Raziq Hai Beshak Khuda - Article No. 2316
رازق ہے بے شک خدا
اللہ تعالیٰ ہمارے سرمایہ کاروں کو بھی ایسی نیکیاں کرنے کی توفیق دے،وہ بھی آخرت کا سوچیں اللہ تعالیٰ ہمیں کامل مسلمان بنائے
جمعرات 28 جولائی 2022
ساجد کمبوہ
میں حاجی صاحب کے وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں بیٹھا اُن کا انتظار کر رہا تھا۔اِدھر اُدھر نظر گھمائی تو دیکھا کہ قیمتی شو پیس،بہترین گلوب،بڑا سا رنگین ٹی وی،خوبصورت ٹیلی فون اور مصنوعی بیلیں دیواروں سے چپکی ہوئی تھیں۔
فرنیچر بھی اعلیٰ قسم کا تھا،صوفے اتنے نرم کہ بندہ دھنستا چلا جائے۔ابھی میں ڈرائنگ روم کا جائزہ لے رہا تھا کہ ایک خادم ٹرالی دھکیلتا ہوا آیا اور چائے وغیرہ ”پیش“ کرنے لگا۔اُس نے بس اتنا کہا کہ حاجی صاحب آ رہے ہیں،آپ چائے وغیرہ لیں۔
حاجی صاحب کا پورا نام محمد اشرف تھا۔انہوں نے متعدد حج کیے جس کی وجہ سے حاجی صاحب مشہور ہو گئے۔آج اس کا اصل نام خاص خاص لوگوں کو ہی پتا ہے۔حاجی صاحب کے ایک بیٹے سے میری علیک سلیک تھی۔
میں حاجی صاحب کے وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں بیٹھا اُن کا انتظار کر رہا تھا۔اِدھر اُدھر نظر گھمائی تو دیکھا کہ قیمتی شو پیس،بہترین گلوب،بڑا سا رنگین ٹی وی،خوبصورت ٹیلی فون اور مصنوعی بیلیں دیواروں سے چپکی ہوئی تھیں۔
حاجی صاحب کا پورا نام محمد اشرف تھا۔انہوں نے متعدد حج کیے جس کی وجہ سے حاجی صاحب مشہور ہو گئے۔آج اس کا اصل نام خاص خاص لوگوں کو ہی پتا ہے۔حاجی صاحب کے ایک بیٹے سے میری علیک سلیک تھی۔
میرا کلاس فیلو اور بڑا مخلص اور اچھا انسان تھا۔
تین چار سال بعد پھر جب اس نے بتایا کہ والد صاحب نے ہم بھائیوں سے چند لاکھ روپے لے کر دوبارہ کاروبار شروع کر دیا ہے اور دنیاوی کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں تو اس بات پر اسے شاید اتنا تعجب نہیں ہوا جتنا میں نے محسوس کیا،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت کرم کیا تھا۔
ہم لکھنے والوں میں ایک مرض ہوتا ہے جسے عام لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔
میں نے کہا،”مجھے آپ سے ملنے کا اشتیاق تھا اس لئے آیا ہوں۔
حاجی صاحب نے کہا،”بیٹا!اُس میں بھی ایک راز تھا اور اس میں بھی ایک راز ہے۔
”وہ کیا․․․․؟“میں بے تابی سے بولا۔حاجی صاحب مسکرائے اور کہا،”اس سے پہلے کسی محفل میں ذکر کیا اور آج کر رہا ہوں۔سن کر فیصلہ کرنا کہ آج فیصلہ صحیح ہے یا پہلا فیصلہ صحیح تھا؟ایک دن میں اپنے گودام میں حساب کتاب کر رہا تھا۔
اس کی ٹانگیں تو ٹھیک نہ ہو سکیں مگر زخم بھر گئے اور وہاں سے چلا گیا۔اس واقعے کا مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ اس کتے کو بغیر کسی محنت اور تلاش کے رزق دے سکتا ہے تو مجھے کیوں نہیں دے گا؟بس میں نے سارا کاروبار،جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کی اور اللہ تعالیٰ سے لو لگائی۔
پھر آپ دوبارہ کیوں دنیا داری کے بکھیڑوں میں پڑ گئے۔کیا آپ کا اللہ تعالیٰ پر یقین کامل نہیں رہا؟میں نے حیرانی سے پوچھا۔
حاجی صاحب ہنس پڑے۔”یہی واقعہ میں نے ایک محفل میں سنایا تو ایک شخص نے مجھے لاجواب کر دیا تھا کہ حاجی صاحب!آپ نے خود کو اس زخمی کتے سے تشبیہ دی کہ اسے رزق ملتا رہا تو آپ کو بھی ملے گا،مگر اس کتے سے کیوں تشبیہ نہیں دی جو اسے لا کر کھلاتا رہا؟یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
بس اسی دن میں نے اپنے بچوں سے چند لاکھ روپے لیے اور ایک کاٹیج انڈسٹری قائم کر دی۔اس وقت غریب بستیوں میں درجنوں سے اوپر کاٹیج انڈسٹریز قائم ہیں جن میں غریب عورتیں اور بچیاں کام کر رہی ہیں۔
یہ سننا تھا کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔واہ مولا!ایک شخص کے وسیلے سے سات سو خاندان پل رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے سرمایہ کاروں کو بھی ایسی نیکیاں کرنے کی توفیق دے،وہ بھی آخرت کا سوچیں اللہ تعالیٰ ہمیں کامل مسلمان بنائے۔آمین

You must be logged in to post a comment.