کرونا وائرس کی منظر عام پر والی نئی قسم انتہائی 'باعثِ تشہیر'۔
اور ابتدائی شواہد کے مطابق اس کی نئی قسم میں خطرہ دوسری قسم سے زیادہ ہے۔
کرونا وائرس کی اس نئی قسم کو اومیکرون کا نام دے دیا گیا اور اس کے پہلے کیسز جنوبی افریقہ میں موجود تھے۔
کرونا وائرس کی اس نئی قسم کے سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ کوششیں جاری ہیں کہ کوڈ 19 کے خلاف ناکامی ثابت ہو سکتی ہے اور اگر اس نئی قسم سے متعلق باتوں سے متعلق بات کرنے والوں کو درست کہا جائے تو دنیا بھر میں کرونا کی ایک نئی لہر آ پارٹنر
کرونا کی اس نئی قسم کی اہم بات یہ ہے کہ اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے میں بہت زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں۔
اسی وجہ سے ایک وائرس نے اس نئی قسم کے وائرس کو ہولناک قرار دے دیا تو ایک سچائی کا کہنا ہے کہ یہ اب تک سامنے آنے والے تمام وائرس سے ہونے والی بیماری ہے۔
ایسے میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ وائرس کی یہ نئی قسم کتنی تیز رفتار سے پھیل سکتی ہے اور اس میں کورونا کی ویکسین کے خلاف کتنی مدافعت موجود ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کورونا کی اس نئی قسم کا توڑ کیا ہے؟
اس نئی قسم کے بارے میں تمام تر خدشات کے باوجود ان سوالوں کے سب جواب اب تک سائنسدانوں کے پاس بھی نہیں۔
کورونا کی نئی قسم کیا ہے؟
اب تک کورونا وائرس کی مختلف اقسام سامنے آ چکی ہیں جنھیں عالمی ادارہ صحت ایلفا اور ڈیلٹا جیسے نام دے چکا ہے۔
کورونا کی اس نئی قسم کو اومیکرون کا نام دیا گیا ہے اور اس کا تکنیکی نام بی ڈاٹ ون ڈاٹ ون فائیو ٹو نائن ہے۔
نئی قسم میں مجموعی طور پر 50 جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جبکہ اس میں موجود مخصوص سپائک پروٹین، جس کو ویکسین نشانہ بناتی ہے، اس میں 30 جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں
اس کا وہ حصہ جو سب سے پہلے انسانی جسم پر اثرانداز ہوتا ہے اس کی سطح پر بھی 10 جینیاتی تبدیلیاں ہیں۔‘
اہم بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل کورونا کی نئی لہر کی وجہ بننے والی ڈیلٹا قسم میں ایسی صرف دو جینیاتی تبدیلیاں پائی گئی تھیں۔
ڈبل میوٹینٹ: انڈیا میں کورونا وائرس کی نئی قسم کتنی خطرناک ہے؟
انڈیا میں حاصل ہونے والے نمونوں میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم 'ڈبل میوٹینٹ' دریافت ہوئی ہے۔
اس میں وائرس کی دو الگ شکل کی قسمیں مل کر اسی وائرس کو تشکیل دیتی ہیں۔ سائنسدان یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ قسم زیادہ خطرناک ہے یا ویکسین اس پر کم اثر انداز ہوتی ہے۔
قسم ہے کیا؟
وائرس کی کسی بھی قسم کی طرح کورونا وائرس بھی ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کے ساتھ اپنی شکل تبدیل کرتا رہتا ہے۔
شکل میں اس تبدیلی کی کثیر تعداد غیر اہم ہوتی ہے اور وائرس کے رویے کو متاثر نہیں کرتی۔
لیکن بعض اوقات اس سے وائرس کے پروٹین کی شکل میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے جس کی مدد سے یہ انسانی خلیوں میں داخل ہوتا ہے۔
اس کے لیے وائرس کی مختلف قسمیں زیادہ ہوتی ہیں اور باآسانی ممکن۔
یہ قسمیں زیادہ مہلک بیماری سے بنتی ہیں یا ویکسین سے متاثر نہیں ہوتا۔
ویکسینز ہمیں نظام تنفس کی، جیسے سارس کو ٹو جو کوڈ 19 بہت سے والا وائرس ہے، محفوظ سے۔
ہمارے جسم میں کسین سے قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے اور اس وائرس کی اینٹی باڈیز آجاتی ہے۔
ویکسین کی بہترین قسم وہ جس میں وائرس کو 'غیر مؤثر کرنے والی اینٹی باڈیز' ہوتی ہے اس طرح انسانی جسم میں وائرس داخل نہیں ہوتا۔
You must be logged in to post a comment.