🕋 03 || معارف حرمین*
(✍ ترتیب : شعبہ بنات الخلیل)
*🕌 مسجد اجابة*
اجابہ کا مطلب ہے قبول ہونا، حضور اکرم ﷺ یہاں نماز پڑھی تھی اور امت کے لئے اس مسجد میں تین دعائیں فرمائیں۔
*☆ دعائیں*
1۔ اے اللہ میری امت پر ایسا کافر ظالم بادشاہ مسلط نہ فرما جو میری پوری امت کو ختم کردے، اللہ تعالٰی نے یہ دعا قبول فرمائی!
2۔ میری امت پر کوئی ایسی بیماری وغیرہ نہ آئے جسکی وجہ سے میری پوری امت ہلاک ہو جائے، اللہ تعالٰی نے یہ دعا بھی قبول فرمائی!
3۔ میری امت میں آپس میں اختلاف نہ ہو، لڑائی جھگڑا نہ ہو، اس دعا کو اللہ تعالٰی نے منع فرما دیا!
لہذا مسجد کو مسجد اجابہ کہا جاتا ہے، پرانا نام اس کا *مسجد بنو معاویہ* ہے۔
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا مکان بھی یہیں تھا جن کے انتقال پر عرش عظیم بھی ہل گیا تھا اور حضور اکرم ﷺ ان کے جنازے میں پنجوں کے بل چل رہے تھے صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کیسے چل رہے ہیں؟ فرمایا کہ 70 ہزار فرشتے آئے ہیں تو چلنے کی جگہ نہیں ہے!
*🕌 جنت البقیع*
جنت البقیع میں دس ہزار سے زیادہ صحابہ کرام، 90 ہزار کے قریب تابعین، 9 ازواج مطہرات، (2 مکہ میں ہیں) 4 بنات طیبات، ایک صاحبزادہ رسول حضرت ابراہیم اور 3 پھوپھیوں (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی قبور ہیں۔
فجر اور عصر کے بعد یہ زیارت کے لئے کھلتا ہے، جس قبر پر ایک پتھر ہے وہ مردوں کی ہیں اور جس پر دو پتھر ہے (ایک سر کی طرف اور ایک پیر کی طرف) وہ عورتوں کی ہیں یہ نشانی کے طور پر ہے۔
*🌴مدینہ کا پہلا مدرسہ اور دعوتی مرکز*
اس جگہ پر حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے مکہ سے مدینہ والوں کو دین سکھانے کے لئے بھیجا تھا، اس جگہ مسجد بنو ظفر بھی تھی، آپ ﷺ نے وہاں نماز بھی پڑھی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ قرآن پڑھو ! انہوں نے قرآن پڑھنا شروع کیا : *فکیف إذا جئنامن کل أمة بشهید*
جب اس آیت پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا *حسبك آلان* اتنا کافی ہے۔
اسعد بن ضرارہ رضی اللہ عنہ پہلے صحابی ہیں جن کا مدینہ میں انتقال ہوا، اس کو مسجد المائدہ، مسجد البغلة مسجد بنو ظفر بھی کہتے ہیں۔
*🌴 دار ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ*
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا مکان یہیں تھا، سیدھے ہاتھ پر دو کنویں تھے:
بصة الكبرى و بصة الصغرى
اب البیک والی بلڈنگ سے مشہور ہے، ایک بار آپ ﷺ جمعہ کے دن یہاں تشریف لائے، کنوئیں کے پانی سے سر مبارک دھویا، باقی پانی کنوئیں میں ڈالا تو کنوئیں کا پانی میٹھا ہوگیا تھا۔
یہاں موجود *مسجد خضرى* میں آپ نے نماز پڑھی۔
*🕌 مسجد غَمامة*
غمامہ کا مطلب ہے بادل، آپﷺ نے آخری 4 سال وہاں عید کی نماز پڑھائی۔
اس جگہ بارش کے لئے دعا فرمائی تو بادل نے آکر سایہ کرلیا، اس لئے اس کو مسجد غمامہ کہا جاتا ہے
مسجد غمامة بالکل حرم کے ساتھ ہے، نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ بھی حضور نے یہیں پڑھائی تھی۔
پوری زندگی میں دو نماز جنازہ غائبانہ حضور نے پڑھائیں، نجاشی اور معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ کی۔
*🌴 غائبانہ نماز جنازہ*
1۔ نجاشی کا نام اصحمہ تھا۔
2۔ معاویہ بن معاویہ المزنی رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ میں ہوا، آپ ﷺ تبوک میں تھے، مدینہ سے تقریبا 700 کلومیٹر دور، حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں؟ انہوں نے زمین پر اپنا پر مارا تو زمین بالکل فلیٹ ہوگئی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جنازہ دیکھا، ایک لاکھ چالیس ہزار فرشتے بھی ان کے جنازے میں شریک تھے، جبرئیل علیہ السلام نے جنازے کے بعد پوچھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ فضیلت ان کو کیوں حاصل ہوئی؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کیا بات ہے ؟ کہا کہ یہ *قل ھو اللہ احد* کثرت سے پڑھا کرتے
You must be logged in to post a comment.