! اسلام علیکم
اقتباس عبید
میں اکثر یہ ہی کوشش کرتا ھوں کہ اپنے مضمون کو بالکل منفرد انداز میں لکھوں تاکہ پڑھنے والا بھی لطف اندوز ھو سکے ، اور ویب سائیٹ والوں کی بھی یہی خواہش ھوتی ھے کہ اپنا مضمون منفرد انداز میں لکھیں، اور کاپی پیسٹ نہ کریں ، بحر حال جتنا بھی منفرد بنایا جائے -الفاظ تو وہی لینے پڑیں گے جو زبان معاشرے میں سمجھی جا سکے ، ایک لکھاری صرف جملے اور فکرے ھی کسی حد تک تبدیل کر سکتا ھے، مشکل معاملات کو آسان فکروں میں بیان کرنا بڑی مہارت کا کام ھے، قاری حضرات آج میں اپنے ذاتی علمی معلومات کی بنا پر کچھ بتائوں گا ، جو قدرتی طور پر ایک انسان کے دل و دماغ میں اجاگر ھوتے ھیں ، حتیٰ الامکان یہ ھی کوشش کروں گا کہ اپنی سوچ کو سادے اور آ سان الفاظوں میں آ پ تک منتقل کر دوں، بحر کیف انسان جتنی بھی محنت کرے کچھ نہ کچھ غلطیاں رہ جاتی ھیں ، قاری حضرات زمینی سیارے کے اوپر تمام کائنات کے انسان چرند پرند دیگر اشیاء کو کشش ثقل نے اپنی طرف کھینچ کر رکھا ھوا ھے ، اگر زمین کی یہ کشش ثقل ختم ھو جائے تو شاید یہ دنیاں ھی منتشر یا ختم ھو جائے مگر بندوبست کرنے والی قدرت کی ذات نے سورج زمین دیگر تمام سیاروں کو ایک منصوبے اور مینجمنٹ کے تحت چلایا ھے ، اور ھمیں بھی عقلی شعور دے کر مینجمنٹ کرنے کی صلاحیتیں عطا کی ھیں ، جن سے ھمیں کام لینا ھو گا ، ھم اس قدرتی نعمت کو استعمال میں لا کر بہتر سے بہتر نظام زندگی تخلیق کر سکتے ھیں ، اگر ھم اس شعور کو استعمال میں نہیں لائیں گے تو یہ خود بخود لاشعور میں واپس چلا جائے گا، اور انسانیت سے حیوانیت میں داخل ھو جائے گا ، دنیاں پر جن ملکوں کی آ بادی ان کے وسائل سے زیادہ ھے ھمیں ان کو شعور دینا پڑے گا کہ ھمیں آ بادی بڑھانے سے زیادہ اپنے مادی وسائل بڑھانے اور ان کو مینجمنٹ کرنے کی ضرورت ھے ،اور اس کام کا یا سوچ کا تعلق کسی بھی مذہب کی توہین میں شامل نہیں ھے ، بلکہ اس ھستی کی پیروی ھو گی جس کی طرف سے یہ شعور انسانی عقل میں آ تا ھے کہ ھمیں اپنی آ بادی کو اپنے وسائل کے مطابق رکھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے ، تا کہ دنیاں پر امن محبت انصاف قائم ھو سکے ، اور دنیاں کے تمام تعلیم یافتہ افراد کو بذریعہ میڈیا اور بزریعہ کالم نگاری اپنا فریضہ سر انجام دینا چاہیے ، جو کہ دنیاوی مثالوں پر مبنی ھو مثال کے طور پر قدرت نے انسان کو خوراک کھانے والا جاندار بنایا ھے ، اگر اس کو خوراک نہ ملے تو چند دن میں مر جائے گا، اسی طرح ھر انسان کو ایک مقدار میں خوراک اور دیگر وسائل چاہیں جن کے بغیر زندگی بھت مشکل سے گزرتی ھے بلکہ تباہی اور وبائیں مقدر بن جاتی ھیں ، لحاظہ ھمیں چاھیے کہ قدرت نے جو ھمیں شعور کی نعمت دی ھے وہ یقینن دنیاوی مسائل کے حل کے لیے دی ھے نہ کہ تباہی بربادی اور جنگوں کے لیے ۔ میرا پیغام پڑھنے کا بھت شکریہ مجھے امید ھے کہ آ پ میرے پیغام کو فالو کریں گے اور دنیاں پر اچھے انداز میں پھیلانے میں دیر نہیں کریں گے ،دوبارہ شکریہ ♥️♥️
You must be logged in to post a comment.