Top Article - رازق ہے بے شک خدا

میں حاجی صاحب کے وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں بیٹھا اُن کا انتظار کر رہا تھا۔اِدھر اُدھر نظر گھمائی تو دیکھا کہ قیمتی شو پیس،بہترین گلوب،بڑا سا رنگین ٹی وی،خوبصورت ٹیلی فون اور مصنوعی بیلیں دیواروں سے چپکی ہوئی تھیں۔

فرنیچر بھی اعلیٰ قسم کا تھا،صوفے اتنے نرم کہ بندہ دھنستا چلا جائے۔ابھی میں ڈرائنگ روم کا جائزہ لے رہا تھا کہ ایک خادم ٹرالی دھکیلتا ہوا آیا اور چائے وغیرہ ”پیش“ کرنے لگا۔اُس نے بس اتنا کہا کہ حاجی صاحب آ رہے ہیں،آپ چائے وغیرہ لیں۔

 

حاجی صاحب کا پورا نام محمد اشرف تھا۔انہوں نے متعدد حج کیے جس کی وجہ سے حاجی صاحب مشہور ہو گئے۔آج اس کا اصل نام خاص خاص لوگوں کو ہی پتا ہے۔حاجی صاحب کے ایک بیٹے سے میری علیک سلیک تھی

وہ میرا کلاس فیلو اور بڑا مخلص اور اچھا انسان تھا۔

 

کبھی کسی فنکشن یا پارٹی وغیرہ میں ملاقات ہوتی تو گلے شکوؤں کے ڈھیر لگا دیتا۔کچھ عرصہ پہلے اس نے بتایا کہ والد صاحب نے تمام جائیداد،فیکٹریاں،زمینیں ہم بہن بھائیوں میں تقسیم کر دی ہیں اور خود فارغ البال ہو کر ذکر الٰہی میں مصروف ہو گئے ہیں۔

 

تین چار سال بعد پھر جب اس نے بتایا کہ والد صاحب نے ہم بھائیوں سے چند لاکھ روپے لے کر دوبارہ کاروبار شروع کر دیا ہے اور دنیاوی کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں تو اس بات پر اسے شاید اتنا تعجب نہیں ہوا جتنا میں نے محسوس کیا،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت کرم کیا تھا۔

دور دور تک ان کی شہرت تھی جسے پھونک مارتے،دوا یا دعا دیتے اللہ تعالیٰ اس پر کرم کرتا بہت سے عقیدت مند پیسوں سے خدمت کرنا چاہتے مگر حاجی صاحب نہ لیتے،صرف دعا اور نماز کے لئے کہتے۔

ہم لکھنے والوں میں ایک مرض ہوتا ہے جسے عام لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ہمیں ہر بات کی جستجو ہوتی ہے۔اسی لئے اب میں حاجی صاحب سے وقت لے کر ان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا۔کچھ دیر بعد حاجی صاحب تشریف لائے۔بڑے تپاک سے ملے اور پوچھا،”ہاں!فرماؤ،کیسے آئے ہو؟“

میں نے کہا،”مجھے آپ سے ملنے کا اشتیاق تھا اس لئے آیا ہوں۔

“حاجی صاحب کا چہرہ نورانی،سفید داڑھی اور سر پر عمامہ بہت بھلا لگ رہا تھا۔میں نے کہا:”حاجی صاحب!کیا وجہ ہے کہ پہلے آپ نے تمام جائیداد تقسیم کر دی،اللہ اللہ کرنے لگے مگر پھر دنیا داری میں مصروف ہو گئے۔

حاجی صاحب نے کہا،”بیٹا!اُس میں بھی ایک راز تھا اور اس میں بھی ایک راز ہے۔

”وہ کیا․․․․؟“میں بے تابی سے بولا۔حاجی صاحب مسکرائے اور کہا،”اس سے پہلے کسی محفل میں ذکر کیا اور آج کر رہا ہوں۔سن کر فیصلہ کرنا کہ آج فیصلہ صحیح ہے یا پہلا فیصلہ صحیح تھا؟ایک دن میں اپنے گودام میں حساب کتاب کر رہا تھا۔

دیکھا ایک کتا اپنی پچھلی ٹانگیں گھسیٹ کر گودام میں گھس رہا تھا۔پہلے تو خیال گزرا کہ اسے بھگا دوں پھر سوچا،ایک تو یہ زخمی ہے دوسرا یہاں پناہ کی تلاش میں آیا ہے۔لہٰذا،اسے کچھ نہ کہا جائے۔پھر اچانک خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ رازق ہے تو دیکھیں اسے کیسے روزی دیتا ہے یا یہ بھوکا ہی مر جائے گا؟یہ سوچ کر میں ایک طرف بیٹھ گیا۔

جب ہلکا سا اندھیرا چھا گیا تو حیرت انگیز منظر میرے سامنے تھا۔ایک اور کتا منہ میں گوشت کا ٹکڑا دبائے آیا اور اسے کھلانے لگا۔میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔”سبحان تیری قدرت!“اور میں گھر چلا آیا۔اسی طرح وہ کتا کہیں سے کوئی نہ کوئی چیز لاتا رہا اور اسے کھلاتا رہا۔

 

اس کی ٹانگیں تو ٹھیک نہ ہو سکیں مگر زخم بھر گئے اور وہاں سے چلا گیا۔اس واقعے کا مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ اس کتے کو بغیر کسی محنت اور تلاش کے رزق دے سکتا ہے تو مجھے کیوں نہیں دے گا؟بس میں نے سارا کاروبار،جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کی اور اللہ تعالیٰ سے لو لگائی۔

پھر آپ دوبارہ کیوں دنیا داری کے بکھیڑوں میں پڑ گئے۔کیا آپ کا اللہ تعالیٰ پر یقین کامل نہیں رہا؟میں نے حیرانی سے پوچھا۔

حاجی صاحب ہنس پڑے۔”یہی واقعہ میں نے ایک محفل میں سنایا تو ایک شخص نے مجھے لاجواب کر دیا تھا کہ حاجی صاحب!آپ نے خود کو اس زخمی کتے سے تشبیہ دی کہ اسے رزق ملتا رہا تو آپ کو بھی ملے گا،مگر اس کتے سے کیوں تشبیہ نہیں دی جو اسے لا کر کھلاتا رہا؟یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

واقعی․․․․․میں نے زخمی کتے کا سوچا،اس کتے سے تشبیہ کیوں نہ دی جو اس کو ”وسیلہ“ بنا رہا۔

بس اسی دن میں نے اپنے بچوں سے چند لاکھ روپے لیے اور ایک کاٹیج انڈسٹری قائم کر دی۔اس وقت غریب بستیوں میں درجنوں سے اوپر کاٹیج انڈسٹریز قائم ہیں جن میں غریب عورتیں اور بچیاں کام کر رہی ہیں۔

وہ اپنا رزق بھی کما رہی ہیں اور ساتھ مجھے دعائیں بھی دے رہی ہیں۔میرے خیال میں یہ کسی بھی نفلی عبادت سے کہیں بہتر عبادت ہے۔میرے اس وسیلے سے تقریباً سات سو خاندان پل رہے ہیں۔“

یہ سننا تھا کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔واہ مولا!ایک شخص کے وسیلے سے سات سو خاندان پل رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے سرمایہ کاروں کو بھی ایسی نیکیاں کرنے کی توفیق دے،وہ بھی آخرت کا سوچیں اللہ تعالیٰ ہمیں کامل مسلمان بنائے۔آمین

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author