رضوانہ بیوہ عورت تھی۔اس کے شوہر کا ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا۔اس کے تین بچے تھے۔سب سے بڑا بیٹا مرتضیٰ،بیٹی ہما اور سب سے چھوٹا علی تھا،جو آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔
مرتضیٰ ایم اے کر رہا تھا۔ساتھ ساتھ وہ ٹیوشن بھی پڑھاتا تھا۔ہما ایف۔اے کی طالبہ تھی۔وہ بھی ٹیوشن پڑھا کر اپنی تعلیم کا خرچہ اُٹھا رہی تھی۔صرف ایک علی تھا جو بہت لاپرواہ قسم کا لڑکا تھا۔اسے کھیل کود سے فرصت نہیں ملتی تھی۔
آج کل اس کی دوستی محلے کے سب سے بدنام گروپ سے ہو رہی تھی،جس پر رضوانہ کو تشویش لاحق تھی۔
”امی!علی کہاں ہے؟“مغرب کے وقت تھکا ہارا مرتضیٰ گھر میں داخل ہوا تو سوال کیا۔
”تھوڑی دیر کھیلنے کا کہہ کر گیا تھا اور ابھی تک نہیں آیا۔
رضوانہ نے فکر مندی سے کہا۔
”جی نواب صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ صدر میں گھوم پھر رہے ہیں۔“مرتضیٰ نے طنزیہ انداز میں کہا تو رضوانہ چونک گئی۔
”مگر وہ تو کہہ رہا تھا کہ ․․․“رضوانہ چپ کر گئی۔
”امی وہ ہر روز گلی میں کھیلنے کا کہہ کر کہیں اور چلا جاتا ہے۔
“ہما نے بھائی کو پانی پیش کرتے ہوئے کہا۔رضوانہ پریشان ہو گئی۔
”اچھا آپ فکر مت کریں۔میں اسے سمجھاؤں گا۔“مرتضیٰ نے ماں کو تسلی دی۔
اگلے دن مرتضیٰ نے علی کو پاس بیٹھا کر پیار سے سمجھایا:”دیکھو علی!انسان کی پہچان اپنے دوستوں سے ہوتی ہے۔
“علی سر جھکائے سُنتا رہا،مگر اثر کچھ نہ ہوا۔
وقت تیزی سے گزرنے لگا۔علی بہت جلد پاشا کے رنگ میں رنگ رہا تھا۔اس کا پڑھائی میں بھی دل نہیں لگتا تھا۔گھر والے سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے،مگر علی کسی کی نہیں سُنتا تھا۔
ایک دن مارکیٹ کی ایک مشہور کریانہ اسٹور میں چوری ہو گئی۔پہلا شک پاشا اور اس کے گروپ پہ گیا۔کیونکہ چوری کے وقت وہ آس پاس موجود تھے۔پولیس پاشا اور اس کے سب ساتھیوں کو پکڑ کر لے گئی۔ان میں علی بھی شامل تھا۔
علی کے گھر والوں کے لئے یہ صدمہ بہت بڑا تھا۔
مرتضیٰ بھائی کو بچانے کے لئے جدوجہد کرنے لگا۔پولیس نے تفتیش شروع کر دی۔جب پولیس نے سختی سے کام لیا تو پاشا نے مان لیا کہ اسی نے چوری کی ہے۔پاشا کے سب ساتھیوں نے اعتراف کر لیا،مگر علی بے قصور ثابت ہوا تو دو دن بعد پولیس نے اسے چھوڑ دیا۔
علی جب گھر آیا تو رضوانہ دروازے پہ کھڑی تھی۔علی کا حال بہت بُرا تھا۔پولیس نے اسے بھی مارا تھا۔علی ماں سے لپٹ گیا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔
”بھائی مجھے معاف کر دیں۔“علی نے مرتضیٰ کی طرف دیکھا اور اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔
”علی!شکر کرو کہ تم پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا اور پولیس نے تمہیں چھوڑ دیا۔اسی وقت کے لئے تمہیں سمجھاتے تھے کہ اچھے لڑکوں سے دوستی کرو۔بُرے لوگوں کی دوستی کا انجام بھی بُرا ہوتا ہے۔“مرتضیٰ نے بھائی کو پیار کرتے ہوئے سمجھایا۔
”بھائی!اب میں سمجھ گیا ہوں کہ ایک اچھے دوست اور بُرے دوست میں کیا فرق ہوتا ہے۔“
علی نے کہا تو ان سب نے شکر ادا کیا۔اس واقعے نے علی کو ہمیشہ کے لئے کھرے اور کھوٹے لوگوں کی پہچان کروا دی تھی۔
ٹھنڈی میٹھی آئس کریم
ندی کنارے ایک ننھا سا گھر تھا۔اس گھر میں ایک بطخ اور ایک بطخا رہتے تھے۔بطخ بہت اچھی تھی صبح سویرے اٹھتی نہاتی دھوتی اور کام کاج میں لگ جاتی۔بطخا بہت خراب تھا کام چور نکٹھو۔نہ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔
دن بھر پڑا اینڈتا رہتا۔بطخ بطخے کو بہتیرا سمجھاتی،پروہ نہ سمجھتا۔ ایک کان سے سنتا دوسرے سے اڑا دیتا۔
ایک دن بطخ بولی”کچھ خبر بھی ہے؟سارا اناج ختم ہو گیا اب کھائیں گے کیا؟“
بطخے نے کہا”گھبراتی کیوں ہو خدا دے گا۔
“
بطخ بولی”خدا انہی کو دیتا ہے جو محنت کرتے ہیں۔کام چوروں کو خدا نہیں دیتا۔“
بطخے نے کہا”تو میں کیا کروں؟نوکری تو ملتی نہیں۔“
بطخ بولی”نوکری نہیں ملتی،نہ سہی مزدوری کرو۔
بطخے نے کہا ”خدا کو مان!میں اور مزدوری کروں؟توبہ !توبہ!ارے!میرا باپ تحصیل دار تھا۔
اُس کے دروازے پر ہاتھی جھومتے تھے۔صبح شام لنگر بٹتا تھا۔سینکڑوں بھوکے پیٹ بھرتے تھے۔“
بطخ بولی”باپ کو چھوڑ اپنے آپ کو دیکھ موا نکٹھو،کاہل،ٹٹو“یہ کہا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اب تو بطخا بہت گھبرایا بولا”اچھا رو مت آنسو پونچھ لو میں شہر جا کر نوکری ڈھونڈتا ہوں۔
“بطخا اٹھا شہر گیا نوکری ڈھونڈی۔نہیں ملی۔حیران، پریشان۔کیا کرے،کیا نہ کرے !اتنے میں ایک اپنی بپتا سنائی۔
دوست بولا”گھبراؤ مت ساتھ چلو میں آئس کریم بیچتا ہوں روز بیس روپے کماتا ہوں۔تم بھی بیچنا۔“
دونوں کارخانے گئے دوست نے ایک ٹھیلا خود لیا دوسرا بطخے کو دیا اور بولا”ہاں!اب آواز لگا،ٹھنڈی میٹھی آئس کریم،۔
ٹھنڈی میٹھی آئس کریم۔“
گلی گلی،کوچے کوچے بطخے نے آئس کریم بیچی ساری بک گئی۔تھوڑی سی رہ گئی۔چلتے چلتے گھر آیا تو زور سے چلایا”ٹھنڈی میٹھی آئس کریم۔“
بطخ نے آواز سنی جانی پہچانی تھی۔دوڑی دوڑی آئی۔کھڑکی سے جھانکا دیکھا تو اپنا بطخا تھا۔
خوشی سے جھوم گئی۔بولی”شاباش!کام کرنا عیب نہیں۔بے کار پھرنا عیب ہے کچھ بکی بھی؟“
بطخا بولا”بس تھوڑی سی رہ گئی ہے سکول کی طرف جا رہا ہوں وہ بھی بک جائے گی۔“
بطخ نے کہا”اچھا!ایک مجھے بھی دے دیکھوں کیسی ہے۔
“
بطخا بولا”اچھا!پیسے دو اور لے لو۔“بطخ ہنس،ہنس کر بولی”چل ہٹ!اپنوں سے بھی پیسے؟“
بطخا بولا”اپنا ہو یا غیر پہلے پیسے پیچھے مال اچھا اب میں جاتا ہوں بچے گی تو لیتا آؤں گا۔“
یہ کہہ کر ٹھیلا آگے بڑھایا اور زور سے بولا”ٹھنڈی میٹھی آئس کریم
You must be logged in to post a comment.