Top Story - جادو کا شیشہ اور شہزادی

ھما نے عورت کو اندر بلایا اور ربن دکھانے کی خواہش ظاہر کی۔بوڑھی عورت نے ایک ربن اس کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا ”دیکھو یہ کتنا خوبصورت لگتا ہے“ربن گلے میں پہنتے ہی ھما فوراً بے ہوش ہو گئی۔ملکہ سمجھی شہزادی مر چکی ہے۔

 

اس لئے وہ جلدی جلدی وہاں سے واپس بھاگ آئی۔
بونے جب اپنے کام سے واپس آئے تو انہوں نے دیکھا ھما بے ہوش پڑی تھی۔ساتوں بونوں نے مل کر شہزادی کے گلے سے ربن کھولا۔ربن کھُلتے ہی اس کا سانس بحال ہوا اور وہ اُٹھ بیٹھی۔بونوں کے پوچھنے پر اس نے تمام واقعہ کہہ سنایا اور ان کا کہنا نہ ماننے پر معذرت بھی کی۔

 

بونوں نے کہا کہ دیکھو آئندہ اچھی طرح یاد رکھنا اور ہماری غیر موجودگی میں کسی کو بھی اندر نہ آنے دینا۔شہزادی ھما نے ایک مرتبہ پھر بونوں سے وعدہ کر لیا اور کہا آئندہ وہ محتاط رہے گی

ملکہ خوشی خوشی اپنے محل میں واپس پہنچ گئی۔

 

دوسرے روز ملکہ نے شیشے سے وہی سوال کیا۔ملکہ کو پوری امید تھی کہ اس مرتبہ آئینے کا جواب اس کی مرضی کے مطابق ہو گا لیکن آئینے نے کہا ”ملکہ عالیہ بے شک آپ خوبصورت ہیں لیکن آپ سے زیادہ خوبصورت آپ کی سوتیلی بیٹی ھما ہی ہے۔

اور وہ اب بھی زندہ سلامت اپنی جھونپڑی میں موجود ہے۔

اس مرتبہ ملکہ نے فروٹ بیچنے والی عورت کا بھیس بدلا اور جنگل میں جا پہنچی۔جھونپڑی کے قریب پہنچ کر اس نے آواز دی”خوبصورت میٹھے سیب لے لو۔“ھما نے سیب دیکھے تو اس کو بہت پسند آئے۔

اسے بونوں کی ہدایت یاد آئی تو اس نے سوچا اگر میں اس بڑھیا سے سیب لے کر کھا لوں تو بونوں کو کیا پتا چلے گا۔یہ سوچ کر اس نے بوڑھی عورت کو قریب بلایا۔عورت نے ایک خوبصورت سرخ سیب اس کو دیتے ہوئے کہا یہ سب سے خوش ذائقہ ہے۔شہزادی نے جیسے ہی سیب دانتوں سے کاٹا وہ جہاں کھڑی تھی وہیں گگئی

بوڑھی عورت یعنی ملکہ نے اسے اچھی طرح دیکھا اور جب اطمینان ہو گیا کہ وہ مر گئی ہے تو اپنے محل کی طرف واپس آگئی۔

شام کو جب بونے واپس آئے تو انہوں نے شہزادی ھما کو مردہ حالت میں دیکھا۔بونے بہت اُداس ہوئے انہوں نے ھما کو ایک خوبصورت تابوت میں رکھ دیا اور روزانہ اس کے گرد بیٹھے رہتے۔

کیونکہ وہ ھما سے محبت کرنے لگے تھے اور کسی بھی طرح اسے کھونا نہیں چاہتے تھے۔چند دن بعد قریبی ملک کے ایک شہزادے کا ادھر سے گزر ہوا اس نے شہزادی کو دیکھا تو بونوں سے کہا وہ شہزادی اس کو دے دیں۔لیکن بونوں نے انکار کر دیا۔شہزادہ بہت اصرار کرتا رہا کہ وہ شہزادی کو لے کر ہی جائے گا کیونکہ اس سے محبت ہو گئی ہے۔

آخر شہزادے کے اصرار پر بونوں نے آپس میں صلاح مشورہ کرکے اسے ھما کا تابوت لے جانے کی اجازت دے دی۔

شہزادے نے تابوت اُٹھانا چاہا تو وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ لڑکھڑایا اور تابوت اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر گر گیا۔تابوت گرنے کی وجہ سے شہزادی جھٹکے کے ساتھ گری تو اس کے حلق سے سیب کا ٹکڑا نکل کر باہر آ گرا۔

اور شہزادی ھما اُٹھ بیٹھی دراصل ملکہ نے سیب کو زہر لگا کر شہزادی ھما کو کھلایا تھا اس لئے وہ سمجھی کہ ھما مر گئی ہے جبکہ سیب کا ٹکڑا حلق میں پھنسنے کی وجہ سے شہزادی بے ہوش ہو گئی تھی۔

شہزادی ھما کو اُٹھتے دیکھ کر ساتوں بونے خوش ہوئے۔شہزادے نے فوراً شہزادی سے شادی کی خواہش کی۔بونوں نے مل کر ان دونوں کی شادی کے انتظامات کئے اور کچھ دن بونوں کے پاس رہنے کے بعد ھما کو لے کر شہزادہ اپنے ملک روانہ ہو گیا۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author