بیٹھی اور روتے ہوئے دعا مانگنے لگی بادشاہ رونے کی آواز سن کر اپنے کمرے سے باہر نکلا اور دیکھنے لگا کہ لڑکی شدید روتے ہوئے خدا سے دعا مانگ رہی ہے تو اپنے کمرے کی طرف چلا گیا جب صبح بیدار ہوا تو لڑکی کو بلایا لڑکی بادشاہ کی خدمت میں پیش ہوئی اور بادشاہ لڑکی سے کہنے لگا کہ آج سے تم آزاد ہو’’جائو‘‘۔

 

لڑکی بادشاہ کے یہ الفاظ سن کر بے حد خوش ہوئی اور بادشاہ کے چنگل سے آزاد ہو گئی
سبق:۔ نماز کی طاقت سے بڑی کوئی طاقت نہیں کیونکہ نماز پڑھنے سے اللہ تعالیٰ مدد فرماتا ہے

بلی کی بد دعا

ٹنکو بہت شرارتی بچہ تھا۔سکول اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا اس کی شرارتوں سے تنگ تھا وہ تو بے زبان جانوروں کو بھی تنگ کرتا رہتا تھا۔امی ابو اسے سمجھاتے مگر ٹنکو باز نہیں آتا۔آج جب وہ اپنی چھوٹی بہن نازیہ کو تنگ کر رہا تھا تو اس نے غصے میں ٹنکو کو دھکا دے دیا۔

 

ٹنکو فرش پر گر گیا اور زور زور سے رونے لگا۔وہ اسی طرح خود کو مظلوم اور معصوم ثابت کرتا تھا۔اس کے رونے کی آواز سن کر دادی اماں اپنے کمرے سے نکلیں اور رونے کی وجہ پوچھی تو ٹنکو نے جھوٹ بول کر خود کو بے قصور ثابت کر دیا۔دادی اماں نے اس کی بات پر یقین کر لیا اور نازیہ کو ڈانٹ کر چلی گئیں۔

 

نازیہ ایک اچھی اور سمجھدار لڑکی تھی وہ خاموش رہی اور امی کو اصل بات بتا دی۔
شام کو جب ٹنکو گھر سے باہر گلی میں گیا تو اچانک اس کی نظر ایک بلی پر پڑی جو اپنے دو بچوں کے ساتھ وہاں سے گزر رہی تھی۔

اسے دیکھتے ہی ٹنکو کی آنکھیں شرارت سے چمکنے لگیں۔

 

اس نے جلدی جلدی زمین سے پتھر اُٹھائے اور تاک تاک کر بلی کو مارنے لگا،دو چار پتھر بلی کو لگے اور ایک پتھر بلی کے چھوٹے بچے کو بھی لگا تو وہ تینوں خوف زدہ ہو کر بھاگ گئے۔امی نے اسے کئی بار سمجھایا تھا کہ بے زبان جانوروں کو تنگ نہ کیا کرو،یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں،مگر ٹنکو یہ باتیں کہاں سمجھتا تھا۔

 

آج ٹنکو اپنے کارنامے پر بہت خوش تھا۔وہ گھر لوٹا اور چائے پی کر تھوڑی دیر بعد دوبارہ باہر نکل گیا۔ابھی اس نے گلی میں قدم رکھا ہی تھا کہ ایک تیز رفتار سائیکل سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔اس کے ہاتھوں اور پیروں پر چوٹ آئی اور زخموں سے خون نکلنے لگا۔

 

ٹنکو درد کی شدت سے رو رہا تھا۔سائیکل سوار کی کوئی غلطی نہ تھی،بلکہ ٹنکو ہی قصوروار تھا۔ وہاں موجود لڑکوں نے اسے اُٹھایا اور اس کے گھر لے گئے۔ٹنکو کو اپنی امی کی بات یاد آگئی جنہوں نے اسے بے زبان جانوروں کو تنگ کرنے سے منع کیا تھا۔

 

ابو فوراً اسے ہسپتال لے گئے اور مرہم پٹی کروائی۔ٹنکو کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔گھر آنے کے بعد اس نے امی سے کہا”آپ ٹھیک کہتی تھیں۔آج میں نے بے زبان بلی اور اس کے بچوں کو پتھر مارے تھے،اس نے مجھے بد دعا دی ہو گی اور یہ اسی کی سزا ہے۔

 


امی نے پیار سے ٹنکو کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولیں،”بیٹا!اگر تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو تم توبہ کرو اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا عہد کر لو۔اللہ بہت رحیم ہے وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔“
ان کی بات درست تھی۔ٹنکو نے سچے دل سے توبہ کی اور امی سے وعدہ کر لیا کہ وہ کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائے گا۔

 

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author