کوئی فرق نہ ہو بالکل ٹھیک پیمائش پر مشتمل تکون ہوں۔ اب ان چاروں کو ٹیپ یا گوند سے جوڑ لیں۔ ایک بات کا خیال رکھیں انکے چاروں کونوں کو کسی نہ کسی سمت میں ہونا چاہیے۔ ایک کونا مشرق میں ہو تو ایک مغرب میں آپ اس کے لیے قطب نما کی مدد لے سکتے ہیں۔ لیجیے ایک بڑا اہرام مصر نہ سہی، پر ایک چھوٹا اہرام مصر ضرور تیار ہے۔
یقین نہیں آ رہا چلیں کوئی بات نہیں دو گلاس دودھ کے لیں۔ ایک کو اپنے بنائے ہوئے اہرام کے نیچے رکھ دیں ایک ساتھ ہی کھلی فضا میں رکھ دیں۔ اب دیکھتے رہیں جیسے ہی باہر رکھا ہوا دودھ خراب ہوجائے تب اہرام کے نیچے والا گلاس اٹھا کر دودھ کو دیکھیں بالکل تروتازہ پائیں گے ہو وقت دھیما ہو جاتا ہے۔ اب بھی تجربات سے یقین نہیں آ رہا تو کوئی سبزی لیں اسکے ساتھ بھی تجربہ کریں اہرام والی سبزی اس وقت بھی تازہ ہوگی جب اہرام کے باہر رکھی سبزی خراب ہوچکی ہوگی۔ اس طرح آپ مختلف چیزیں اہرام کے نیچے رکھ کر تجربات کر سکتے ہیں۔
ٹھہریے آپ اپنے آپ کو تجربے کے لیے پیش کیوں نہیں کرتے۔ ہاں جی ایک بڑی اہرام نما عمارت بنائیں اسکے نیچے سو کر دیکھیں۔ آپ بے خوابی کے مریض تھے؟ سوتے ہوئے ڈراؤنے خواب آتے تھے؟ اپنی بڑھتی عمر سے پریشان ہیں؟ جلدی مرنا نہیں چاہتے؟ کچھ عرصہ اہرام کے نیچے سونے کے بعد آپ خود کو ان تمام بیماریوں سے دور جاتا ہوا محسوس کریں گ
ے۔ کے لیے ٹال تو سکتا ہے۔ جی ہاں تین سائنسدانوں نے اہرام کے نیچے سو کر زندگی گزاری سب کی موت اسی سال کی عمر کے بعد ہوئی اور تندرستی میں ہوئی اور طبعی موت ہوئی۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے مصر کا حسن دنیا بھر میں مشہور ہو اور اہرام میں عورتوں کے لیے کوئی خاص بات نہ ہو؟اہرام کے نیچے پندرہ بیس دنوں کے لیے پانی رکھ دی۔ اب پانی اٹھا کر چہرے کا ہلکا سا مساج کریں۔ آپ کا چہرہ دمک اٹھے گا داغ چھائیاں دور ہوجائیں گی اور میک اپ پر رقم ضائع کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مرد حضرات بھی اس آفر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں آخر ہمیں بھی تو سجنے سنورنے کا حق ہے۔
Ahram E Misar in Urdu
اب آجاتے ہیں اس عمارت کی بناؤٹ پر
بناؤٹ میں ریاضی کا ایسا بہترین استعمال کیا گیا ہے کہ ریاضی کے اصولوں کو دیکھ کر جدید سائنس بھی ششدر رہ جاتی ہے اور سائنسدانوں کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔
آج کے ایک سپر کمپیوٹر کو جب ایک اہرام کا ڈیزائن تیار کرنے کا کام دیا گیا تو اہرام کا ڈیزائن اور استعمال کیے گئے ریاضی کے اصول اتنے پیچیدہ تھے کہ سپر کمپیوٹر کو صرف ڈیزائن بناتے ہوئے ایک ہزار (1000) گھنٹے لگ گئے
سینکڑوں ٹن وزنی پتھروں کو اس مہارت سے ایک دوسرے کے اوپر رکھا گیا ہے کہ ان کا درمیانی فاصلہ ایک انچ کے پچاسویں حصے کے برابر ہے۔ تصور کریں سینکڑوں ٹن وزنی پتھر اور جوڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ بھی نہیں کہ ایک سوئی اندر جا سکے۔ ہے نہ مہارت کا منہ ب
ولتا ثبوت؟ فوراً آجاتا ہے۔ لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ یہ اہرام پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جی ہاں چین سے لے کر شمالی امریکہ تک اور حتی کہ سمندروں میں بھی کئی عمارتیں اہراموں کی شکل میں ملی ہیں۔ خود مصر میں سو سے اوپر اہرام موجود ہیں لیکن مصر میں قاہرہ سے باہر غزہ کے مقام پر 3 اہراموں کا گروپ خوفو، خافرہ اور مینکاؤرا دُنیا کے عجائبات میں پہلے نمبر پر ہے۔
Ahram E Misar in Urdu
غزہ میں سب سے بڑا ہرم خوفو یا چیوپس ان میں سب سے بڑا ہے۔ جو 13 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ جو کہ سولہ فٹبال گراؤنڈز جتنا ہے۔
اس کی ابتداء میں بلندی 482 فٹ تھی جو ایک منزل گرنے سے اب اندازاً 450 فٹ رہ گئی ہے۔ اس کی چوڑائی 755 مربع فٹ ہے اور اس کی تعمیر میں 2500000 چونے کے پتھر کے بلاک استعمال کیے گئے جن میں ہر پتھر کا وزن 2.5 ٹن سے لے 300 ٹن تک جا پہنچتا ہے۔ ان کی تاریخ تکمیل اندازاً 2600 سے 3000 قبل مسیح کی بیان کی جاتی ہے۔
اہرام مصر کی بنیاد چوکور ہے لیکن ان کے پہلو تکون نما ہیں۔ یہ تکونیں اُوپر جاکر ایک نکتے پر مل جاتی ہیں۔ ہر زاویہ بالکل سیدھ میں موجود ہے۔ ایک دیوار شمال کی طرف بالکل عمود میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خوفو کا اہرام بیس سال کے قلیل عرصے میں تیار ہوا۔ اسکی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھروں کو اہرام سے آٹھ سو کلومیٹر دور موجود شہر اسوان سے لایا جاتا۔
ہر فرعون مصر اپنے لیے الگ اہرام تعمیر کراتا اور اسکی لاش کو مرنے کے بعد حنوط شدہ ممی بنا کر اہرام کے وسط میں لیکن نچلے حصے میں رکھ دیا جاتا اور اسکا خزانہ بھی ساتھ رکھا جاتا تاکہ آئندہ جنم کی صورت میں بندہ گھاٹے میں نہ رہے۔
اگر خوفو کے اہرام کو تیس سینٹی میٹر کی چوڑائی میں کاٹا جائے تو پورے فرانس کے چاروں طرف ایک میٹر اونچی دیوار بنائی جا سکتی ہے۔ ان اہراموں کی سب خاص بات یہ ہے کہ انکا درجہ حرارت ہمیشہ زمین کے اوسط درجہ حرارت کے برابر رہتا ہے یعنی بیس(20) ڈگری سیلسئیس باہر چاہے آندھی ہو بارش ہو گرمی ہو سردی اندر کا موسم مستقل رہتا ہے۔ 3800 سال تک اس کے سر دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت کا تاج سجا رہا جو لنکن کیتھیڈرل نے توڑا جس کی بلندی 160 میٹر ہے۔
اہرام کے بارے میں سب سے پہلا ذکر ہمیں یونانی تاریخ دان ہیروڈوٹس کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ جس نے تقریباً 450 برس قبل مسیح میں مصر میں قدم رکھے اور وہاں کے لوگوں کو بطور گائیڈ ساتھ لے کر اہراموں کا معائنہ کیا اور گائیڈز کے علم کے مطابق ہی اسنے اپنی کتاب لکھی۔
لیکن ایک بات یاد رکھیں مصری گائیڈ انتہا کے جھوٹے ہوتے ہیں۔ اور ہیروڈوٹس خود بھی دروغ گوئی سے پاک نہیں تھا۔ بلکہ اکثر تحاریر میں دلچسپی کے لیے جھوٹ گھڑتا تھا۔ اس کے مطابق یہ تمام اہرام مصریوں نے بنائے تھے۔ اس کے علم کا ماخذ یا تو وہ مقامی گائیڈز تھے یا پھر وہ بھونڈی پینٹنگز جو اہراموں کی دیوار پر بنائی گئی تھیں
۔
You must be logged in to post a comment.