Story which is about relationship between God and man.

انت الحیات

تعجب تھا اپنے آپ پر اور ہونا بھی چائیے تھا وہ کہاں کھڑی تھی اور کیوں؟ ایسا کیا تھا  کہ چشم سے باراں برس پڑھی تھی ۔معلوم ہی نہ پڑا کب گام اس رخ چل پڑےاور جسم بے جان ہوگیا وہی گھٹنوں کے بل بیٹھے گئ اور باراں!۔۔ باراں متواتر برستی رہی۔ 

لب بستہ ! حال سے انجان ؛ دور جزیرہِ قلب ٹکڑوں میں بٹ کر مسمار ہو چکا تھا۔ زمستاں کی یخ بستہ ٹھنڈ اب کےاسے برفاب کر چکی تھی ۔آفت ذدہ ! پریشان حال بے سہارا بستیِ دل  کو یہ راہ کس نے اور کیونکر دکھلائی تھی! رات کے اس پہر کیا سوجھی جووہ اس رخ چل پڑی اس راستے پہ نکل پڑی۔ معلوم تک نہ تھا اس لحمہ میں وہ آواز دبائے پشیماں جبین لیے یہاں کیوں بیٹھی ہے اور ادھر کیسے آپہنچی ہے۔کب سفر طے کیا کچھ بھی تو نہیں پتہ تھا۔اپنی بے قدری پر ایسی ٹوٹی کہ یہاں آپہنچی چشم مسلسل اشک بہائے جاتی تھی۔کیسی امید جو بس اسی سے وابستہ تھی کسی اور سے نہیں کر سکتی تھی؛کیسا سکوں تھا اس کی قربت میں ! سفینہِ قلب کو ساحل تک پہنچانا تھا ۔ریزہ ہو کر جو مانند گرد کے بکھر چکی تھی ساری گرد لے کہ وہ اس مصور تک آ پہنچی تھی ۔وہ جانتی تھی بس یہی مصور اسے پھر سے ترتیب دے سکتا ہےوہ اس کے پاس تھی جو اسے خار سے نکال سکتا ہے ۔یہاں ایک لفظ تک نہ کہا لب ہلائے تک نہیں تھے باراں برستی رہی اور اس نے سب سن لیا تھا سمجھ لیا۔

اور یہی لحمہ تھا  کہ دل قوی ہو گیا آبر چھٹ گئے اور باراں تھم گئی ،گام مضبوط  ہوتے چلے گئے ، خار سب کے سب ہٹ گئے اور زخم! ۔۔زخم  مندمل ہونا شروع گئے زمیں پر بیٹھے  وہ برف مانند جم چکی تھی جما دینے والی ٹھنڈ جسم میں اب تک سریت کر چکی تھی باوجود اس کے اعضاء اپنے  منصب پہ لوٹ آئے تھے سکون قلب کی قوت میسر آچکی تھی اور امیہ بنت قیصر باغی کے حق میں دعا کر چکی تھی ۔

رات کا سناٹا متواتر چھایا رہا اس نے

مدھم سی روشنی میں خود کو نماز طہ کرتے پایا۔

امیہ بنت قیصر کی نظر میں انت الحیات اس کی خدا سے محبت تھی۔

"آنکھ آنسو بہاتی ہے دل غمگین ہے مگر ہم زبان سے وہی نکالیں گے جس سے خدا راضی رہی"

اِنّ كَفَئنكَ المُستَهزِءِئنَ

یقین رکھو کہ ہم تمہاری طرف سے ان لوگوں سے نمٹنے کیلئے کافی ہیں جو تمہارا مذاق اڑاتے ہیں

امیہ بنت قیصر اپنا معاملہ خدا کے سپرد کر کے اب بستر کی آور بڑھ گئ۔

ہر حال میں بھروسہ صرف اللہ کی ذات پہ ہونا چائیے۔اسکے در کے علاوہ کوئی در نہیں جو ہمیں قبول کرے گا اس کے علاوہ کوئی نہیں جو ہماری ہر بات سنتا ہے سب ایک نہ ایک دن تھک جاتےہیں چھوڑ جاتے ہیں۔مگر خدا کی ذات کسی موڑ پر اکیلا نہیں چھوڑتی ہمیں سہارا دیتی حوصلہ دیتی ہے۔مشکل وقت میں ہماری مدد کرنی والی ذات اسی کی ہے ۔کتنے بھی گناہ ہوں ایک توبہ پہ وہ ماں جاتا ہے ۔تم اپنا تعلق اللہ سے مضبوط کرو کہ تمہارے لیے اللہ کی محبت انت الحیات  بن جائے

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author