برطانیہ کے بیشتر حصوں میں ہفتوں تک جاری رہنے والے گرم اور خشک حالات کے بعد انگلینڈ کے کچھ حصوں میں خشک سالی کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ ایسے میں یہ لگتا ہے کہ ہمیں صرف اچھی بارش کی ضرورت ہے۔
لیکن رواں ہفتے محکمہ موسمیات کی جانب سے بجلی اور گرج کے ساتھ موسلادھار بارش کی پیش گوئی بھلائی کے بجائے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
ایسے میں سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ یہ بارشیں اچانک سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں اور اس سے خشک مٹی کے معمور ہونے کا امکان نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ موسلا دھار بارش کی ہماری خشک زمین کو اس وقت ضرورت نہیں ہے۔
اچانک سیلاب
رواں سال موسم گرما میں گرمی کی دو لہروں اور ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے اوپر یہ ہوا کہ برطانیہ کے کئی حصوں میں اوسط سے بھی بہت کم بارش ہوئی۔
یو کے سینٹر فار ہائیڈرولوجی اینڈ ایکولوجی کا کہنا ہے کہ اس سے مٹی مؤثر طریقے سے پک گئی اور اس کی وجہ سے وہ بہت کم نمی کے ساتھ خشک اور سخت ہو کر رہ گئی۔
اگر بارش زیادہ مقدار میں اور تیز رفتاری سے ہوتی ہے، جیسا کہ گرج چمک کے ساتھ ہوتا ہے، تو مٹی نمی کو جذب نہیں کر سکتی۔ اس کے بجائے بارش کا پانی سطح پر جمع ہوتا جاتا ہے ہور ڈھلوان سطحوں پر آکر پانی تیزی سے بہہ جاتا ہے، جس سے سیلاب آجاتا ہے۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ میں ماہر موسمیات ڈاکٹر راب تھامسن نے BBC نیوز کو بتایا کہ اس کا اثر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کنکریٹ پر تیز رفتاری سے پانی ڈالنے کا اثر ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: 'ہمارے باغات، پارک اور کھیتوں کی زمینیں اب ممکنہ طور پر اتنی ہی خشک ہیں جتنی کہ ٹارمیک اور کنکریٹ ہوتے ہیں۔ وہ علاقے جو ٹارمیک نہیں ہیں وہ بارش ہونے پر ٹارمیک کی طرح ہی برتاؤ کریں گے۔'
یونیورسٹی آف لنکاسٹر میں مٹی کے سائنسدان پروفیسر جان کوئنٹن بتاتے ہیں کہ خشک سالی کا زمین پر سب سے بڑا اثر ہائیڈرو فوبیسٹی کہلاتا ہے۔
جب پانی واٹر پروف تہہ سے ٹکراتا ہے، تو وہ اسے پیچھے دھکیلتا ہے اور یہ بوند یا قطرے بناتا ہے جو بالآخر بہہ جاتا ہے۔
اسی طرح کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب مٹی میں موجود نامیاتی مادّہ خشک ہو جاتا ہے، جس سے مواد کی ایک تہہ بنتی ہے جو پانی کو باہر رکھتی ہے۔
پروفیسر کوئنٹن کا کہنا ہے کہ 'پانی مٹی میں جانے کے بجائے، سطح پر رہ جاتا ہے۔'
یہ دیکھنا بھی مشکل نہیں ہے کہ کس طرح خشک سالی نے گھاس اور دیگر پودوں کو ختم کر دیا ہے، پارکوں اور کھیتوں کو پیلا کر دیا ہے۔
یہ عام طور پر ایک طرح سے مٹی پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے بھاری بارش سے بچاتے ہیں۔
پروفیسر کوئنٹن بتاتے ہیں کہ 'نباتات (گھاس پھوس، ہریالی) طوفانی بارش کے بڑے قطروں کو چھوٹے قطروں میں توڑ دیتی ہیں۔ اس تحفظ کے بغیر، بڑے قطرے مٹی کی ساخت کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمین کے اندر کم پانی جذب ہوتا ہے۔'
You must be logged in to post a comment.