جلال الدین رومی ایک بہت عظیم صوفی بزرگ تھے۔انہوں نے 13ویں صدی کے آغاز میں جنم لیا تھا۔رومی کی مثنوی فلسفیانہ سوچ سے بھری ہوئی ہے۔ایک مرتبہ رومی کی ملاقات شمس تبریز سے ہوئی۔انہوں نے رومی سے پوچھا:
”علم حاصل کرنے یا سیکھنے اور عبادت کرنے کا کیا مقصد ہے؟“
رومی نے جواب دیا:
”یہ شریعت اور اس کے اصولوں کو جاننا ہے“
شمس تبریز نے جواب دیا کہ:
”نہیں․․․․مقصد وہ کچھ حاصل کرنا ہے جو جاننے کے لائق ہے“
اس کے بعد انہوں نے یہ شعر پڑھا:
علم کے مقابلے میں جہالت بہتر ہے
جو تمہیں وہ کچھ رکھتی ہے جو کچھ تم تھے
رومی بے حد حیران ہوئے،شمس تبریز کی بات ان کے دل کو لگی اور شمس تبریز کی محبت میں رہتے ہوئے رومی نے یہ محسوس کیا کہ انہیں زمین اور آسمان کے بھیدوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنی چاہیے اور روحانی روشنی کے ذریعے حصول مقصد ممکن تھا۔
اگرچہ رومی ایک کامیاب اتالیق تھے اوران کے گرد ان کے پیروکاروں اور شاگردوں کاایک ہجوم رہتا تھا اور ان میں سے بہت سے افراد مفکرین اور صوفیاء کرام اب وہ (رومی) بذات خود شمس تبریزی کے شاگرد بن چکے تھے۔
مثنوی
مثنوی رومی عظیم ترین صوفیانہ نظموں کا ایک مجموعہ ہے جس نے اسلامی دنیا کے ادب پرانمٹ اثرات مرتب کیے ہیں۔یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ بمشکل ہی کوئی دوسرا ادبی مجموعہ ایسا ہو گا جس نے مسلمانوں کو اس قدر متاثر کیا ہو گا اور عرصہ دراز تک متاثر کیا ہو گا ۔
دانش ورانہ اور ادبی حلقے گزشتہ چھ صد برسوں سے مثنوی سے تحریک حاصل کر رہے ہیں اور یہ ایک بیش قیمت ادبی مجموعہ ثابت ہوئی ہے۔
جلال الدین محمد رومی نے 1207ء بعد از مسیح میں بلخ میں جنم لیا تھا اور اناطولیہ یا روم میں مقیم ہوئے تھے۔رومی کے والد بہاؤ الدین ولید ایک قابل ذکر صوفی اور علم دین کے ماہر تھے۔منگولوں کے خطرے کے پیش نظر جن کی پیش قدمی جاری تھی بہاؤ الدین ولید نے اپنے آبائی قصبے کے خیرباد کہا۔
ان کی فیملی بھی ان کے ہمراہ تھی۔انہوں نے نیشاپور میں فرید الدین عطار سے ملاقات کی۔جنہوں نے جلال الدین کو اپنی دعاؤں سے نوازا۔حج بیت اللہ ادا کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ سے سفر طے کرتے ہوئے ان کی فیملی اناطولیہ (روم)جا پہنچی اور یہی وجہ ہے کہ رومی مولانا کا لقب ٹھہرا تھا۔یہ وہ علاقہ تھا جو ترک سلجوق سلطان علاؤ الدین کے زیر حکومت خوشحالی سے دو چار تھا۔
جلال الدین نے شادی کی اور 1226ء میں ان کے پہلے بیٹے ولید نے جنم لیا۔معمر بہاؤ الدین کو یہ دعوت دی گئی کہ وہ اناطولیہ کے سلجوقوں کے دارالحکومت میں شہر کے بہت سے علم دین کے کالجوں میں سے ایک کالج میں پڑھائیں۔ان کی وفات کے بعد جلال الدین نے ان کی جگہ اسی کالج میں پڑھانے کے فرائض سر انجام دیئے۔
انہوں نے غزنہ کے حکیم سنائی کی شاعری کا مطالعہ کیا تھا۔
اس شاعری میں بھی صوفیانہ ہدایات پیش کی گئی تھیں۔علاؤ الدین کی وفات کے بعد 1236ء میں جب منگولوں نے اناطولیہ پر حملہ کیا تب اندرونی صورت حال بے حد خراب ہو چکی تھی۔مصائب کے اس دور میں جلال الدین ایک تجربے سے دوچار ہوئے جس نے انہیں صوفی شاعر میں تبدیل کردیا۔
رومی کی زندگی میں فیصلہ کن لمحہ30نومبر 1244ء کو آیا جبکہ ان کی ملاقات ایک جہاں گرد درویش تبریز کے شمس الدین سے ہوئی وہ ان کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوئے۔
دونوں صوفی حضرات کئی دن اور ہفتے اکٹھے گزارتے تھے اور اس دوران کچھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ ہی انہیں دیگر جسمانی ضروریات محسوس ہوتی تھیں۔ان کی گفتگو جلال الدین کو صوفیانہ محبت کی گہرائیوں میں لے گئی۔کچھ دیر بعد شمس تبریزی غائب ہو چکے تھے(غالباً رومی کے کسی رشتہ دار نے حسد کی بنا پر انہیں ہلاک کر دیا تھا)اور ان کی جدائی میں مولانا رومی ایک شاعر کے روپ میں داخل ہوگئے جو ان کی محبت کے گیت گاتے تھے۔
مولانا رومی سے بڑھ کر کوئی بھی صوفی شاعر مشرق کے مسلمانوں اور مغرب کے عیسائیوں پر اثر انداز نہ ہوا تھا۔ان کے فارسی کاموں سے اسلامی صوفیانہ سوچ کا اظہار ہوتا ہے اور ان کی طویل صوفیانہ نظم․․․․․․․مثنوی (روحانی شاعری)کو 15ویں صدی کے عظیم شاعر جامی نے فارسی زبان میں قرآن قرار دیا۔ان کی مثنوی نے مسلم صوفیانہ سوچ اور ادب کو بے حد متاثر کیا۔
مولانا جلال الدین رومی کی تحریروں کو دو امتیازی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔منطقی شاعری جس نے شمس تبریزی کے ساتھ ملاقات کے نتیجے میں جنم لیا اور وہ دیوان شمس تبریز کہلائی اور اس میں چھ ہزار سے زائد اشعار ہیں اور نصیحت آمیز مثنوی جس میں تقریباً 26,000اشعار ہیں۔دیوان شمس تبریز ایک قابل ذکر ادب کا ایک حصہ ہے اور اس میں مصنف کے روحانی تجربات براہ راست شاعری کے ذریعے پیش کیے گئے ہیں۔
شاعری ایک ایسی صوفیانہ زندگی کا اظہار کرتی ہے جس کے تحت ہر ایک قاری اپنے دل پسند آئیڈیاز اور احساسات تلاش کر سکتا ہے۔مثنوی صوفیانہ روایات کا ایک سر چشمہ ہے اور اس سے خدا کی محبت کے تجربے کی عکاسی ہوتی ہے۔مولانا روم کے کام کا موضوع ہمیشہ محبت ہی رہا ہے۔
مثنوی یہ کہتی ہے کہ انسان اپنے دل کی طہارت اور پاکی کے ذریعے اپنی ذات کا علم حاصل کر سکتا ہے اور ایمانداری․․․․․دیانت داری․․․․․ اور صداقت کو اپنا سکتا ہے دل جس قدر پاکیزہ ہو گا․․․․․صاف شفاف ہو گا اس میں سے اسی قدر زیادہ آئینے کی مانند عکس دکھائی دے گا۔
رومی کے بقول کائنات محبت کی ایک سلطنت ہے۔محبت کے مقابلہ میں قانون اوراستدلال کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔
اقبال رومی میں ایک ایسا شخص محسوس کرتے تھے جو پیغمبروں اور درویشوں کی مانند مذہبی اعتقاد کو بطور سیکنڈ ہینڈ قبول نہ کرتا تھا۔ان کے نزدیک ذاتی تجربہ منطقی دلائل سے بڑھ کر قائل کرنے والا تھا،لیکن مذہبی تجربے کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔
جو لوگ اس تجربے سے دوچار نہیں ہوتے وہ اس تجربے کا ادراک کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔اقبال نے درست کہا تھا کہ:
”دندان ساز میرے دانت کی درد پر مجھ سے ہمدردی تو کر سکتا ہے لیکن وہ میرے دانت کے درد کے احساسات کو محسوس نہیں کر سکتا“
مثنوی اپنے مصنف کے اندرونی احساسات کی ترجمانی کرتی ہے۔وہ رومی کی بے انتہا روحانی محبت کی عکاسی کرتی ہے اور غالباً اسی میں اس کے موثر پن اور عالمگیر مقبولیت کا راز پنہاں ہے۔
You must be logged in to post a comment.