- حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کے بعد یزید بن عبدالملک تخت نشین ہوۓ ۔ یزید بن عبدالملک سے بیعت اس دن لی گئی جس دن چچا سید نا عمر بن عبدالعزیز کی وفات ہوئی ۔ اس لئے کہ انہیں سلیمان نے عمر بن عبدالعزیز کے بعد ولی عہد مقرر کر دیا تھا ۔ یزید بن عبدالملک کو جب حاکم بنایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ سید نا عمر بن عبدالعزیز کے سیرت و کردار کے مطابق اپنی زندگی کو بسر کرو۔ چنانچہ تمام لوگوں نے چالیس دن تک اسی طرح زندگی گزار دی ۔ کچھ دن کے بعد دمشق سے چالیس بوڑھے آۓ ۔ انہوں نے یزید بن عبدالملک سے یہ حلف لیا کہ خلفاء کے ذمے نہ تو کسی قسم کا حساب ہے اور نہ آخرت کا حساب ہے ۔ چنانچہ یزید ان جاہل شامیوں کے جال میں پھنس گئے ۔ یزید بن عبدالملک سفید رنگ کے تندرست و توانا آدمی تھے ۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ یہی وہ یزید میں جوفسق و فجور کے ساتھ مشہور ہوئے حالانکہ یہ غلط ہے بلکہ فاسق تو ان کا بیٹا ولید تھا جس کا عنقریب ذکر آئے گا ۔ حافظ ابن عسا کر کہتے ہیں کہ یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی سلیمان کے دور خلافت میں ایک لونڈی جس کا نام’’ حبابۃ‘‘ تھا عثمان بن سہل بن سہل سے چار ہزار دینار کے عوض خریدی تھی ۔ یزید بن عبدالملک اس لونڈی سے بہت پیار کرتا تھا ۔ چنانچہ اس کی خبر ان کے بھائی سلیمان کو ملی تو اس نے اس خوف سے لونڈی کو فروخت کر دیا ۔ چنانچہ جب یزید بن عبدالملک کو حکمران بنایا گیا تو ایک دن ان کی بیوی نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین کیا آپ کے اندر اب بھی کسی چیز کی خواہش ہے؟ یزید نے کہا ہاں ہے بیوی نے کہا وہ کیا ہے بتایئے ؟ یزید نے کہا’’ وہ حبابہ باندی ہے جسے میں نے خریدا تھا ۔ پھر بھائی کے خوف کی وجہ سے بعد میں فروخت کر دیا تھا۔ چنانچہ ان دنوں یزید بن عبدالملک کی بیوی نے اس باندی کو خرید کر پوشیدہ رکھا ہوا تھا۔ اس وقت ایک پردہ کے پیچھے ان کی بیوی نے لونڈی کو بناؤ سنگھار کے ساتھ بٹھا رکھا تھا ۔ پھر تھوڑی دیر بعد ان کی بیوی نے وہی سوال کیا کہ کیا اب بھی آپ کسی چیز کے خواہش مند ہیں ۔ یزید نے جواب دیا کہ ہاں حیا بہ لونڈی کی محبت میرے دل
- میں موجود ہے ۔ اس سے پہلے بھی میں نے تمہارے سامنے اس کا ذکر کیا تھا ۔ چنانچہ ان کی بیوی نے پردہ اٹھا کر کہا یہ ہیں ’’حباہ‘۔ چنانچہ اس لونڈی کو ان کی بیوی یزید کے پاس چھوڑ کر چلی گئی ۔ چنانچہ یزید اس باندی سے لطف اٹھانے لگے یہاں تک کہ وہ لونڈی ان کی عقل پر غالب آ گئی جس کی وجہ سے مز ید خلافت میں تا دیر نہ رہ سکے ۔
- ایک دن یزید نے کہا کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بادشاہ زمانے کا ایک پورا دن عیش وعشرت میں نہیں گزار سکتے ۔ میں ان کے اس قول کو جھوٹا ثابت کر کے دکھاؤں گا ۔ پھر وہ عیش وعشرت اور لذتوں میں مصروف ہو گئے اور’’ حباب کے ساتھ خلوت کی زندگی گزارنے لگے اور اس کے درمیان حائل ہونے والی تمام چیزوں پر پابندی لگا دی۔ یزید بن عبدالملک اسی طرح عیش و آرام میں مصروف تھے کہ اچانک ایک دن حبابہ نے انار کا دانہ کھایا اور دانہ کھاتے ہننے لگی ۔اتنے میں وہ دانہ گلے میں اٹک گیا اور ’’ حبابہ کی موت واقع ہوگئی ۔’’ حبابہ کی موت سے یزید کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا اور اس کی عقل ماؤف ہوگئی ۔ عیش و آرام ختم ہو گیا۔ خلافت کا نشہ جا تا رہا۔ یزید پر ایسا وجد طاری ہوا کہ ’’ حباب‘‘ کو چند دن تک دفن کرنے نہیں دیا ۔ یزید ’’حباب‘‘ کو چومتا چوستا رہا یہاں تک کہ اس کی لاش سے بد بو آنے لگی پھر اس کے بعد اسے دفن کرنے کا حکم دیا ۔ پھر اس کو قبر سے نکال لیا پھر اس کے بعد یزید 15 دن سے زیادہ زندہ نہ رہا۔ چنانچہ یزید’’سل‘‘ کی پیاری میں مبتلا ہو گیا ۔
You must be logged in to post a comment.