Top Shaoor Zaat Se Ubhroo -

انسان سی دوسری چیز خدا نے پیدا نہیں کی جو مضطرب ہو تو ایک کائنات ہلا کے رکھ دے اور سکون میں ہو تو سات سمندر ایک نگاہ سے ٹھہرالے۔ کبھی اتنا مضبوط کہ پہاڑوں کا سینہ چیر کر راستے بنا لے اور کبھی اتنا کمزور اتنا حساس کہ چھوٹے سے جذباتی حادثے سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔یہی حضرت انسان جب اپنے مصمم ارادے کے ساتھ ڈٹ جائے تو ایک عالم کو بدل کے رکھ دیتا ہے اور کبھی کبھی تو یہ اپنی ناکامیوں اور کمزوریوں پر بیٹھا قسمت کو روتا ہوا بھی نظر آتا ہے۔

 


آج اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں تو یوں لگتا ہے جیسے دنیا میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے، بیشتر لوگ اس ہڑبونگ میں بوکھلائے پھر رہے ہیں اور ان میں اکثریت امت مسلمہ کی نظر آتی ہے جو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر نا اتفاقی ، خود غرضی، بے بسی و کمزوری کا شکارہیں

دیکھا جائے تو جہاں کہیں طاقت آسودگی اور خوش حالی نظر آتی ہے وہاں اکثر و بیشتر ان خوشحالی کے محلوں کے پیچھے بے شمار لوگوں کی حسرتیں، محرومیاں اور پسماندگی بھرے احساسات کا ایک جہاں بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔

 

کتنے ہی تاج محلوں کی بنیادوں میں ان گنت دست بریدہ لوگوں کی داستانیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ غریب کا بچہ تو امیر کے کتے کی روٹی کو بھی حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔مگر ہم کم ظرف انسان اکثر و بیشتر اپنی کامرانیوں اور امارات کا اندازہ لوگوں کی حسرت بھری نظروں کی تعداد سے ہی لگایا کرتے ہیں۔
آج امت مسلمہ کی حالت ذار کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے اسلام دشمن طاقتیں اسلام کا دیا ہوا باہمی اتحاد و یگانگت کا سبق یاد کر کے اسلام کے خلاف آزما رہی ہیں، اپنی توانائیاں اور وسائل مسلم کشی کیلئے پوری دیدہ دلیری سے استعمال کر رہی ہیں، اور اپنی بے حسی دیکھیں کہ ہم ظلم و بربریت کے خلاف مذمتی قرار دادوں کی رسمی کاروائی سے بھی گریزاں نظر آتے ہیں۔

 

کیونکہ ہمیں ان دنیاوی آقاؤں کا آشیر باد کھو دینے کا خدشہ ہے، امداد اور قرضوں کی بھیک کے کشکول کے خالی رہ جانے کا خوف ہے۔
ہم نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ہم احمقوں کی جنت تعمیر کرنے میں مصروف عمل ہیں، آنے والے وقت میں ہماری باری بھی آ سکتی ہے تب ہمیں بھی توقع یہی رکھنی چاہئے کہ ہماری حالت زار پر کسی نے رسمی مذمت کا فرض بھی نہیں ادا کرنا۔

 

مجھے واصف علی واصف کے الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ” اگر اینٹوں میں ربط نہ ہو تو آندھی تو کجا دیوار کو اپنے ہی بوجھ سے گر جانے کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اندرونی کمزوری کو بیرونی خطرات ہمیشہ در پیش رہتے ہیں، شکستہ جہاز کو کوئی ہوا بھی تو ر اس نہیں آتی“۔
آج ہمارے انفرادی و اجتماعی رویے ماضی کی طرح قابل تقلید تو چھوڑ قابل ستائش بھی نہیں رہے، ہمارے معاملات زندگی خود غرضانہ ہو چکے ہیں در اصل ہم سب لوگ اپنی اپنی حقیر چوٹی پہ پاؤں دبا کر کھڑے ہیں۔

 

یہی انفرادی رویے آگے چل کر ہم بحیثیت قوم متعارف کرواتے ہیں، بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے تو انسانی شخصیت کی تشکیل میں تین عناصر کا اہم کردار ہے۔
Vision+Will+Values
اور Will,Visionاور Valuesکسی بھی قوم کی شناخت بھی بن جاتے ہیں، جیسے قطرہ قطرہ مل کر قلزم ہو تا ہے اسی طرح ہر قطرے میں قلزم ہے جو اپنے اندر مکمل تعارف لئے ہوتا ہے۔
انسان جو اشرف المخلوقات ہے۔

 

اپنی ذات میں بے پناہ صلاحیتوں اور توانائیوں کے جوہر سمیٹے ، خالق کائنات کی بہترین تخلیق ہے۔اس جوہر کی تلاش اور پہچان کے بعد انسان خود کو انسانیت کے بلند و بالا مقام سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہر ظاہر میں اسکا باطن تلاش کرو۔

مقام عدل بھی تو اسی کو کہتے ہیں

زندگی کی ناہمواریوں میں ایک آسان ترین طریقہ تو یہ ہے کہ اپنی حالت زار پہ آنسو بہائے جائیں، مگر ہم کبھی خود کو بدلنے کی زحمت نہ کریں تو کیا حاصل؟ ’ ’زمین جنبندنہ جنبند گل محمد “کے مصداق اپنی محرومیوں، غربت اور پسماندگی کو قسمت کا لکھا مان لیں یا پھر ندرت افکار اور جرأت کردار کے ساتھ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بدلنا شروع کر دیں۔

جیسا کہ اللہ رب العزت قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے۔
لمن شاء منکم ان یتقدم اویتا خرoکل نفس بما کسبت رھینةo
ترجمہ:۔لوگوں کو اس بات سے آگاہ رہنا چاہئے کہ یہاں افراد اور اقوام کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ آگے بڑھ کر ترقی کی منزلیں طے کرنا چاہتے ہیں یا پیچھے رہ کر پسماندگی کی زندگی، یاد رکھو یہاں ہر کوئی اپنی اپنی کارکردگیوں کے شکنجے میں جکڑا ہے

 

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author