How You visite here for coins ??

হ্যাঁ,  .  আমার বাংলার ভাইয়েরা,  .  তাই আমি এই নিবন্ধটি আপনার ভাষায় লিখছি, কেন আপনি বেশিরভাগ পয়েন্ট পেতে এখানে আসছেন। আপনাকে এটি পড়তে হবে। আমি জানি আপনি যেতে তাড়াহুড়ো করছেন, তবে অপেক্ষা করবেন না। আমি আপনাকে এখানে আনতে বাধ্য হচ্ছি না। আপনিই একমাত্র লাইক ফর লাইক, আর কেউ না, বাকি সবাই খুব ব্যস্ত, আমি শুধু চাই আপনি খুব আরামে এই লেখাটি পড়ুন এবং এতে আমার অনেক উপকার হবে।বং এতে আমার অনেক

چلو اب امید کرتا ہوں آپکو اردو سمجھ آتی ہوگی اگر آتی ہے تو پھر میں اپنا لکھا ہوا پھر سے کہنے لگا ہوں امید کروں گا اپ ضرور سمجھو گے ۔۔۔۔۔۔

لفظ لفظ لفظ بس یہ پورے اب کرنے کے چکروں میں ہوں جو میں نے کہنا ہے کب کا بول دیا ہے ۔۔۔

میری عاشقی اب تم ہی میرا درد بھی میری عاشقی اب تم ہی ہو ۔۔۔

اک بات کہوں کیا اجازت ہے تیرے عشق کی مجھ کو عادت ہے مجھے ملتا سکوں تیری باہوں میں جنّت جیسی اک راحت ہے 

کیوں سب سے الگ کیوں سب سے جدا انداز تیرے لگتے 

بے ساختہ ہم ساے سے تیرے ہر روز لپٹتے ہیں 

یہ دو گانے میرے پسنددیدہ ہیں بس میں آرٹیکل کے لفظ پورے کرنے کے لئے بونگی مار رہا ہوں یہ اتنے کوئی کمینے لوگ ہے کہتے ہیں صرف وزٹ پہ پیسا نہیں ملے گا کوئی سارا ریڈ کرے تب ہی کچھ ملے گا اب کون اتنا پاگل ہے جو اتنی لمبی بونگی کو پڑھنا چاہے گا بس فضول میں پھودو لگا رہے ہیں یہ لوگ خود تو کما رہے ہیں باقی لوگوں کو تنگ کر رہے ہیں 

مجھے لگتا ہے اگر یہ باتیں ان گوروں کو سمجھ آگئی تو میں تو سیدھا بلاک 

چلو پھر جو ہوا دیکھا جائے گا یہ تحریر تو میں ضرور پوسٹ کروں گا 

پتا نہیں پاکستانی اسے پڑھ سکیں گے کہ نہیں پر انڈیا والے تو انکے بہنوئی ہیں وہ ضرور پڑھ لیں گے چلو اب میری بونگی بہت ہوگئی ہے 

اب میں کچھ کاپی کر کر کے لاتا ہوں میں تو لکھ لکھ کے تھک گیا ہوں 

پانچ سو لفظ سالے پورے نہیں ہو رہے 

غریب لوگوں کو بس تنگ ہی کر رہے ہیں یہ 

کوئی نہ کوئی حل انکا نکل ہی آنا ہے 

ایک گانا یاد آگیا ہے 

سناؤ 

تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضرور تھا ضروری تھا کے ہم دونوں توافے آرزو کرتے 

یہ لو میری تو اردو بھی خراب ہے میں خاک لکھوں گا آرٹیکل ہاہاہاہا بہت مشکل کام ہے یہ بابا پر یہ لوگ اگر کوئی چوٹی کا لکھاری ڈھونڈ رہیں ہیں تو ایک دن یہ میرے پاس پہنچے گے ضرور 

چلو اب کچھ کاپی کر لیا جائے  

‏کہیں میں احمق تو نہیں ۔۔

 

میں چوکیدار کو 1450 روپے تنخواہ دیتا ہوں، اپنی صحت پر 13 روپے  اور تعلیم پر 75 روپے خرچ کرتا ہوں، باقی گھر کا گزارا قرض لے کرہوتا ہے

 چوکیدار مجھے ہر وقت ڈرا کررکھتا ہے، کہتا ہے ہمسایوں سے مجھے بہت خطرہ ہے، حالانکہ میرے پاس لٹنے کے لئے کچھ بھی نہیں،

‏‎المیہ یہ ہے کہ ہمارے لاکھ اعتراض کرنے کے باوجود ہمارے گھر کا سربراہ چوکیدار کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس کی ہر فرمائش پوری کرتا ہے۔ 

جب ہم سربراہ کو بدلتے ہیں تو آنے والا سربراہ وہ غلطیاں دہراتا ہے۔ گھر کا سربراہ اگر ڈٹ جاے تو چوکیدار کی کیا مجال لیکن افسوس۔۔۔۔۔

سربراہ خود غرض ہے۔😭

لو جی میری تحریر ختم 

اپکا بہت شکریہ اپ نے یہاں وقت برباد کیا 

واہ 

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author