Top Story - بادشاہ کا ہمشکل

شکار کے دوران ایک بادشاہ اپنے سپاہیوں سے بچھڑ گیا۔البتہ سپہ سالار ان کے ساتھ تھا۔وہ جنگل میں بھٹک کر واپسی کا راستہ بھول گئے۔ پریشانی ان کے چہروں پر نظر آنے لگی۔ابھی تھوڑی سی دیر گزری تھی کہ اچانک سپہ سالار چیخا:”بادشاہ سلامت!وہ دیکھیں ایک جھونپڑی نظر آرہی ہے،وہاں چلتے ہیں۔

 

یقینا وہاں سے ہمیں مدد ضرور ملے گی۔“
وہ جھونپڑی کے قریب گئے تو سپہ سالار نے آواز لگائی:”کوئی ہے؟“
تھوڑی دیر میں ایک شخص باہر آیا۔بادشاہ اور سپہ سالار نے جیسے ہی اس شخص کو دیکھا حیرت کے مارے دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔

 

وہ شخص ہُو بہ ہُو بادشاہ کا ہم شکل تھا۔دونوں حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔پھر سپہ سالار نے اس سے کہا:”دیکھیں!ہم شکار کرتے کرتے راستہ بھٹک گئے ہیں۔

 

یہاں سے نکلنے میں ہماری رہنمائی کریں۔“

وہ شخص بولا:”کیوں نہیں،مگر آپ لوگ کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہیں۔

 

کچھ دیر میرے غریب خانے میں آرام کیجیے۔“

”ٹھیک ہے۔“بادشاہ سلامت یہ کہہ کر جھونپڑی کے اندر داخل ہوئے۔چونکہ وہ کافی تھک چکے تھے،اس لئے آرام کے لئے لیٹے تو ان کی آنکھ لگ گئی۔سپہ سالار کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔

وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔سپہ سالار نے اس شخص کو جھونپڑی سے باہر آنے کا اشارہ کیا۔باہر آکر وہ اس شخص سے کہنے لگا:”تمہیں معلوم ہے کہ اندر سونے والا شخص کون ہے؟“

”جی کوئی امیر شخص دکھائی دیتے ہیں۔“

”وہ اس ملک کے بادشاہ سلامت ہیں۔

”کیا․․․․“وہ حیرت سے بولا۔

”ہاں!اور شاید تمہیں نہیں معلوم کہ تمہاری شکل ان سے ہوبہو ملتی ہے۔اگر ان کے کپڑے تمہیں پہنا دیے جائیں تو تم بادشاہ لگو گے۔“

”کیا واقعی!“وہ حیرت سے بولا۔

سپہ سالار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا:”یقینا تم اپنی غریبی سے تنگ ہو گے۔

اگر تم میری ایک بات مانو تو تم ہمیشہ کے لئے اپنی غربت سے نکل سکتے ہو۔“

اس نے حیرت سے پوچھا:”اچھا!وہ کیسے؟“

”وہ ایسے کہ تم میرے ساتھ مل جاؤ،ہم کسی چیز میں بے ہوشی کی دوا ملا کر بادشاہ کو پلا دیں گے۔ان کے کپڑے تم کو اور تمہارے کپڑے ان کو پہنا دیں گے۔

اس طرح تم بادشاہ کے روپ میں میرے ساتھ محل چلو گے اور وہاں جا کر دربار کے دوران وزیرِ خاص کا منصب مجھے دلا دو گے۔بس تم بادشاہ بن کر شاہی کرسی پر بیٹھے رہنا اور سارے حکم میرے چلیں گے۔اس طرح ہم مزے کی زندگی گزاریں گے۔بولو منظور ہے؟“

وہ کچھ دیر تک سوچتا رہا اور پھر بولا:”ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔

“یہ سن کر سپہ سالار کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

صبح کا سورج طلوع ہوا۔چاروں طرف پرندوں کی آواز چہچہانے لگی۔بادشاہ سلامت بیدار ہوئے تو اس شخص نے ان کے لئے ناشتے کا انتظام کیا۔سپہ سالار نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس شخص کو اشارہ کیا۔

اس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔پھر اس نے سپہ سالار اور بادشاہ کو قہوہ پیش کیا۔

”دیکھو میں ان کپڑوں میں بالکل بادشاہ لگ رہا ہوں نا؟“

سپہ سالار نے نظر بھر کر اسے دیکھا اور خوش ہوتے ہوئے بولا:”ارے واہ!تم تو بالکل اصلی بادشاہ ہی لگ رہے ہو۔

“پھر اس نے فوراً اپنی بائیں طرف دیکھا تو بادشاہ کو غریب کے کپڑوں میں ملبوس بے ہوش پایا۔

سپہ سالار نے کہا:”تم نے بہت عقل مندی کا فیصلہ کیا ہے۔بادشاہ کو ہم اِدھر ہی بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔اب ہم محل میں راج کریں گے۔

چلنے کی تیاری کرو،راستہ تو تمہیں معلوم ہی ہے۔“یہ کہہ کر دونوں گھوڑے پر سوار ہوئے اور محل کی طرف روانہ ہو گئے۔

محل پہنچ کر سپہ سالار نے اس سے کہا:”آج شام کو جب دربار لگے گا تو تم وزیرِ خاص کو اس کے منصب سے ہٹا کر گرفتاری کا حکم دے دو گے اور اس کی وجہ یہ بتاؤ گے کہ اس نے آپ کی عدم موجودگی میں ملکی نظام کو صحیح طور پر نہیں سنبھالا ہے اور پھر وزیرِ خاص کے عہدے کے لئے ہمارا نام تجویز کرو گے۔

وہ بولا:”ٹھیک ہے۔آپ جیسا کہیں گے،میں ویسا ہی کروں گا،لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کام ہم کل کریں گے،تاکہ کوئی شک نہ کر سکے۔“

”ٹھیک ہے،کل شام کو یہ کام ہو جائے۔“یہ کہہ کر سپہ سالار چلا گیا۔

شام کو دربار لگا۔

آج دربار میں معمول سے زیادہ افراد تھے۔دربار میں تمام لوگ بادشاہ کا انتظار کر رہے تھے۔بادشاہ سلامت دربار میں تشریف لائے اور شاہی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولے:”آج ہم ایک اہم فیصلہ سنانے جا رہے ہیں۔وہ یہ کہ ہم ایک غدار کو اس کے انجام تک پہنچائیں گے۔

یہ سن کر دربار میں ایک شور سا ہونے لگا۔سب آپس میں کھُسر پھُسر کرنے لگے۔جب کہ سپہ سالار مسکرائے جا رہا تھا۔

”کون ہے وہ غدار عالم پناہ!“ایک وزیر نے پوچھا۔

بادشاہ نے ایک نظر دربار پر ڈالی اور پھر اپنا ہاتھ اُٹھا کر وزیرِ خاص کی طرف اشارہ کیا۔

یہ دیکھ کر وزیرِ خاص کے پسینے چھوٹ گئے۔پھر اچانک بادشاہ کا ہاتھ سپہ سالار کی طرف اُٹھا اور وہ چیخے:”وہ غدار سپہ سالار جابر ہے۔“یہ سن کر دربار میں ایک سکتہ طاری ہو گیا۔

سپہ سالار چیخا:”یہ․․․یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں عالم پناہ!“یہ کہہ کر وہ بادشاہ کے قریب آیا اور سرگوشی میں بولا:”یہ کیا بکواس کر رہے ہو،وزیرِ خاص کو ہٹانے کا کہا تھا تم سے اور تم یہ کون سا کھیل کھیل رہے ہو؟ابھی میں سب کے سامنے تمہاری حقیقت بتا دوں گا کہ تم بادشاہ نہیں،بلکہ اس کے ہم شکل ہو۔

بادشاہ مسکرایا اور بولا:”تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔“یہ کہہ کر اس نے اشارہ کیا۔سپاہی ایک شخص کو دربار میں لائے۔ سپہ سالار کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں،کیونکہ وہ بادشاہ کا ہم شکل تھا۔

وہ کبھی بادشاہ کو اور کبھی ہم شکل کو دیکھتا۔

بادشاہ نے سپہ سالار سے کہا:”تم حیران ہو رہے ہو گے کہ یہ سب کیا ہے!میں تمہیں بتاتا ہوں۔اصل بادشاہ میں ہی ہوں اور وہ میرا ہم شکل غریب انسان ہے،جسے تم میری جگہ بادشاہ بنانے آئے تھے۔

جب تم نے اس شخص کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف سازش کی تو بظاہر وہ شخص مان گیا تھا،مگر اس کے ایمان نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا۔اس نے مجھے بے ہوش کرنے کے بجائے تمہیں قہوے میں کچھ ملا کر بے ہوش کر دیا اور مجھ سے اس نے ساری حقیقت بیان کر دی۔

پھر جب تمہیں ہوش آیا تو وہ خود جھوٹ موٹ کا بے ہوش ہو گیا،تاکہ تم اسے بادشاہ سمجھو۔ اس نے مجھے واپسی کا راستہ بھی سمجھا دیا تھا،تاکہ میں محل آسانی سے پہنچ سکوں۔“

سپہ سالار حیرانگی سے یہ سب سن رہا تھا۔پھر بادشاہ اپنے ہم شکل سے مخاطب ہوئے:”اے نیک انسان!کیا تم بتانا پسند کرو گے کہ تم سپہ سالار کے ساتھ مل کر بادشاہ بن کر آرام کی زندگی گزار سکتے تھے۔

پھر تمہارا اور ارادہ کیسے بدل گیا۔“

وہ بولا:”دراصل حضور والا!ایمان سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں ہوتی۔میں اپنی مختصر زندگی کے لئے آخرت خراب نہیں کر سکتا اور ویسے بھی جو آپ کو دھوکا دے سکتا ہے وہ بعد میں مجھے بھی مروا سکتا تھا اور ویسے بھی بے ایمانی کے سونے کے نوالے سے ایمان داری کی ایک وقت کی روٹی بہتر ہے۔

“یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔

بادشاہ سلامت بولے:”لے جاؤ اس سپہ سالار کو اور اسے زندان میں ڈال دیا جائے۔“

سپاہی سپہ سالار کو گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔بادشاہ نے اس شخص کو کافی انعام و اکرام سے نوازا اور حکم دیا کہ اس کے رہنے کے لئے ایک گھر کا بھی انتظام کیا جائے اور اسے اس کی ایمان داری کے صلے میں معقول ماہانہ وظیفہ جاری کر دیا جائے

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author