Top Iblees and Bismillah Ki Barkat -

ایک شخص صبح سویرے اٹھا صاف ستھرے کپڑے پہنے اور مسجد کی طرف چل پڑا کے فجر کی نماز باجماعت ادا کروں،راستے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑا اور سارے کپڑے کیچڑ سے بھر گئے واپس گھر آیا لباس بدل کر واپس مسجد کی طرف روانہ ہوا پھر ٹھیک اسی مقام پر ٹھوکر کھا کر گِرا اور کپڑے گندے ہو گئے پھر واپس گھر آیا اور لباس بدل کر دوبارہ مسجد کو روانہ ہوا،جب تیسری مرتبہ اس مقام پہ پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص چراغ ہاتھ میں لے کرکھڑا ہے اور اسے اپنے پیچھے چلنے کو کہہ رہا ہے وہ شخص اسے مسجد کے دروازے تک لے آیا،پہلے شخص نے اسے کہا کہ آپ بھی آ کر نماز پڑھ لیں، وہ خاموش رہا اور چراغ ہاتھ میں پکڑے کھڑا رہا لیکن مسجد کے اندر داخل نہیں ہوا دو تین بار انکار پر اُس نے پوچھا کے آپ مسجد آ کر نماز کیوں نہیں پڑھ لیتے ۔

دوسرے شخص نے کہا اس لیے کے میں ابلیس ہوں۔ اس شخص کی حیرانگی کی انتہا نہ تھی جب اس نے یہ سناشیطان نے اپنی بات جاری رکھی۔ یہ میں تھا جس نے تمہیں زمین پر گررایا جب تم نے واپس گھر جا کر لباس تبدیل کیا اور دوبارہ مسجد کی جانب روانہ ہوئے تو اللہ نے تمہارے سارے گناہ بخش دیے جب میں نے دوسری مرتبہ تمہیں گرایا اور تم دوبارہ لباس پہن کر مسجد کو روانہ ہوئے تو اللہ نے تمہارے سارے خاندان کے گناہ بھی بخش دیے ۔ میں ڈر گیا کے اگر اب میں نے تمہیں گرایا اور تم دوبارہ لباس تبدیل کر کے مسجد کی طرف چلے تو کہیں اللہ تمہارے سارے گاوٴں کے باشندوں کے گناہ نہ بخش دے اس لیے میں خود تمہیں مسجد تک چھوڑنے آی

 

 
 
 
 
 
 
 

Bismillah Ki Barkat - Article No. 1111

Bismillah Ki Barkat

بسم اللہ کی برکت - تحریر نمبر 1111

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ اسلامی لشکر کی قیادت کررہے تھے ۔ اس مرتبہ مدمقابل نصرانی تھے ۔ لشکر اسلام نے ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا ۔ نصرانیوں کو لشکر اسلام کی خبر مل چکی تھی ۔ انہوں نے اپنے ایک انتہائی عقل مند اور جہاں دیدہ شخص جس کا نام عبدالمسیح تھا،

 جمعرات 9 مارچ 2017

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
حکایت صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ اسلامی لشکر کی قیادت کررہے تھے ۔ اس مرتبہ مدمقابل نصرانی تھے ۔ لشکر اسلام نے ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا ۔ نصرانیوں کو لشکر اسلام کی خبر مل چکی تھی ۔ انہوں نے اپنے ایک انتہائی عقل مند اور جہاں دیدہ شخص جس کا نام عبدالمسیح تھا، اسے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ پوری طرح صورت حال کا پتہ لگا کر آئے ۔
 
یہ شخص واقعی بڑا عقل مند تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ کی تہہ تک پہنچ جایا کرتا تھا ۔
جب یہ نصرانی حضرت خالدبن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں پہنچا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سے بوتل بھی تھی ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا :
یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟
نصرانی بولا :
اس بوتل میں ایسا خطرناک زہر ہے جس کو پیتے ہی انسان فوراََ مرجاتا ہے
 

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author