*🕋
*🌴 حضور اکرم ﷺ کے سفر حج کا تذکرہ مبارک*
*حضور اکرم ﷺ کے بیانات و خطبات*
● حضرت ابو حُرّہ رقاشی رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایامِ تشریق کے درمیانی دنوں میں حضور اکرم ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑے ہوئے تھا اور لوگوں کو آپ سے ہٹا رہا تھا، تو آپ نے فرمایا :
📗 *١٥- دین کی نسبت سے ہر چیز ہر دور میں قابل احترام ہے!*
اے لوگو ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا مہینہ ہے، کون سا دن ہے اور کون سا شہر ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ دن بھی قابلِ احترام ہے اور مہینہ بھی قابلِ احترام ہے اور شہر بھی، آپ نے فرمایا :
بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لئے ایسے ہی قابلِ احترام ہیں جیسے یہ دن، یہ مہینہ اور شہر قابلِ احترام ہے، اور یہ حکم ﷲ سے ملا قات تک کے لئے ہے یعنی زندگی بھر کے لئے ہے۔
📗 *١٦- معاشرتی زیادتیوں سے اجتناب کی تلقین*
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میری بات سنو تو زندہ رہو گے!
خبردار! ظلم نہ کرنا!
خبردار! ظلم نہ کرنا!
خبردار! ظلم نہ کرنا!
کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا جائز نہیں ہے۔ غور سے سنو! زمانۂ جاہلیت کا ہر خون، ہر مال اور قابلِ فخر کام میرے اس قدم کے نیچے قیامت تک کے لئے رکھا ہوا ہے، یعنی ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا ہے، اور سب سے پہلے ربیعہ بن حارث بن عبد المطّلب کا خون ختم کیا جاتا ہے جو بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا اور قبیلہ ہذیل نے اسے قتل کر دیا تھا!
*📌 غور سے سنو !*
زمانہ جاہلیت کا ہر سود ختم کیا جاتا ہے اور ﷲ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سب سے پہلے حضرت عباس بن عبدالمطّلب کا سود ختم کیا جائے، تمہیں تمہارا اصل سرمایہ مل جائے گا، نہ تم کسی پر ظلم کرو گے، نہ کوئی تم پر ظلم کرے گا۔
*📌 غور سے سنو!*
جس دن ﷲ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا تھا اس دن والی حالت پر زمانہ گھوم کر پھر آگیا ہے۔
آپ نے یہ آیت پڑھی:
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَا اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ○ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ¤ لا فَلاَ تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ
یعنی یقینا شمار مہینوں کا (جو کتابِ الٰہی میں) ﷲ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینے (قمری) ہیں جس روز ﷲ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے تھے (اسی روز سے، اور) ان میں چار خاص مہینے ادب کے ہیں یہی (امرِ مذکور) دینِ مستقیم ہے، سو تم ان سب مہینوں کے بارے میں (دین کے خلا ف کرکے) اپنا نقصان مت کرنا۔
*📌 توجہ سے سنو!*
میرے بعد تم کافر نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن اُڑانے لگو۔
*📌 غور سے سنو!*
شیطان اس بات سے نااُمید ہو گیا ہے کہ نمازی لوگ یعنی مسلمان اس کی عبادت کریں، البتہ وہ تمہیں آپس میں لڑانے کی کو شش میں لگا رہتا ہے۔
📗 *١٧- خواتین کی اہم ذمہ داری*
اور عورتوں کے بارے میں ﷲ سے ڈرو، کیونکہ وہ عورتیں تمہارے پاس قیدی ہیں کیونکہ انہیں اپنی ذات کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے، اُن کے بھی تمہارے اوپر حق ہیں اور تمہارے بھی اُن کے اوپر حق ہیں، اور ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ وہ تمہارے علاوہ کسی کو بھی تمہارے بستر پر آنے نہ دیں اور جس کا آنا تمھیں برا لگے اسے گھر میں آنے کی اجازت نہ دیں، اگر تمہیں ان کی نافرمانی کا ڈر ہو تو انہیں سمجھاؤ، وعظ نصیحت کرو اور بستروں پر انہیں تنہا چھوڑ دو اور انہیں اس طرح مارو کہ زیادہ تکلیف نہ ہو، اور دستور کے مطابق کھانا، کپڑا ان کا حق ہے، ﷲ کی امانت سے تم نے انہیں لیا ہے یعنی تم ان کے امین ہو مالک نہیں، اور ﷲ کے مقرر کردہ طریقہ سے یعنی نکاح کے ایجاب و قبول سے وہ تمہا رے لئے حلال ہوئی ہیں۔
*📌 غور سے سنو!*
جس کے پاس کوئی امانت ہے تو وہ اسے اس آدمی کو واپس کردے جس نے اس کے پاس امانت رکھوائی تھی۔
پھر آپ نے ہا تھ پھیلا کر فر مایا:
غور سے سنو! میں نے (ﷲ کا سارا دین) پہنچا دیا ہے۔
*📌 غور سے سنو!* میں نے پہنچا دیا ہے!
*📌 غور سے سنو!* میں نے پہنچا دیا ہے!
📗 *١٨- حاضرین، غائبین تک میری دعوت پہنچائیں!*
حاضرین اب غیر حاضر لوگوں تک پہنچائیں، کیونکہ بعض دفعہ جسے بات پہنچائی جاتی ہے وہ برا ہِ راست سننے والے سے زیادہ نیک بخت ہوتا ہے۔
📗 *١٩- ختم نبوت اور امت محمدیہ کے آخری امت ہونے کا واضح اعلان*
● بزار میں حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی حدیث منقول ہے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*📌 توجہ سے سنو!*
تمہارے حاضرین غائبین تک پہنچائیں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی اُمّت نہیں ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اﷲ! تو گواہ ہوجا۔
*٢٠- فضیلت اور برتری کا معیار دینداری ہے، قومیت و مادّیت نہیں!*
● حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایامِ تشریق کے درمیانی دنوں میں حضور اکرم ﷺ نے ہم لوگوں میں الوداعی بیان فرمایا، ارشاد فرمایا :
اے لوگو! تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے (یعنی آدم علیہ السلام)
*📌 غور سے سنو !*
کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی سرخ انسان کو کالے پر اور کسی کالے کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں۔
ایک انسان کو دوسرے انسان پرصرف تقویٰ (دین داری) سے فضیلت ہو سکتی ہے۔
تم میں سے ﷲکے ہاں سب سے زیادہ شرافت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقو یٰ والا ہے۔
*📌 توجہ سے سنو!*
کیا میں نے (ﷲ کا دین سارا) پہنچا دیا ہے؟
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : بالکل یارسول ﷲ!
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب حاضرین غائبین تک پہنچائیں۔
*📌 جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم کاملین کی جماعت ہے!*
● حضرت حمید کہتے ہیں کہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ جب حدیث کے اس مضمون پر پہنچے تو فرمایا کہ ﷲ کی قسم! صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دین ایسے لوگوں کو پہنچایا جو دین کی وجہ سے بہت زیادہ نیک بخت ہوگئے۔ (حیاة الصحابة رضي الله عنهم)
You must be logged in to post a comment.