why. سعودی عرب: 19سالہ لڑکی کو بدترین تشدد اور اجتماعی زیادتی کے بعد دردناک طریقے سے قتل کر دیا گیا قتل ہونے

سعودی عرب: 19سالہ لڑکی کو بدترین تشدد اور اجتماعی زیادتی کے بعد دردناک طریقے سے قتل کر دیا گیا

قتل ہونے والی لڑکی کینسر کے مرض میں مبتلا تھی، مقتولہ کی ماں کا کہنا کہ مقامی پولیس قاتلوں کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہے جو کہ جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہ19سالہ لڑکی کو بدترین تشدد اور اجتماعی زیادتی کے بعد دردناک طریقے سے قتل کر دیا گیا۔ قتل ہونے والی لڑکی کینسر کے مرض میں مبتلا تھی، مقتولہ کی ماں کا کہنا کہ مقامی پولیس قاتلوں کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہے جو کہ جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک 19 سالہ لڑکی کو اغواء کے بعد بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، درندہ صفت ملزمان نے تشدد کے بعد بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔

مقتولہ کا نام لطیفہ محمد العنزی ہے۔ مقتولہ کے غمزدہ خاندان نے رواں ماہ کے شروع میں بچی کے لاپتہ ہو جانے کے بعد عوام سے اسے ڈھونڈنے میں مدد کی درخواست کی تھی، بچی کینسر کے مرض میں مبتلا تھی اور شدید بیمار تھیگلف نیوز کے مطابق یہ تشویشناک واقعہ سعودی عرب کے شہر ہیل میں پیش آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہیل پولیس کو شمال مغربی سعودی عرب کے علاقے ہیل کے ایک روایتی مکان میں بلایا گیا جہاں 19 سالہ لطیفہ محمد العنزی مردہ حالت میں پائی گئیں، یہ بھی پتا چلا ہے کہ مکان ایک ملزم کی ملکیت ہے۔اس حوالے سے ہیل پولیس کے میڈیا ترجمان کیپٹن طارق النصر نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اہلکار، ایمبولینسز اور فرانزک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی جہاں خاتون کی خون میں لت پت لاش ملی، اس کے جسم پر زخموں کے نشانات بھی تھے۔ پولیس افسران نے جب لاپتہ بچی کی موت کی تصدیق کر دی تو اس کے فوراََ بعد مقتولہ کی والدہ کا سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان منظر عام پر آیا جس میں وہ شاہ سلمان بن عبد العزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور شہزادہ ہیل سے اپنی بیٹی کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی اپیل کرتی نظر آئیں۔شدید صدمے سے دوچار مقتولہ کی والدہ کا ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ میں ہیل میں اغواء کے بعد قتل ہونے والی بچی کی ماں ہوں، اور میں شاہ سلمان بن عبد العزیز، ولی عہد اور شہزادہ ہیل سے درخواست کرتی ہوں کہ قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ میری بیٹی کو اغواء کیا گیا، پھر اس کو عصمت دری کے بعد قتل کیا گیا۔ انہوں نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی پولیس قاتلوں کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہے اور اس گھناؤنے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہےسعودی عرب: 19سالہ لڑکی کو بدترین تشدد اور اجتماعی زیادتی کے بعد دردناک طریقے سے قتل کر دیا گیا

قتل ہونے والی لڑکی کینسر کے مرض میں مبتلا تھی، مقتولہ کی ماں کا کہنا کہ مقامی پولیس قاتلوں کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہے جو کہ جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔۔ے

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author